کپلوستو کی زمین سے تاریخ بول اٹھی، 12ویں صدی کے نایاب سکے دریافت
مولانا مشہود خاں نیپالی
کپلوستو/ كيئر خبر
کپلوستو نگرپالیکا وارڈ نمبر 5، ببھنی میں ایک ایسی تاریخی دریافت سامنے آئی ہے جس نے ماہرین آثار قدیمہ کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ایک مقامی کسان کے کھیت سے تانبے کا ایک قدیم کروہ (برتن) برآمد ہوا، جس کے اندر 2,314 نایاب تانبے کے سکے محفوظ تھے۔ ابتدائی تحقیق کے مطابق یہ قیمتی نوادرات 12ویں یا 13ویں صدی (قرون وسطیٰ) سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ حیرت انگیز دریافت اس وقت ہوئی جب مقامی کسان راجا رام یادو اپنے کھیت میں زرعی کام کر رہے تھے۔ زمین کی کھدائی کے دوران تانبے کا برتن نظر آنے پر انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس، مقامی عوامی نمائندے اور کپلوستو میوزیم کی ماہر ٹیم موقع پر پہنچی اور تمام تاریخی نوادرات کو انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنی تحویل میں لے کر میوزیم منتقل کر دیا۔
کپلوستو میوزیم کی سربراہ شانتی شیرما نے بتایا کہ برتن سے اب تک 2,314 تانبے کے سکے نکالے جا چکے ہیں، جن پر عربی رسم الخط کندہ ہے۔ ان کے مطابق سکوں کے وسط میں عربی زبان میں "شاہ محمد” تحریر ہے، جبکہ تانبے کا برتن تقریباً 23 سینٹی میٹر بلند ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نیپال کی قرون وسطیٰ کی تاریخ کے مطالعے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
ضلع پولیس کے ایس پی منوہر پرساد بھٹ نے بتایا کہ تمام نوادرات کو قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد مزید تحقیق، تحفظ اور سائنسی جانچ کے لیے کپلوستو میوزیم کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ نادر دریافت نہ صرف کپلوستو کی تاریخی اور تہذیبی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے بلکہ اس دور میں برصغیر اور اسلامی دنیا کے درمیان موجود تجارتی، ثقافتی اور تمدنی روابط کے حوالے سے بھی نئی معلومات سامنے لا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ نایاب سکے اور تاریخی برتن مستقبل کی تحقیق کے لیے ایک بیش قیمت تاریخی سرمایہ ثابت ہوں گے۔
آپ کی راۓ