ترشولی بازار: مدرسہ دار القرآن اور ہائی اسکول کی عمارت ملبے میں تبدیل؛ اساتذہ اور طلبہ لا پتہ

26 اگست, 2026

ترسولی/ کیر خبر

بھیانک سیلاب کے باعث ترشولی بازار میں واقع ندی کے کنارے مدرسہ دارالقران اور اس کے بغل میں ہائی سکول کی عمارت اس وقت ریگستان میں تبدیل ہو چکی ہے۔ مٹی کے تودوں میں دبی عمارتیں اس وقت قیامت صغری کا منظر پیش کر رہی ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ندی کے کنارے ساری عمارتیں ملیامیٹ ہو چکی ہیں۔
مدرسہ دار القرآن کے ذمہ دار مولانا عبدالوہاب قاسمی سے کسی قسم کا رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں اساتذہ اور لگ بھگ 50 کے آس پاس طلبہ اس وقت لاپتا بتائے جا رہے ہیں۔
دعا کی جائے کہ وہ سب کے سب سلامت ہوں اور کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہوں۔
کیئر خبر نے ترشولی بازار کے رہائشی ڈاکٹر ظفر سے رابطہ کرنے کے بعد وہاں کی ہولناکی کے بارے میں جو خبریں موصول ہوئی ہیں وہ انتہائی دردناک ہیں۔ ان کے مطابق نہ اپ کوئی پل بچا ہے نہ بازار رہ گیا ہے اور سارے رہائشی علاقے ندی کے کنارے ملیا میٹ ہو چکے ہیں۔ اس وقت لوگ پہاڑ کی چوٹیوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں پر حکومت کی جانب سے کوئی کھانا یا رسکیو اب تک نہیں پہنچا ہے۔

وہیں ترشو لی بجلی پروجیکٹ پر کام کر رہے ٣٠٠ افراد پر مشتمل عملہ لا پتا بتایا جا رہا ہے-

خیال رہے چین کی طرف سے آنے والا یہ بھیانک سیلاب وقت پر نیپال کو جانکاری نہ ہونے کے سبب نیپال کو بہت بڑے جانی ومالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter