جیت پور سمرا/ کیئر خبر
نیپال کے ضلع بارا کے حلقہ نمبر 4 سے ایوان نمائندگان کی نشست کے لیے ہونے والے انتخاب میں ایک دلچسپ اور غیر معمولی صورتحال سامنے آئی ہے جہاں میدان میں اترنے والے 37 امیدواروں میں سے 34 امیدوار اپنی ضمانت تک بچانے میں ناکام رہے۔ اس انتخابی منظرنامے میں بارا کے ووٹروں نے کسی کو بھی رعایت نہیں دی، یہاں تک کہ مسلم کمیشن کے سابق صدر کو بھی نہیں بخشا اور ان کی ضمانت تک ضبط ہو گئی۔
انتخابی ہدایات نامہ 2082 کے باب 10 کے مطابق وہ امیدوار جو کل صحیح ووٹوں کا کم از کم 10 فیصد حاصل نہ کر سکیں، ان کی ضمانت ضبط کر لی جاتی ہے۔ اسی اصول کے تحت اس حلقے میں بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سمیت 34 امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی۔
اس انتخاب میں مجموعی طور پر 18 امیدوار مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے جبکہ 19 امیدوار آزاد حیثیت سے میدان میں تھے۔ تاہم نتائج کے مطابق صرف 3 امیدوار ہی مطلوبہ حد عبور کر کے اپنی ضمانت محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو سکے۔
ضمانت بچانے والے امیدواروں میں راشٹریہ سوتنتر پارٹی کے رہبر انصاری، نیپال کمیونسٹ پارٹی (ایم ایل ای) کے امیدوار کرشن کمار سریشٹھ "کسان”، اور جنتا سماجوادی پارٹی نیپال کے سنجو ساہ کانو شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق بارا حلقہ نمبر 4 میں مجموعی طور پر 80,678 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 74,637 ووٹ درست قرار دیے گئے۔ انتخابی ضابطے کے مطابق ضمانت محفوظ رکھنے کے لیے امیدوار کو کم از کم 7,464 ووٹ حاصل کرنا ضروری تھا، تاہم تین امیدواروں کے علاوہ کوئی بھی اس حد تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق نیپالی کانگریس کے امیدوار شیام بابو گپتا کو 7,113 ووٹ ملے جو مطلوبہ حد سے کم رہے، جس کے باعث ان کی ضمانت بھی ضبط ہو گئی۔ اسی طرح نیپالی کمیونسٹ پارٹی کے اجے کشواہا نے 2,067 ووٹ، راشٹریہ ایکتا دل کے ونئے یادو نے 1,026 ووٹ، جبکہ عام جنتا پارٹی کے امیش کشواہا نے 833 ووٹ حاصل کیے۔
اسی طرح راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی کے دلیپ شرما نیپال کو 809 ووٹ، راشٹر نرمان دل نیپال کے شمیم میاں کو 481 ووٹ، اور راشٹریہ پریورتن پارٹی کے سرویندر کھنال کو 464 ووٹ ملے۔
مزید برآں جنمت پارٹی کے حسن جان میاں کو 437 ووٹ، اجیالو نیپال کے سنتوش کمار گپتا کو 220 ووٹ، شرم سنسکرتی پارٹی کے گوپال بہادر کھتری کو 144 ووٹ جبکہ راشٹریہ جن مورچا کی امیدوار سرسوتی اپادھیائے کو محض 50 ووٹ حاصل ہوئے۔
انتخابی افسر گمبیر گھمیرے کے مطابق نتائج واضح کرتے ہیں کہ اس حلقے میں عوامی حمایت چند محدود امیدواروں تک سمٹ کر رہ گئی، جبکہ بیشتر امیدوار مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے، جس کے نتیجے میں ان کی ضمانت ضبط ہو گئی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بارا حلقہ 4 کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ انتخابی میدان وسیع اور امیدواروں کی تعداد زیادہ تھی، لیکن عوامی اعتماد چند مخصوص امیدواروں کے گرد ہی مرکوز رہا۔ یہی وجہ ہے کہ درجنوں امیدوار انتخابی دوڑ میں شریک ہونے کے باوجود عوامی حمایت حاصل نہ کر سکے۔
رپورٹ: مولانا مشہود نیپالی
آپ کی راۓ