کاٹھمانڈو/ کیئر خبر
رسووا میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی فوری امداد، بحالی اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو کے لیے نیپال نے سعودی عرب سے انسانی تعاون کی اپیل کی ہے۔
وزیر صنعت گوری کماری یادو نے نیپال میں متعین سعودی عرب کے سفیر فہد محمد سے شائستہ ملاقات کے دوران رسووا میں سیلاب سے ہونے والی تباہی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے متاثرین کے فوری ریسکیو، امداد، بحالی اور تعمیر نو کے لیے سعودی حکومت سے انسانی بنیادوں پر تعاون کی درخواست کی۔
ملاقات میں وزیر صنعت نے بتایا کہ سیلاب نے متعدد خاندانوں کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں فوری امداد کے ساتھ ساتھ طویل مدتی بحالی کی بھی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے سعودی حکومت کی جانب سے ممکنہ انسانی تعاون کو اس مشکل گھڑی میں متاثرین کے لیے ایک اہم سہارا قرار دیا۔
رسووا میں قدرتی آفت کے بعد کئی خاندان اپنے گھروں، روزگار اور معمول کی زندگی سے محروم ہوگئے ہیں۔ ایسے حالات میں متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔
وزیر صنعت کی جانب سے سعودی عرب سے انسانی امداد کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیپال کے متاثرہ علاقوں کو بڑے پیمانے پر امداد اور بحالی کے وسائل کی ضرورت ہے۔ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں دوست ممالک اور عالمی برادری متاثرین کے ساتھ کھڑی ہوگی اور انہیں دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد فراہم کرے گی۔
رسووا کے سیلاب متاثرین کے لیے یہ تعاون صرف مالی مدد نہیں بلکہ مصیبت میں گھرے خاندانوں کے لیے امید، حوصلے اور انسانیت کے ساتھ کھڑے ہونے کا ایک مضبوط پیغام بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
آپ کی راۓ