دبئی کی روپوش شہزادی حیا بنت الحسین کون ہیں؟

5 جولائی, 2019

دبئی کے حکمران شیخ محمد المکتوم کی اہلیہ شہزادی حیا بنت الحسین نے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا ہے جو کہ متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے کسی سینیئر رکن کے لیے نہایت غیر معمولی بات ہے۔

اب کہا جا رہا ہے کہ شہزادی وسطی لندن میں ایک ٹاؤن ہاؤس میں روپوش ہیں۔

اولمپک گھڑ سوار ہونے اور گھوڑوں کی دوڑ کے عالمی مقابلوں میں باقاعدگی سے شریک ہونے کے باوجود وہ اس سال رائل ایسکاٹ گھڑ دوڑ کے موقع پر موجود نہیں تھیں جہاں ان کی غیر موجودگی کو محسوس کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ عدالتی جنگ کی تیاری کر رہی ہیں تو انھیں اپنی جان کا خوف لاحق ہے۔

پیدائش و پرورش
شہزادی حیا مئی 1974 میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد اردن کے بادشاہ حسین تھے اور ان کی والدہ ملکہ عالیہ الحسین تھیں اور وہ صرف تین سال کی تھیں جب ان کی والدہ ملک کے جنوب میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

اردن کے موجودہ بادشاہ عبداللہ دوئم ان کے سوتیلے بھائی ہیں۔

شہزادی حیا بچپن میں ایک طویل عرصہ برطانیہ میں رہ چکی ہیں۔ انھوں نے آکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاست، معاشیات اور فلسفے کی مشترکہ ڈگری (پی پی ای) حاصل کرنے سے قبل برسٹل کے بیڈمنٹن سکول اور ڈورسٹ کے برائنسٹن اسکول سے تعلیم حاصل کی۔

اس سے قبل وہ انٹرویوز میں بتا چکی ہیں کہ انھیں عقاب پالنے، نشانے بازی اور بھاری مشینری کا شوق ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اردن میں بھاری ٹرک چلانے کا لائسنس رکھنے والی واحد خاتون ہیں۔

انھوں نے نوجوانی میں گھڑ سواری شروع کی۔ جلد ہی اس کھیل میں ان کی گہری دلچسپی پیدا ہوگئی اور انھوں نے گھڑ سواری کو بطور پروفیشنل ایتھلیٹ اپنا لیا۔ گھڑ سواری کے ان کے کیریئر کا سب سے نمایاں لمحہ وہ تھا جب انھوں نے سنہ 2000 کے سڈنی اولمپکس میں اردن کی نمائندگی کی اور اپنے ملک کا پرچم تھاما۔
‘میری خوش قسمتی ہے کہ میں ان کے قریب ہوں’
10 اپریل 2004 کو 30 سال کی عمر میں حیا کی شادی شیخ محمد سے ہوئی جو کہ متحدہ عرب امارات کے وزیرِ اعظم اور نائب صدر اور دبئی کے حکمران ہیں۔ اس وقت وہ 53 سال کے تھے اور شہزادی حیا ان کی چھٹی اہلیہ تھیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان کے مختلف بیویوں سے 23 بچے ہیں۔
حیا کی طرح شیخ محمد بھی گھوڑوں کے شوقین ہیں۔ وہ گوڈولفن نامی گھڑ دوڑ کے اصطبل کے بانی اور مالک ہیں۔ اس جوڑے کی شادی عمان میں ہوئی۔ اس کے بعد کے سالوں میں شہزادی حیا نے شیخ محمد کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں عوامی طور پر نہایت جذباتی انداز میں بات کرتے ہوئے ایک مثالی خاندان کی منظر کشی کی ہے۔
انھوں نے 2016 میں ایمیریٹس ویمن میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘میں ہر روز ان کے کاموں سے حیرت زدہ ہوتی ہوں۔ میں ہر روز ان کے قریب ہونے کی اپنی خوش قسمتی پر خدا کا شکر ادا کرتی ہوں۔’
مگر گذشتہ سال دراڑیں اس وقت سامنے آئیں جب شیخ محمد کی بیٹیوں میں سے ایک شیخہ لطیفہ نے ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ دنیا بھر میں پھیل جانے والی ویڈیو میں 33 سالہ شہزادی نے دعویٰ کیا کہ ان کے خاندان میں ‘انتخاب کی آزادی نہیں تھی’ اور یہ کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

شیخہ لطیفہ ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات سے ایک فرانسیسی شخص کی مدد سے سمندر کے راستے فرار ہوئیں مگر انڈیا کے ساحل کے پاس مسلح افراد نے انھیں دھر لیا اور واپس دبئی پہنچا دیا۔ دسمبر میں ان کی امارات میں اپنے گھر میں سابق آئرش صدر میری رابنسن کے ساتھ تصاویر جاری کی گئی تھیں۔
دبئی کے حکام کا اصرار تھا کہ وہ استحصال کے خطرے کا سامنا کر رہی تھیں اور یہ کہ وہ ‘دبئی میں محفوظ’ تھیں۔ اس وقت شہزادی حیا نے بھی یہی مؤقف اپنایا تھا اور کہا تھا کہ یہ ‘ناقابلِ تصور ہے کہ یہ بات سچ سے اس قدر دورجا چکی ہے۔’
مگر اب صرف چھ ماہ سے کچھ زیادہ عرصے میں شہزادی حیا کے قریبی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ شہزادی نے شیخہ لطیفہ کے فرار کی کوششوں کے بارے میں پریشان کن حقائق جان لیے تھے اور اس کے علاوہ انھیں اپنے شوہر کے وسیع تر خاندان سے بڑھتے ہوئے معاندانہ رویے اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ممکنہ طور پر وہ خود کو محفوظ نہیں محسوس کر رہی تھیں چنانچہ وہ برطانیہ سے پہلے جرمنی فرار ہو گئیں تھیں۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter