عالمِ اسلام اس وقت ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے خطے کے سیاسی، عسکری اور معاشی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بلاشبہ اس جنگ کے بنیادی فریق امریکہ، اسرائیل اور ایران ہیں؛ اور یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ اس کی داخلی خود مختاری پر صریح دست اندازی اور بین الاقوامی دساتیر کی خلاف ورزی ہے۔ طاقت کے نشے میں عالمی قوانین کو پامال کرنا اور جارحانہ اقدامات کو سیاسی حکمت عملی کا نام دینا کسی بھی مہذب عالمی نظام کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
جو ہوا غلط تھا، غلط ہے اور غلط ہی رہے گا؛ مگر جواباً ایران کی جانب سے ان خلیجی ممالک کا رخ کرنا جو براہ راست اس تصادم کا حصہ نہ تھے، مزید افسوسناک ہے۔ یہ ممالک بعض مواقع پر مفاہمت اور کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کرتے رہے، اس کے باوجود انہیں نشانہ بنانا سیاسی بصیرت اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔
سعودی عرب: مفاہمت کی پالیسی اور عملی ثبوت
خصوصاً سعودی عرب نے حالیہ عرصے میں خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کی پالیسی اپنائی۔ چین کی وساطت سے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری کی پیش رفت ایک مثبت قدم تھا۔ حالیہ بحران کے دوران بھی سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود اور عسکری تنصیبات کو ایران مخالف کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روک کر عملی غیر جانبداری اور خیرسگالی کا ثبوت دیا۔
اگر اس کے باوجود سعودی اہداف کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف سیاسی بددیانتی بلکہ خطے کے استحکام کے خلاف کھلا اقدام تصور ہوگا۔
حملوں کا دائرہ: عسکری اہداف یا شہری آبادی؟
اگر ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، تو سوال یہ ہے کہ شہری علاقوں، اقتصادی مراکز اور تیل صاف کرنے کے کارخانوں کو نقصان کیوں پہنچا؟ متحدہ عرب امارات سمیت بعض خلیجی ممالک میں حملوں کے اثرات عام شہریوں تک پہنچے۔
انتہائی افسوس کے ساتھ یہ امر بھی سامنے آیا کہ دبئی میں ایک نیپالی شہری اس کشمکش کا شکار ہو کر جاں بحق ہوا۔ یہ سانحہ ہمارے لیے نہایت دردناک ہے۔ کیا یہ حقیقت ہمارے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑتی کہ امریکہ اور ایران کی اس جنگ میں ہمارے محنت کش شہری ایندھن بن رہے ہیں؟ دوسروں کی لڑائی میں ہمارے غریب مزدوروں کی جانوں کا ضیاع ایک ایسا المیہ ہے جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔
ایران کی پالیسی: ردِعمل یا توسیع محاذ؟
یہ کہنا کہ ایران صرف دفاع میں کارروائی کر رہا ہے، اس وقت کمزور پڑ جاتا ہے جب اس کی جوابی کارروائیوں کا دائرہ ان ممالک تک پھیل جائے جو براہ راست جنگ کا حصہ نہیں۔ اگر اصل فریق امریکہ اور اسرائیل تھے تو حملوں کا رخ عرب شہروں اور اقتصادی مراکز کی طرف کیوں ہوا؟
راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کا مذمتی بیان
راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سیکریٹری مولانا مشہود خاں نیپالی نے اپنے مختصر مگر دوٹوک مذمتی بیان میں کہا:
“ہم امریکہ یا اسرائیل کی کسی بھی غیر منصفانہ جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، اور اسی طرح ایران کی جانب سے خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، پر حملوں کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ شہری آبادی کو نشانہ بنانا کسی بھی اصول کے مطابق درست نہیں۔ دبئی میں ایک نیپالی شہری کی ہلاکت اس بات کا دردناک ثبوت ہے کہ بڑی طاقتوں کی جنگ میں ہم جیسے کمزور ممالک کے شہری ایندھن بن رہے ہیں۔ ہم فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ مزید بے گناہ جانیں ضائع نہ ہوں۔”
ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ:
امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی غیر منصفانہ حملے کی مذمت ہونی چاہیے۔
ایران کی جانب سے خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، پر حملے بھی قابل مذمت ہیں۔
شہری آبادی اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنانا کسی بھی اصول انصاف کے مطابق درست نہیں۔
خطے کو مزید آگ میں جھونکنے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
عالم اسلام کو جذباتی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ، عادلانہ اور متوازن رویہ اپنانا ہوگا۔ جو جہاں غلط ہے، اسے غلط کہنا ہی دیانت ہے، خواہ وہ امریکہ ہو، اسرائیل ہو یا ایران۔
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو بصیرت، اتحاد اور حکمت عطا فرمائے اور مشرق وسطیٰ کو جنگ و فساد سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
ڈاکٹر عبد الغنی القوفی
استاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر
صدر عمومی راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال
آپ کی راۓ