نیپال سب سے زیادہ کیا درآمد کرتا ہے؟ ایک ہی سال میں تقریباً 49 ارب روپے مالیت کے اسمارٹ فون درآمد، پیٹرولیم مصنوعات بدستور سرفہرست

مولانا مشہود خاں نیپالی

24 جولائی, 2026
کٹھمنڈو / كيئر خبر
نیپال کی معیشت میں درآمدات پر انحصار مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ مالی سال 2082/83 کے سالانہ غیر ملکی تجارت کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک اب بھی ایندھن، صنعتی خام مال، زرعی اشیاء اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے بڑی حد تک بیرونی منڈیوں پر انحصار کر رہا ہے۔
محکمہ کسٹمز کی جانب سے 7 ساون کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں نیپال نے مجموعی طور پر 20 کھرب 96 ارب 37 کروڑ 90 لاکھ 70 ہزار نیپالی روپے مالیت کی اشیاء درآمد کیں، جبکہ ان درآمدات سے حکومت کو 5 کھرب 6 ارب 89 کروڑ 50 لاکھ 80 ہزار نیپالی روپے کسٹمز ریونیو کی مد میں حاصل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق درآمدات میں سب سے بڑا حصہ پیٹرولیم مصنوعات کا رہا، جبکہ خام سویا بین کا تیل، اسمارٹ فون، سونا، کیمیائی کھاد اور صنعتی خام مال بھی نمایاں درآمدی اشیاء میں شامل رہے۔
گزشتہ مالی سال میں سب سے زیادہ درآمد ہونے والی 10 اہم اشیاء
1۔ ڈیزل:
درآمدی فہرست میں ڈیزل پہلے نمبر پر رہا۔ گزشتہ مالی سال کے دوران 1 کھرب 72 ارب 42 کروڑ 87 لاکھ 23 ہزار روپے مالیت کا ڈیزل درآمد کیا گیا، جس سے حکومت کو 57 ارب 70 کروڑ 39 لاکھ 33 ہزار روپے کسٹمز ریونیو حاصل ہوا۔
2۔ خام سویا بین کا تیل:
دوسرے نمبر پر خام سویا بین کا تیل رہا، جس کی درآمد 1 کھرب 32 ارب 76 کروڑ 95 لاکھ 97 ہزار روپے رہی۔ یہ تیل بنیادی طور پر مقامی صنعتوں میں ریفائننگ، دوبارہ برآمد یا اندرون ملک استعمال کے لیے درآمد کیا جاتا ہے۔
3۔ پیٹرول:
پیٹرول کی درآمد 77 ارب 26 کروڑ 50 لاکھ 11 ہزار روپے رہی، جبکہ اس سے حکومت کو 40 ارب 48 کروڑ 41 لاکھ 4 ہزار روپے کسٹمز ریونیو حاصل ہوا۔
4۔ ایل پی جی (کھانا پکانے کی گیس):
ایل پی جی کی درآمد 60 ارب 28 کروڑ 6 لاکھ 24 ہزار روپے رہی، جس سے 11 ارب 24 کروڑ 26 لاکھ 8 ہزار روپے ریونیو حاصل ہوا۔
5۔ اسمارٹ فون:
ٹیکنالوجی کے شعبے میں اسمارٹ فون کی درآمد نمایاں رہی۔ گزشتہ مالی سال میں 48 ارب 69 کروڑ 34 لاکھ 76 ہزار روپے مالیت کے اسمارٹ فون نیپال درآمد کیے گئے، جن پر حکومت نے 9 ارب 8 کروڑ 23 لاکھ 97 ہزار روپے کسٹمز ریونیو وصول کیا۔
6۔ سونا:
زیورات اور سرمایہ کاری کے مقصد سے استعمال ہونے والے سونے کی درآمد 26 ارب 77 کروڑ 58 لاکھ 43 ہزار روپے رہی۔
7۔ ہوائی جہاز کا ایندھن (ایوی ایشن ٹربائن فیول):
ہوائی نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے ایندھن کی درآمد 26 ارب 64 کروڑ 50 لاکھ 42 ہزار روپے ریکارڈ کی گئی۔
8۔ ڈی اے پی کھاد:
زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 24 ارب 8 کروڑ 76 لاکھ 13 ہزار روپے مالیت کی ڈی اے پی کھاد درآمد کی گئی۔
9۔ کوئلہ:
صنعتی استعمال کے لیے 23 ارب 36 کروڑ 58 لاکھ 80 ہزار روپے مالیت کا کوئلہ درآمد کیا گیا۔
10۔ یوریا کھاد:
فہرست میں دسویں نمبر پر یوریا کھاد رہی، جس کی درآمد 22 ارب 38 کروڑ 93 لاکھ 28 ہزار روپے مالیت کی ریکارڈ کی گئی۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ نیپال کی معیشت اب بھی توانائی، زرعی پیداوار، صنعتی خام مال اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں درآمدات پر بڑی حد تک منحصر ہے۔ دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات، اسمارٹ فون اور دیگر نسبتاً زیادہ ٹیکس والی اشیاء سے حکومت کو کسٹمز ریونیو کا بڑا حصہ حاصل ہو رہا ہے، جو ملکی محصولات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter