سوئیڈن کا قرآنِ کریم اور دیگر مقدس صحیفوں کی بے حرمتی جرم قرار دینے پر غور

7 جولائی, 2023

سوئیڈن/ ايجنسى

قرآنِ کریم کی بے حرمتی کے واقعے کے خلاف عالمگیر سطح پر احتجاج کیے جانے کے بعد سوئیڈن نے قرآن کریم اور دیگر مقدس صحیفوں کی بے حرمتی کو جرم قرار دینے پر غور شروع کر دیا۔

سوئیڈن کے وزیرِ انصاف گونار اسٹرومر کے مطابق قرآنِ پاک کی بے حرمتی کے حالیہ واقعے نے سوئیڈن کی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سوئیڈن کی حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا وہ قرآنِ پاک یا دیگر مقدس کتابوں کی بے حرمتی کو غیر قانونی قرار دے سکتی ہے۔

قرآنِ کریم کی بے حرمتی پر دنیا بھر میں احتجاج

واضح رہے کہ پوری دنیا میں سوئیڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

پاکستان میں آج یومِ تقدیسِ قرآن

اس واقعے کے خلاف حکومتِ پاکستان کے اعلان پر پاکستان بھر میں آج یومِ تقدیسِ قرآن منایا جا رہا ہے۔

پاکستانى وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قوم سے نمازِ جمعہ کے بعد سوئیڈن میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے واقعے پر احتجاج کی اپیل کی ۔

انہوں نے کہا ہے کہ سانحۂ سوئیڈن پر پوری امتِ مسلمہ مضطرب ہے، قرآن ہمارے دل میں ہے، قرآن ہمارے لیے صرف قرأت نہیں بلکہ جینے کا قرینہ ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما، سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے سوئیڈن پر ایک یا دو ہفتے کی معاشی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کر دیا۔

سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف شہزاد وسیم کا کہنا ہے کہ ہولوکاسٹ سے متعلق قوانین بنے ہوئے ہیں، کیا مسلمانوں کے مذہبی جذبات کے لیے کوئی قانون نہیں؟

سابق وزیرِ اعظم و پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جو اسلام کا چہرہ مسخ کرنا چاہتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے کہا ہے کہ اس معاملے پر کوئی سیاست نہیں، پوری قوم ایک ہے۔

جماعتِ اسلامی کے رہنما و سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ سوئیڈن میں پیش آنے والا یہ سانحہ آزادیٔ اظہارِ رائے نہیں دہشت گردی ہے، یہ اسلامو فوبیا ہے۔

پاکستانى پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سوئیڈن کے واقعے کے خلاف متفقہ مذمتی قرار داد منظور کی گئی ہے۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter