مکہ مکرمہ کی جانب مبینہ حوثی حملے پر مسلم دنیا کا سخت ردعمل، او آئی سی بھی برہم

16 ستمبر, 2026

مکہ مکرمہ- سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کی سمت آنے والے ایک ڈرون کو سعودی فضائی دفاعی نظام نے مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی مار گرایا۔ واقعے پر مسلم دنیا میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی مبینہ حملے کی سخت مذمت کی ہے۔
سعودی قیادت میں یمن کے خلاف قائم فوجی اتحاد کے ترجمان جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو منگل کی شام مکہ مکرمہ کے جنوب کی جانب روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے ڈرون کو ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔
واقعے کے بعد 57 مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مکہ مکرمہ کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ تنظیم نے مقدس شہر کے خلاف ایسے کسی بھی اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں کی بھی مذمت کی اور حوثیوں کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان جنرل ترکی المالکی نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی یہ دوسری کوشش ہے۔ ان کے مطابق اس سے قبل جولائی 2017 میں بھی حوثیوں نے مکہ مکرمہ کی سمت ایک بیلسٹک میزائل داغا تھا، تاہم سعودی قیادت والے اتحاد نے اس وقت بھی اسے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
مکہ مکرمہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے دنیا کا مقدس ترین شہر ہے اور ہر سال فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان اسی شہر کا رخ کرتے ہیں۔ مقدس سرزمین کی سلامتی اور حرمت پوری امت مسلمہ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
سعودی ترجمان جنرل ترکی المالکی نے واضح کیا کہ مکہ مکرمہ کی سلامتی سعودی عرب کے لیے ایسی ’ریڈ لائن‘ ہے جس پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ایران کے قریب سمجھے جانے والے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب کی سمت ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
حوثی گروپ طویل عرصے سے سعودی عرب کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بناتا رہا ہے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد بھی یمن میں حوثیوں کے خلاف طویل عرصے سے فوجی کارروائیاں کرتا آیا ہے۔ تازہ واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران مکہ مکرمہ سمیت مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے کو ایک بار پھر مرکزِ توجہ بنا دیا ہے۔مولانا مشہود خاں نیپالی

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter