اتحاد نے ریاض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو تباہ کر دیا

20 ستمبر, 2026
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی سپورٹ کے لیے قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سنیچر کو کہا ہے کہ ’ریاض کی جانب داغے جانے والے حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل کو انٹرسیپٹ کر کے تباہ کر دیا گیا۔‘
ترکی المالکی نے کہا ’یہ کارروائی رولز آف انگیجمنٹ کے مطابق کی گئی۔ میزائل کو کسی نقصان کے بغیر فضا میں تباہ کر دیا گیا۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اتحادی فورسز صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، شہریوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ، مملکت کی سکیورٹی کو درپیش خطرات سے نمنٹے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا ’فضائی دفاعی نظام نے بیش، طائف، فرسان اور ینبع میں بھی شہریوں اور سول انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حوثی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔‘
ترکی المالکی نے کہا 80 لاکھ سے زائد آبادی والے شہر ریاض میں شہریوں اور سول انفرا سٹرکچر کو نشانہ بنانے کی مسلسل کوشش حوثی ملیشیا کی ہٹ دھرمی اور شہری علاقوں کو دانستہ نشانہ بنانے کو ظاہر کرتی ہیں۔
اتحاد کی قیادت کو حوثیوں کے مزید حملے روکنے کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون اور اصولوں کے مطابق ہر وہ اقدام کرنے کا حق ہے جو وہ مناسب سمجھے۔
اس سے قبل سنیچر کی صبح سعودی سول ڈیفنس نے ریاض اور الخرج میں ممکنہ خطرے کے  دو الرٹ جاری کیے تاہم کچھ دیر بعد خطرہ ٹل جانے کا اعلان کیا گیا۔
یاد رہے یہ صورتحال مملکت کے خلاف ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے حملوں میں شدت آنے پر پیش آئی ہے۔
پہلا الرٹ سعودی وقت کے مطابق صبح دو بجکر 58 منٹ پر جاری کیا گیا۔عینی شاہدین نے ریاض میں کم از کم دو دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔ چند منٹ بعد خطرہ ٹل جانے کا اعلان جاری کیا گیا۔
 مملکت کے جنوب مغرب میں واقع جزائر فرسان میں بھی اسی طرح کا ایک الرٹ جاری کیا گیا اگرچہ اس خطرے کی نوعیت کے بارے میں فوری طور پر وضاحت نہیں کی گئی۔
 ریاض اور الخرج میں دوسرا الرٹ صبح 5 بجکر 19 منٹ پر جاری کیا گیا۔ سول ڈیفنس نے 10 منٹ کے بعد خطرہ ختم ہونے کا اعلان کیا۔
سول ڈیفنس نے جمعے کو بھی مملکت کے کئی علاقوں میں الرٹس جاری کیے تھے۔ ان میں مکہ ریجن میں جدہ اور طائف، عسیر ریجن میں خمیس مشیط اور مدینہ ریجن میں العلا شامل ہیں۔
 جمعرات کو طائف میں حوثی ڈرون کا ملبہ گرنے سے یمنی شہری ہلاک جبکہ ایک سعودی خاتون اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوا۔ کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
دو دن قبل سعودی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ سعودی فضائی دفاعی نظام نے مکہ مکرمہ کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایک حوثی باغیوں کے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا۔
سعودی حکام نے حملے کی کوشش کو کشیدگی میں ایک خطرناک اضافہ قرار دیا جبکہ حوثیوں نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter