چین کی سنگین وارننگ؛ نیپال کی دو ندیوں کے درمیان بنا دیوہیکل جھیل نما بند تین دن میں پھٹ سکتا ہے
مولانا مشہود خاں نیپالی
کٹھمنڈو / کیر خبر
پانی کا دباؤ بڑھنے سے تباہ کن سیلاب کا خدشہ، چین اور نیپال میں بڑے پیمانے پر امدادی و ریسکیو آپریشن جاری؛ نیپال میں ہلاکتیں 270 تک پہنچ گئیں
نیپال اور چین کی سرحد پر قدرت نے ایک بار پھر خوفناک منظرنامہ پیدا کر دیا ہے۔ شدید بارش، ہولناک سیلاب اور بڑے پیمانے پر پہاڑی تودے گرنے کے بعد چھوچن کھولا اور پوریپو تسانگپو دریا کے سنگم کے قریب ایک بہت بڑی ’بیریئر لیک‘ یعنی دریا کے راستے میں ملبے اور پہاڑی تودے سے بننے والی مصنوعی جھیل وجود میں آ گئی ہے۔ چین کی وزارت آبی وسائل نے خبردار کیا ہے کہ اس جھیل کے پھٹنے کا خطرہ انتہائی زیادہ ہے اور آئندہ تین دن انتہائی حساس ثابت ہو سکتے ہیں۔
چینی ذرائع ابلاغ سی سی ٹی وی کے مطابق جمعرات کی صبح تک اس جھیل میں تقریباً 20 لاکھ مکعب میٹر پانی جمع ہو چکا تھا۔ اگرچہ پانی کا کچھ حصہ جھیل سے باہر نکلنا شروع ہو گیا ہے، تاہم ماہرین کا اندازہ ہے کہ آئندہ تین دن میں مزید تقریباً 30 لاکھ مکعب میٹر پانی اس میں جمع ہو سکتا ہے۔ پانی کی بڑھتی ہوئی مقدار کے باعث قدرتی بند ٹوٹنے اور اچانک انتہائی تباہ کن سیلاب آنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
چینی وزارت آبی وسائل نے کہا ہے کہ جھیل کی صورتحال پر مسلسل اور انتہائی قریب سے نظر رکھی جا رہی ہے۔ ممکنہ جھیل پھٹنے کی صورت میں سیلاب کے راستے اور شدت کا اندازہ لگانے کے لیے سیلابی سمیولیشن اور سائنسی تجزیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ کسی بھی ممکنہ آفت کی صورت میں فوری امداد اور ریسکیو کارروائی کے لیے ضروری انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
پوریپو تسانگپو دریا تبت میں بہنے والا اہم دریا ہے، جو نیپال کے بھوٹے کوشی۔تریشولی دریائی نظام سے جڑا ہوا ہے اور رسوا ضلع کے راستے نیپال میں داخل ہوتا ہے۔ نیپال میں اسے رسوا کا بھوٹے کوشی کہا جاتا ہے۔ دوسری جانب چھوچن کھولا نیپال اور چین کے تبت خطے کی سرحدی حدود میں بہنے والا اہم بالائی معاون دریا ہے، جو بدھ کے روز چین۔نیپال سرحدی علاقے میں آنے والے شدید پہاڑی تودے اور قدرتی بند کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ بنا۔
ادھر رسوا۔کیروںگ سرحدی علاقے میں آنے والی تباہ کن قدرتی آفت کے بعد دونوں ملکوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ شدید سیلاب نے چین کے جنوب مغربی تبت خودمختار علاقے میں واقع کیروںگ بندرگاہ کو بھی متاثر کیا ہے، جس کے بعد چینی حکام نے عوام کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے کے لیے مختلف اداروں کو ایک ساتھ متحرک کر دیا ہے۔
چینی پیپلز لبریشن آرمی، ریسکیو اہلکار، انجینئرنگ ٹیمیں، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیاں اور امدادی ادارے افرادی قوت، طیاروں، جدید آلات اور امدادی سامان کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں۔ نیپال کی جانب سے بھی نیپالی فوج، نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس کو بڑے پیمانے پر تعینات کیا گیا ہے۔
دونوں جانب دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ، مسلسل بارش، مزید لینڈ سلائیڈنگ اور نئے سیلاب کے خطرے کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ ریسکیو ٹیموں کے لیے ایک نیا امتحان بن چکا ہے، جبکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی واپسی کی امید میں بے قراری سے منتظر ہیں۔
چینی حکام کے مطابق جمعرات کی صبح تک اس تباہ کن واقعے میں چین کی جانب تین افراد مر چکے تھے، جبکہ 558 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں 260 غیر ملکی شہری بھی شامل بتائے گئے ہیں۔
دوسری جانب نیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب نے تباہی کی ایک اور المناک داستان رقم کی ہے۔ نیپال پولیس کے مطابق سیلاب اور اس سے پیدا ہونے والی تباہی میں جاں بحق افراد کی تعداد 270 تک پہنچ گئی ہے۔ صرف چتوان ضلع سے 108 افراد کی لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ مشرقی نولپراسی میں 62، مغربی نولپراسی میں 15 اور دھادنگ میں 27 افراد کی لاشیں مل چکی ہیں۔
اسی طرح گورکھا میں 20، نواکوٹ میں 12، تنہو میں 9 اور رسوا میں 17 افراد کی لاشیں برآمد ہونے کی اطلاع ہے۔ حکام کے مطابق 52 زخمی افراد مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
متاثرین میں سے 26 افراد کا علاج تری بھون یونیورسٹی ٹیچنگ اسپتال، 20 کا ٹراما سینٹر، 2 کا بیر اسپتال، 2 کا نروک اسپتال، ایک کا من موہن اسپتال اور ایک زخمی کا علاج ویریندر فوجی اسپتال میں جاری ہے۔
نیپال اور چین کی سرحدی پٹی میں قدرت کا یہ قہر ابھی تھما نہیں۔ ایک طرف تباہ کن سیلاب نے سیکڑوں خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیے ہیں تو دوسری طرف پہاڑوں کے درمیان جمع ہوتا لاکھوں مکعب میٹر پانی ایک اور بڑے سانحے کا خوف پیدا کر رہا ہے۔ آنے والے تین دن نہ صرف ریسکیو ٹیموں بلکہ سرحدی علاقوں میں بسنے والے ہزاروں لوگوں کے لیے انتہائی اہم اور فیصلہ کن قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ کی راۓ