ترک تنصیبات میں قطر کو بھی داخلے کی اجازت نہیں

معاہدے کی یہ شق پوری دنیا میں خود مختاری کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی دکھائی دیتی ہے،رپورٹ

17 جنوری, 2019

دوحہ : قطر کی سرزمین پر ترک فوج کی تعیناتی کے سمجھوتے کے حوالے سے لیک ہونے والی تفصیلات میں ایک حیران کن انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ دوحہ میں موجود ترکی کی فوجی تنصیبات میں قطری حکام کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔عرب ٹی وی کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان طے پائے معاہدے میں کہا گیا کہ ترک فوج دوحہ میں جن عمارتوں کو استعمال کرے گی ان میں قطری حکام کو آمد ورفت کی اجازت نہیں ہوگی۔

معاہدے کی یہ شق پوری دنیا میں خود مختاری کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی دکھائی دیتی ہے۔معاہدے میں کہا گیا کہ قطر اور ترکی کے درمیان طے پائے فوجی تعاون کے معاہدے کے باوجود ترک فوج جن املاک کو استعمال کرے گی ان کی ملکیت قطر ہی کیپاس ہوگی مگر جب تک انہیں ترک استعمال کریں گے اس وقت تک قطری حکام کو بغیر اجازت ان میں آمد روفت کی اجازت نہیںہوگی۔

اگرقطری حکام ان املاک کو استعمال کرنا بھی چاہئیں انہیں ترک جرنیلوں سے اس کی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔عرب ٹی وی کے مطابق معاہدے کی مزید تفصیلات معلوم ہوئی ہیں۔ شق 6 میں کہا گیاکہ دوحہ میں وہ تمام املاک ، مقامات اور تنصیبات جو ترک فوج کے استعمال میں ہوں گی وہ قطر کی ملکیت ہونے کے باوجود انتظامی طورپر ترکی کے پاس رہیں گی اورترک حکام کی اجازت اور مرضی کے خلاف انہیں قطری استعمال نہیں کریں گے۔

معاہدے میں کہا گیا کہ اگر قطری حکام دوحا میں موجود ترک تنصیبات کے استعمال کی ضرورت محسوس کریں تو انہیں اس کی تحریری اجازت حاصل کرنا ہوگی۔خیال رہے کہ ترکی اور قطر کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ 16 اپریل 2016ء کو طے پایا تھا جسے جون 2017ء کو ترک پارلیمنٹ کی جانب سے توثیق کے بعد توسیع دی گئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان 16 صفحات پرمشتمل معاہدہ طے پایا تھا جس پر دونوں ملکوں کے وزراء دفاع نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت ترکی کو قطری سرزمین پر اپنا فوجی اڈا قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ معاہدے کی بہت سی شقیں مخفی رکھی گئیں، جس پر دوسرے خلیجی ملکوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter