مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے زیر اہتمام آن لائن دفاعِ حرمین کانفرنس اختتام پذیر

20 ستمبر, 2026

کٹھمنڈو / کیر خبر
مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے پلیٹ فارم سے 18 ستمبر 2026ء کو ’’آن لائن دفاعِ حرمین کانفرنس‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں ملک و بیرونِ ملک کے ممتاز علماء، اہلِ علم اور شعراء نے شرکت کی۔ کانفرنس کی نظامت فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر محمد اورنگزیب تیمی حفظہ اللہ، ناظمِ عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے فرمائی، جبکہ صدارت فضیلۃ الشیخ، استاذ الاساتذہ مولانا خورشید احمد سلفی حفظہ اللہ، شیخ الحدیث جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر، نیپال نے فرمائی۔
پروگرام کا آغاز حافظ عبدالعزیز عمری حفظہ اللہ کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد مولانا انصر نیپالی حفظہ اللہ، معروف شاعرِ نیپال، نے دفاعِ حرمین کے موضوع پر مختصر مگر جامع نظم پیش کی۔
بعد ازاں فضیلۃ الشیخ مولانا انظار الاسلام مدنی حفظہ اللہ، نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے تمام علماء، شعراء اور شرکائے کانفرنس کا خیرمقدم کیا۔
افتتاحی خطاب
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ مولانا پرویز یعقوب مدنی حفظہ اللہ، استاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر، نیپال نے افتتاحی خطاب پیش کیا۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں حرمین شریفین کی عظمت و فضیلت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجد حرام توحید کا مرکز اور پوری انسانیت کے لیے ہدایت و برکت کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے فرمایا:
﴿إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ﴾
﴿وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا﴾
مدینہ منورہ کی فضیلت کے ضمن میں حدیث:
«الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»
پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کا پیغام توحید، امن، اتحاد اور یکجہتی کا پیغام ہے اور یہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ دینی سرمایہ ہیں۔ آخر میں انہوں نے حرمین شریفین کی خدمت، حفاظت اور زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے مملکتِ سعودی عرب کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ مولانا نثار احمد مدنی حفظہ اللہ، شیخ الجامعہ جامعہ التوحید، ممبئی نے ’’روافض کی مختصر تاریخ اور دفاعِ حرمین‘‘ کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے روافض کے تاریخی پس منظر، مختلف شیعی فرقوں کے اعتقادی و تاریخی رجحانات اور اہلِ سنت والجماعت کے ساتھ ان کے اختلافات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زیدیہ، اسماعیلیہ اور صفوی دور کا مختصر تاریخی جائزہ بھی پیش کیا۔
انہوں نے ابو لؤلؤہ فیروز کے واقعے اور اس سے متعلق تاریخی روایت کا ذکر کیا اور مدینہ منورہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی حدیث:
«أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ كَالْكِيرِ تُخْرِجُ الْخَبِيثَ»
پیش کی۔ انہوں نے مسلمانوں کو تاریخ کے تجربات سے سبق حاصل کرنے اور حرمین شریفین کے تقدس و تحفظ کے حوالے سے بیدار رہنے کی تلقین کی۔
بعد ازاں فضیلۃ الشیخ عبدالمجید بھکرھوی حفظہ اللہ نے مکہ مکرمہ دفاعی معاہدے اور موجودہ علاقائی حالات پر مختصر گفتگو کی۔ انہوں نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ہونے والے دفاعی تعاون کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور حوثی جماعت کی سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو اتحاد، بیداری اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ مطیع اللہ اللہ حقیق اللہ مدنی حفظہ اللہ، سینئر استاد جامعہ اسلامیہ سنابل، نئی دہلی نے ’’دفاعِ حرمین ہمارا دینی و شرعی فریضہ‘‘ کے عنوان سے جامع خطاب فرمایا۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں حرمین شریفین کی عظمت و حرمت اور ان کے تحفظ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا کہ حرمین کی تعظیم و توقیر مسلمانوں کے ایمان کا اہم حصہ ہے۔
انہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں حرمین کے تقدس کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنے عقیدے، توحید اور حرمین شریفین کے ساتھ قلبی تعلق کو مضبوط رکھنا چاہیے۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ فیصل عزیز عمری مدنی حفظہ اللہ نے محبتِ حرمین اور ان کے دفاع کے موضوع پر گفتگو فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مسلمان کے دل میں حرمین شریفین کی گہری محبت و عقیدت ہے، اس لیے ان کے تحفظ کے ساتھ مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی و استحکام کی فکر بھی ضروری ہے۔
انہوں نے اصحابِ فیل اور قرامطہ کے واقعات کا مختصر تذکرہ کرتے ہوئے حرم مکی پر تاریخی حملوں کی سنگینی واضح کی اور موجودہ علاقائی حالات کی طرف بھی توجہ دلائی۔ آخر میں انہوں نے حرمین شریفین کی حفاظت اور مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے دعا، دعوت، قلم اور حکمت کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ مولانا ہارون تیمی مدنی حفظہ اللہ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں حرمین شریفین کی حرمت و عظمت پر گفتگو فرمائی۔ انہوں نے متعدد قرآنی آیات اور حدیثِ نبوی پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ حرمین شریفین مسلمانوں کے عظیم دینی مراکز اور امن و سلامتی کے مقامات ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حرمین کو سیاسی تنازعات اور مفادات کا مرکز نہیں بنانا چاہیے اور ان کی حفاظت کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے مختلف علاقوں اور مساجد کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے حرمین کے تقدس اور امن کے تحفظ پر زور دیا۔
اس کے بعد کانفرنس کے صدر فضیلۃ الشیخ، استاذ الاساتذہ مولانا خورشید احمد سلفی حفظہ اللہ کو صدارتی خطاب کے لیے دعوت دی گئی۔ علالت کے باوجود انہوں نے شرکت فرمائی اور جامع صدارتی خطاب پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز اللہ تعالیٰ کے فرمان:
﴿وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْنًا﴾
سے کیا اور علامہ اقبال کا شعر پیش کیا:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر
انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کے امیر، ناظم، تمام ذمہ داران اور منتظمین کو مبارک باد پیش کی اور تحفظِ حرمین اور بقائے امتِ اسلامیہ کو عصر حاضر کے اہم ترین مسائل میں شمار کیا۔
انہوں نے مختلف فتنوں اور حرمین کے خلاف خطرات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مسلمانوں میں دینی شعور اور عقیدے کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی ضمن میں انہوں نے علامہ شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا کہ دنیا میں مملکتِ سعودی عرب ہی وہ حکومت ہے جو اعلیٰ منہجِ نبوت اور منہجِ کتاب و سنت کو قائم کیے ہوئے ہے۔ آخر میں حرمین شریفین کی حفاظت، مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی اور امتِ اسلامیہ کے اتحاد کے لیے دعاؤں کی تلقین فرمائی۔
اس کے بعد بلبلِ نیپال، فضیلۃ الشیخ مولانا نسیم محمد یونس مدنی حفظہ اللہ، نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے مختصر خطاب فرمایا۔ انہوں نے حرمین شریفین کی خدمت کے لیے مملکتِ سعودی عرب کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حجاج، معتمرین اور زائرین کے لیے وسیع پیمانے پر فراہم کی جانے والی خدمات قابلِ قدر ہیں۔
انہوں نے دفاع و تحفظِ حرمین کو دینی، اخلاقی، انسانی اور مومنانہ فریضہ قرار دیتے ہوئے ہر مسلمان کو اپنی استطاعت کے مطابق اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کی دعوت دی۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ مولانا کلام الدین مدنی حفظہ اللہ، امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال نے خطاب فرمایا۔ یہ ان کی اس پروگرام میں پہلی شرکت تھی اور وہ آغاز سے اختتام تک کانفرنس میں موجود رہے۔ انہوں نے تمام علماء، مقررین، شعراء، منتظمین اور شرکائے کانفرنس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا اور دفاع و تحفظِ حرمین کے سلسلے میں اتحاد، یکجہتی اور باہمی تعاون پر زور دیا۔ انہوں نے اسے مسلمانوں کا دینی فریضہ قرار دیتے ہوئے اپنے عقیدہ و منہج پر ثابت قدم رہنے کے عزم کا اظہار کیا اور فرمایا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے آخری دم تک اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
آخر میں انہوں نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ قیامت تک حرمین شریفین کی حفاظت فرمائے، انہیں امن و سلامتی عطا فرمائے اور مملکتِ سعودی عرب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔
اس کے بعد فضیلۃ الشیخ اختر ریاضی حفظہ اللہ کو دفاعِ حرمین کے موضوع پر اشعار پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے اپنی خوبصورت اور مترنم آواز میں چند منتخب اشعار پیش کیے، جن سے شرکائے کانفرنس خوب محظوظ ہوئے۔ ان کا یہ مصرع خصوصی طور پر سامعین کو پسند آیا:
ہوا ابرہہ کا لشکر تباہ، حرم کا نگہبان ہے ربِ مبین

اس کے بعد فضیلۃ الشیخ مولانا حفیظ الرحمن مکی حفظہ اللہ، مقیم ریاض کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دفاعِ حرمین محض کسی جغرافیائی خطے کا موضوع نہیں بلکہ ہمارے ایمان و عقیدے سے متعلق اہم مسئلہ ہے۔
انہوں نے فرمایا کہ حرمین شریفین کی حرمت کسی قوم، نسل یا علاقے کی عطا کردہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمت ہے، اسی لیے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں ان کی عظمت و تقدس پایا جاتا ہے۔ انہوں نے حرمین کی حفاظت و سلامتی کے لیے دعاؤں، ان کے تقدس کے دفاع اور اسلام دشمن عناصر کے شر سے امت کو محفوظ رکھنے کی تلقین فرمائی۔
آخر میں حافظ شمشیر داؤد مدنی حفظہ اللہ نے دفاعِ حرمین کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حرمین شریفین پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایمانی حرارت اور روحانی روشنی فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حرمین کا دفاع دراصل توحید، صحیح عقیدہ اور سنتِ نبوی ﷺ کے تحفظ کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔
انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا:
﴿وَاجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعْبُدَ الْأَصْنَامَ﴾
پیش کرتے ہوئے عقیدۂ توحید، سنتِ نبوی ﷺ، دعوت و تربیت اور اولاد کی صحیح دینی تربیت کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت و حرمت دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں رچی بسی ہے، لہٰذا حرمین کی طرف کسی بھی قسم کی جارحیت یا بدامنی کی کوشش پوری امت کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔ آخر میں انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث نیپال کا شکریہ ادا کیا اور حرمین شریفین کی حفاظت و سلامتی کے لیے دعا فرمائی۔
اختتامیہ
اس طرح یہ اہم اور بابرکت کانفرنس حرمین شریفین کی عظمت، حرمت، تحفظ، توحید، سنت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کے عزم کی تجدید کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ شرکائے کانفرنس نے حرمین شریفین کی حفاظت و سلامتی اور مملکتِ سعودی عرب کے امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter