تولہوا/ کیئر خبر
ابنائے قدیم مرکز الامام احمد بن حنبل کے زیر اہتمام تولہوا میں آج بعنوان مدارس اسلامیہ کا موجودہ نصاب تعلیم اور عصر حاضر کے تقاضے پر سیمینار اختتام پذیر ہوا ۔
سیمینار کی صدارت مولانا محمد ہارون سلفی نے جبکہ نظامت کا فریضہ مولانا محمد زماں ریاضی انجام دیا ۔
تلاوت کلام پاک نعت نبی اور راشٹریہ گان کے بعد سیمینار کے روح رواں ڈاکٹر عبدالمبین فاقب ہارونی نے شاندار استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے تمام وکلا نگران اور مہمان گرامی کا فرد فردن تعارف کراتے ہوئے استقبال کیا اور مرکز امام احمد بن حنبل کی پوری تاریخ تفصیل کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھی ک کتنے جتن اور جدوجہد کے بعد یہ ادارہ معرض وجود میں آیا۔
مدارس کے موجودہ نصاب تعلیم کو اپڈیٹ کرنے اور عصری مضامین کی شمولیت پر مقالہ نگاران نے جم کر بحث کی اور ہر مقالے پر مبصرین نے علمی تبصرے کئے۔
انہوں نے کہا مدارس اسلامیہ بلا شبهه دینِ اسلام کے ایسے قلعے ہیں جنہوں نے ہر دور میں مسلمانوں کی مذہبی، اخلاقی اور علمی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ برصغیر نیپال پاکستان بنگلہ دیش و بھارت میں مدارس نے نہ صرف مسلمانوں کی اسلامی شناخت کو برقرار رکھا بلکہ استعمار (نوآبادیاتی دور) کے خلاف تحریکوں میں بھی ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ تاہم، وقت کی رفتار کے ساتھ معاشرے، معیشت اور ٹیکنالوجی میں جو انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں، انہوں نے مدارس کے روایتی تعلیمی نظام کے سامنے کچھ نئے سوالات اور چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ آج یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ مدارس کا نصابِ تعلیم عصرِ حاضر (موجودہ دور) کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہے۔
مقالہ نگاران نے اور مبصرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہائی اسکول لیول تک کی تعلیم میں عصری مضامین کی شمولیت ناگزیر ہے ۔
درج ذیل مقالہ نگاران اور مبصرین نے اپنے مقالے پیش کئے اور علمی تبصرے کئے:
ڈاکٹر عبد الحلیم مدنی
ڈاکٹر سلیم انصاری
ڈاکٹر اورنگزیب تیمی
مولانا اطہر مدنی
مولانا عبد الصبور ندوی
مولانا عبد الرحیم مدنی
مولانا عتیق الرحمن مکی
مولانا مشتاق سلفی
مولانا سحر محمود سنابلی
مولانا صلاح الدین مدنی
مولانا ابرار احمد مدنی
مولانا عامر مدنی
مولانا نور محمد مصباحی
مولانا محمد رفیق مدنی
مولانا نظام الدین سلفی
مولانا نوشاد رحمن مدنی
مقالہ نگاران نے اعتراف کیا کہ ملک نیپال کے درجنوں مدارس نے نصاب تعلیم میں ضروری إصلاحات کا کام شروع کر دیا ہے اور اسے نافذ بھی کردیا ہے؛ خوشی کی بات یہ ہے کہ انہوں نے موزوں حکمت علمی اپناتے ہویے اور عصر حاضر کے تقاضوں پر لبیک کہتے ہویے ایک معتدل اور متوازن نصاب نافذ کیا ہے جہاں دین بھی مکمل شکل میں موجود ہے اور دنیا بھی- خیال رہے إصلاحات کا یہ عمل بتدریج جاری ہے-
١-کمیٹی کا قیام:ابتدائی مرحلہ.
مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور ماہرینِ تعلیم پر مشتمل ایک بورڈ تشکیل دیا جائے جو نصاب کا جائزہ لے۔
2- نصابی مواد کی تیاری:ترتیب و تدوین.
موجودہ کتب کے ساتھ ساتھ جدید مضامین کے لیے نصابی کتب تیار کی جائیں جو اسلامی تناظر سے ہم آہنگ ہوں۔
3- تجریبی نفاذ:پائلٹ پراجیکٹ.
چند منتخب مدارس میں اس نئے نصاب کا تجربہ کیا جائے اور نتائج کا جائزہ لیا جائے۔
4- مکمل نفاذ اور نگرانی:حتمی مرحلہ.
بہتری کے بعد اسے قومی سطح پر تمام مدارس میں رائج کیا جائے اور نگرانی کے لیے نظام قائم کیا جائے۔
تاثرات کے طور پر مولانا عبد الرشید مدنی شیخ الجامعہ جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر؛ مولانا پرویز یعقوب مدنی؛ مولانا شمس الدین مدنی؛ مولانا پرویز عبد الوحید ریاضی نے اظہار خیال کیا۔
اخیر میں مولانا محمد ہارون سلفی سرپرست مرکز کے صدارتی بیان پر سیمینار اختتام کو پہنچا ۔
آپ کی راۓ