افسانہ: بھیانک خواب

2 دسمبر, 2023

ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے آفاق کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ یہ آنسو ندامت اور شرمندگی کے تھے۔ پاس کھڑی شکیلہ بھی اپنے شوہر کی یہ حالت دیکھ کر رو رہی تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ رومال سے آفاق کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو پونچھ دیتی۔ آفاق روتے ہوئے شکیلہ سے معافی مانگ رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ شادی کے بعد جو رویہ میں نے تم سے رکھا اس سے میں بہت شرمندہ اور نادم ہوں۔ خدا کے لئیے مجھے معاف کر دو۔ شکیلہ بھی اپنے آنسوؤں سے بھیگی پلکوں کو صاف کرتے ہوئے کہہ رہی تھی آپ مت روئیں جو ہونا تھا وہ ہو گیا اور وہ دن گزر گئے اب ہم وہ بھیانک خواب بھلا کر خوشیوں اور خوشبوؤں سے معطر آنگن میں داخل ہوں گے۔ جہاں ایک دوسرے کا ادب و لحاظ اور ایک دوسرے کی خواہشات کا احترام ہو گا۔
شکیلہ اپنے والدین کی چہیتی بیٹی تھی۔ اپنے باپ کی تو بہت ہی لاڈلی تھی۔ وہ جب بھی کوئی فرمائش کرتی اس کا باپ سرفراز اپنی بیٹی کی خوشی کو پورا کرنا اپنا فرض سمجھتا۔ شکیلہ سے چھوٹا ایک بھائی نوید بھی تھا اور وہ میٹرک کا سٹوڈنٹ تھا۔ شکیلہ بی اے فائنل کی سٹوڈنٹ تھی اور ایک مقامی کالج میں زیر تعلیم تھی۔ جب بھی شام کے وقت شکیلہ کا باپ دفتر سے چھٹی کر کے گھر آتا وہ روز ہی کوئی نئی فرمائش کرتی کہ آج میں نے یہ چیز لینی ہے تو کل وہ چیز لوں گی۔
آج صبح سے ہی موسم بہت خوشگوار تھا آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی پھوار بھی پڑ رہی تھی۔ شام کو جب شکیلہ کا باپ گھر آیا تو اس نے پیزا کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ کیونکہ ایسے دلکش موسم میں اسے پیزا کھانا بہت اچھا لگتا تھا۔ سرفراز نے اپنی بیٹی کی خواہش کو فوراً پورا کر دیا۔ خوشگوار موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے وہ رات کو کافی دیر تک جاگتی رہی۔ کب نیند آئی اسے کچھ پتہ نہ چلا۔ صبح اس کی ماں صابرہ نے آوازیں دے کر اپنی بیٹی کو جگایا تو اس کی آنکھ کھلی۔ کیونکہ آج اسے کالج سے چھٹی تھی لہذا وہ صبح دیر سے اٹھی۔ ناشتہ اس نے اپنی ماں کے پاس بیٹھ کر کیا۔ ناشتہ کرنے کے بعد شکیلہ کی ماں نے اپنی بیٹی کو کہا کہ آج شام کو جہلم سے تمھارے ابو کے بچپن کے دوست شبیر صاحب اپنی بیوی کے ہمراہ ہمارے گھر آ رہے ہیں۔ ان کے لئیے ہم نے کھانے کا انتظام کرنا ہے اور تم نے کھانا تیار کرنے میں میری مدد کرنی ہے۔ شکیلہ نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا ٹھیک ہے امی جان۔ شکیلہ کی ماں نے مزید بتایا کہ مہمان رات کو ہمارے ہاں نہیں ٹھہریں گے وہ اپنے ایک رشتے دار کی شادی میں شرکت کرنے کے لئیے آ رہے ہیں ان کا قیام انہی کے گھر میں ہو گا۔ تھوڑی دیر کے بعد صابرہ اور اس کی بیٹی مہمانوں کے لئیے کھانا تیار کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ ماں اور بیٹی نے بروقت کھانا تیار کر لیا۔ شام کے بعد مہمان بھی آ گئے۔ سرفراز اور اس کی بیوی صابرہ نے خوش دلی کے ساتھ مہمانوں کا استقبال کیا۔ بعد ازاں انہیں باعزت انداز میں ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا گیا۔ مختلف موضوعات پر باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد صابرہ نے اپنی بیٹی کو کہا کہ کھانا ڈائننگ ٹیبل پر لگا دو۔ وہ اٹھی اور سیدھا کچن میں چلی گئی۔ شکیلہ نے کھانا ڈائننگ ٹیبل پر لگا دیا۔ شبیر اور اس کی بیوی نے کھانا بہت شوق سے کھایا اور انہوں نے کھانے کی بہت تعریف کی۔ صابرہ نے مہمانوں کو بتایا کہ کھانا میری بیٹی نے پکایا ہے۔ رات جب زیادہ گہری ہونے لگی تو مہمانوں نے واپسی کی اجازت چاہی سرفراز اور صابرہ نے انہیں ہنسی خوشی الوداع کیا۔ دوسرے دن صابرہ نے شکیلہ کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ تمھارے ابو کے دوست شبیر اور ان کی بیوی نے تمھیں دیکھا ہے انہیں تم بہت اچھی لگی ہو اور اپنے بیٹے کے ساتھ منگنی کی خواہش ظاہر کی ہے اور وہ بہت جلد شادی بھی کرنا چاہتے ہیں۔ لڑکا بہت اچھا ہے اور ایک سرکاری محکمے میں ملازمت کرتا ہے۔ شکیلہ نے جب یہ بات سنی تو بہت پریشان ہو گئی اور اپنی ماں سے کہنے لگی کہ میں نے تو ابھی اور پڑھنا ہے میں نے ابھی شادی نہیں کرنی۔ صابرہ نے اپنی بیٹی کو سمجھایا کہ تمھارے انکل شبیر اور تمھارا باپ بچپن کے دوست ہیں اور تمھارا بہت خیال رکھیں گے۔ انہوں نے چار ماہ کے بعد شادی کا کہا ہے جب تک تمھارے بی اے کے پیپر بھی ختم ہو جائیں گے۔ شکیلہ سوچنے لگی کہ یہ معاشرہ لڑکی کو کب موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کر سکے اور لڑکیاں تو اپنے والدین کے حکم کی ہی تابع ہوتی ہیں۔ ایک ماہ کے بعد شکیلہ کے پیپر شروع ہو گئے جس کی وجہ سے وہ کافی مصروف رہی۔ آخرکار وہ وقت بھی آگیا جب ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو عزت و آبرو کے ساتھ رخصت کر سکیں۔ شکیلہ کو والدین نے ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا اور شادی کی تمام رسومات خوش اسلوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئیں۔ شادی کے کچھ دن بعد دولہا اور دولہن کی دعوتوں کا آغاز ہو گیا۔ آج کسی عزیز کے گھر دعوت تو کل کسی اور کے ہاں دعوت۔ یہ سلسلہ کافی دنوں تک جاری رہا۔ آخر ایک دن شکیلہ نے آفاق کو کہا کہ میں تو اب کسی کے ہاں دعوت پر نہیں جاؤں گی۔ اگر آپ نے جانا ہو تو جائیں میری طرف سے تو معذرت کر لینا۔ آفاق نے کہا کہ چلو ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی۔ آفاق کی ملازمت لاہور میں تھی لہذا اس نے شادی کے بعد لاہور میں ہی ایک گھر کرائے پر لے لیا۔ شادی کے دو ہفتوں بعد آفاق نے اب باقاعدگی کے ساتھ اپنے دفتر جانا شروع کر دیا۔ آفاق کے والدین جہلم میں ہی رہتے تھے اور آفاق ملازمت کی وجہ سے اسی شہر لاہور میں مقیم تھا۔ آفاق جب دفتر چلا جاتا تو شکیلہ سارا دن گھر میں اکیلی ہوتی اور وہ آفاق کی واپسی کا شدت سے انتظار کرتی۔ آفاق کی بھی کوشش ہوتی کہ وہ دفتر سے چھٹی کے بعد جلد گھر پہنچ جائے۔ شادی کے بعد چھ ماہ تک کا عرصہ پل بھر میں ہی گذر گیا۔ میاں بیوی کا ہنسی مذاق میں بہت اچھا وقت گزر رہا تھا۔ پتہ نہیں ان کو کس کی نظر لگ گئی۔ اب آہستہ آہستہ ان کے درمیان تناؤ آنا شروع ہو گیا۔ شکیلہ کچھ دنوں سے محسوس کر رہی تھی کہ میں جب بھی آفاق سے بات کرتی ہوں تو وہ میری بات پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتا یا پھر صرف ہوں ہاں میں ہی جواب دیتا ہے۔ کچھ دنوں تک تو یہ سلسلہ چلتا رہا شکیلہ جب بھی کوئی بات کرتی آفاق کا دھیان کہیں اور ہوتا۔ اب آفاق اپنی بیوی کو بغیر کسی وجہ کے ڈانٹنے بھی لگا تھا۔ تم نے میرا یہ کام نہیں کیا یا پھر اتنی دیر لگا دی ہے۔ کھانا تم نے اچھا نہیں پکایا اور تم اپنی ماں سے کیا سیکھ کے آئی ہو۔ حالانکہ شکیلہ کی پوری کوشش ہوتی کہ وہ گھر کے تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے ادا کرے مگر دن بدن آفاق کا رویہ اپنی بیوی سے تلخ ہوتا گیا۔ شکیلہ اب یہ سوچ کر پریشان رہنے لگی کہ پتہ نہیں آفاق کو کیا ہو گیا ہے پہلے تو اس کا رویہ میرے ساتھ بہت اچھا تھا اب وہ میرے ہر کام میں نقص نکالتا رہتا ہے اور نہ ہی میرے ساتھ سیدھے منہ بات کرتا ہے۔ ایک دن آفاق اپنے دفتر سے چھٹی کے بعد گھر آیا تو اس نے آتے ہی شکیلہ سے پوچھا کہ کھانا اگر تیار ہو گیا ہے تو لے آؤ مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ شکیلہ نے بتایا کہ کھانا تیار ہونے میں ابھی کچھ دیر لگے گی۔ شکیلہ کا اتنا ہی کہنے کی دیر تھی کہ آفاق آپے سے باہر ہو گیا اور دو تھپڑ اپنی بیوی کے چہرے پر مار دئیے۔ شکیلہ اونچا اونچا رونے لگ پڑی۔ روتے ہوئے اس نے بتایا کہ سامنے والی ہمسائی ہمارے گھر آ گئی تھی وہ کچھ دیر میرے پاس بیٹھی رہی جس کی وجہ سے کھانا پکانے میں دیر ہو گئی۔ شکیلہ کہہ رہی تھی کہ مجھ سے اتنی بڑی غلطی کیا ہو گئی کہ بغیر سوچے سمجھے مجھے مارنے لگے ہو۔ آفاق غصے میں بپھرا ہوا گھر سے باہر نکل گیا اور شکیلہ خود ہی روتے روتے چپ ہو گئی۔ آفاق کا رویہ اب یکسر تبدیل چکا تھا اور آئے دن وہ کسی نہ کسی بہانے اپنی بیوی سے جھگڑتا رہتا اور شکیلہ رو رو کر خود ہی اپنے آنسو صاف کرتی اور خاموش ہو کر بیٹھ جاتی۔ ایک دن آفاق دفتر سے جلد ہی گھر آ گیا اور آتے ہی اس نے شکیلہ کو کہا کہ آج رات میں نے اپنے تین دوستوں کو گھر کھانے پر مدعو کیا ہے تم ان کے لئے کھانا تیار کر دینا۔ شکیلہ نے کہا کہ آج مجھے بہت تیز بخار ہے تم انہیں کسی اور دن بلا لینا۔ آفاق نے اپنی بیوی کے منہ سے انکار سنا تو غصے سے لال پیلا ہو گیا اور گالیاں دینے کے ساتھ مارنے پیٹنے لگا۔ اس جنونی شخص کو یہ بھی احساس نہ ہوا کہ اس کی بیوی نے انکار کیا ہے تو صرف بخار کی وجہ سے۔ وہ بڑبڑاتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا اور رات کو دیر سے گھر واپس آیا۔ صبح وہ اٹھا اور بغیر ناشتہ کئیے دفتر جانے لگا تو شکیلہ کہنے لگی کہ ناشتہ تو کر لیں مگر وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے جلدی سے باہر نکل گیا۔ آفاق کے جانے کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور روتے ہوئے دعا کرتی رہی کہ یا اللّہ آفاق کو ہدایت عطا فرما دے پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا ہے وہ بلا وجہ میرے اوپر غصہ کرتا رہتا ہے۔ شکیلہ کی کوشش ہوتی کہ وہ آفاق کی بدسلوکی کا ذکر اپنے والدین سے نہ کرے مگر اب آئے دن کے جھگڑوں سے وہ تنگ آ چکی تھی۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ اس کے موبائل فون پر گھنٹی بجی شکیلہ نے دیکھا تو یہ اس کی ماں کی کال تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے کال سنی شکیلہ سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔ صابرہ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ کیا ہوا تم بول کیوں نہیں رہی خیر تو ہے کچھ تو بتاؤ۔ وہ صرف اتنا بتا سکی کہ آفاق مجھ سے ناراض رہتا ہے۔ دیکھو شکیلہ مجھے پوری بات بتاؤ ہوا کیا ہے وہ چپ رہی۔ صابرہ کو تشویش ہوئی کہ کچھ بات تو ضرور ہے جو شکیلہ مجھ سے چھپا رہی ہے۔ صابرہ نے اپنے خاوند سرفراز سے کہا کہ میں ابھی شکیلہ کے پاس جا رہی ہوں لگتا ہے وہ بہت پریشان ہے اور صحیح طرح سے بات بھی نہیں کر پا رہی۔ جونہی صابرہ اپنی بیٹی کے گھر پہنچی تو شکیلہ دوڑ کر اپنی ماں سے لپٹ کر زاروقطار رونے لگ پڑی۔ ماں نے اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھی تو کہا کہ مجھے تفصیل سے بتاؤ کہ ہوا کیا ہے کیوں تم اتنا رو رہی ہو۔ شکیلہ نے اپنی ماں کو آفاق کی زیادتیوں کی تمام تر تفصیلات بتا دیں۔ صابرہ نے جب یہ باتیں سنیں تو اپنی بیٹی کو کہا کہ تم ابھی میرے ساتھ چلو میں اب تمھیں ایک لمحہ بھی یہاں نہیں رہنے دوں گی۔ میری بیٹی کوئی بکاؤ مال ہے کہ وہ یوں اسے مارتا پیٹتا رہے۔ تم ابھی میرے ساتھ چلو۔ شکیلہ نے کہا کہ آفاق ابھی گھر پر موجود نہیں وہ جب گھر آئے گا تو مجھے موجود نہ پا کر وہ پھر غصہ کرے گا۔ صابرہ نے کہا کہ وہ میں جانوں یا تمھارا باپ۔ شکیلہ اپنی ماں کے ساتھ چل پڑی۔ ماں بیٹی جونہی گھر پہنچیں تو وہ پھر گلے لگ کر زاروقطار روتی رہیں۔ اسی دوران شکیلہ کا باپ سرفراز بھی آ گیا۔ اس نے جب اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھی تو اس سے بھی رہا نہ گیا اور اس کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے۔ صابرہ نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ ابھی اپنے دوست شبیر کو فون کریں کہ ہماری بیٹی سے کیا غلطی ہو گئی ہے کیوں آفاق بلا وجہ ہماری بیٹی پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ سرفراز نے اپنی بیوی سے کہا کہ ابھی تم چپ ہو جاؤ میں کوئی مناسب وقت دیکھ کر شبیر سے ضرور بات کروں گا۔ صابرہ نے کہا کہ اب یہ بات تو طے ہے کہ میں اب اپنی معصوم بیٹی کو اس گھر میں دوبارہ نہیں بھیجوں گی۔ شام کو آفاق گھر آیا تو اپنی بیوی کو موجود نہ پا کر اپنے ایک پڑوسی سے شکیلہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد اس نے شکیلہ کے موبائل پر فون کیا تو دوسری طرف سے صابرہ نے فون سنا۔ آفاق نے پوچھا کہ شکیلہ کہاں ہے میں نے اس سے بات کرنی ہے۔ صابرہ نے غصے سے جواب دیا کہ وہ تم سے بات نہیں کرے گی۔ میری بیٹی نے تمھارا کیا بگاڑا ہے جو تم اس کو بلا وجہ مارتے پیٹتے رہتے ہو اور ساتھ ہی صابرہ نے فون بند کر دیا۔ چونکہ شکیلہ بھی آئے دن کے جھگڑوں اور مار پیٹ سے تنگ آ چکی تھی لہذا اس نے بھی آفاق کا فون سننا مناسب نہیں سمجھا۔ کچھ دنوں کے بعد آفاق نے دوبارہ فون کیا تو نہ ہی صابرہ نے فون سنا اور نہ ہی شکیلہ نے۔ وقتی طور پر دونوں جانب سے رابطوں کا سلسلہ موقوف ہو گیا۔ شکیلہ نے خود کو مصروف رکھنے کے لئیے ایم اے میں داخلہ لے لیا۔ آفاق نے بھی اپنی تمام اضافی سرگرمیاں ترک کر کے خود کو گھر اور دفتر تک محدود کر لیا۔ دن رات کی محنت سے آفاق ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ایک اچھے عہدے پر فائز ہو گیا اور ایک پوش علاقے میں گھر بھی خرید لیا۔ شکیلہ کو اپنے والدین کے گھر رہتے ہوئے تین سال کا عرصہ گزر گیا اس دوران نہ شکیلہ اور نہ ہی آفاق نے ایک دوسرے سے رابط کیا۔ حالانکہ آفاق کا دل چاہتا تھا کہ شکیلہ اب واپس گھر آ جائے مگر شکیلہ خود ذہنی دباؤ کی وجہ سے وہاں جانے سے خوف زدہ تھی۔ دوسری طرف دن رات کی مسلسل محنت، ذہنی دباؤ، رات دیر تک جاگنے اور سوچ و بچار کی وجہ سے آفاق کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ ایک رات آفاق نے کھانا کھایا تو پچھلے پہر اچانک اس کے سینے میں درد محسوس ہوا۔ جب طبیعت زیادہ بگڑنے لگی تو اس نے فوراً اپنے ایک عزیز کو جو کہ اس کے گھر کے پاس ہی رہتا تھا بلایا وہ فوراً آفاق کو قریبی ہسپتال لے گیا۔ ڈاکٹروں نے آفاق کا مکمل معائنہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ اسے دل کا معمولی نوعیت کا دورہ ہوا ہے اور یہ بہتر ہوا کہ آپ اسے بروقت ہسپتال لے آئے ہیں۔ ہم اسے چند دن یہیں رکھیں گے اور دو دن تک مریض کے بہتر علاج معالجہ کی غرض سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ آفاق کے والدین کو بھی اس کی طبیعت کی خرابی سے آگاہ کر دیا گیا وہ بھی اپنے بیٹے کو ملنے ہسپتال پہنچ گئے۔ آفاق کی طبیعت کچھ سنبھلی تو اس نے اپنی ماں سے کہا کہ آپ شکیلہ کو بھی یہاں بلا لیں۔ جیسے ہی شکیلہ کو آفاق کی طبیعت کی خرابی کا بتایا گیا مزید یہ بھی پتہ چلا کہ وہ ہسپتال میں داخل ہے تو وہ فوراً وہاں پہنچ گئی۔ ہسپتال پہنچتے ہی آفاق کی نظر شکیلہ پر پڑی تو وہ اسے دیکھ کر زاروقطار رونے لگ پڑا۔ اسے اب احساس ہو گیا تھا کہ میں نے واقعی اپنی بیوی کے ساتھ بہت زیادتیاں کی تھیں اور ساتھ ہی شکیلہ سے معافیاں بھی مانگ رہا تھا۔ آفاق اپنی بیوی سے کہہ رہا تھا خدا کے لئیے مجھے معاف کر دو۔ میں آئندہ کبھی تمھیں شکایت کا موقع نہیں دوں گا اور ہمیشہ تمھیں خوش رکھوں گا۔ ایک ہفتہ کے بعد آفاق کی طبیعت کافی بہتر ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے کچھ دوائیاں لکھ کر دیں اور چند احتیاطی تدابیر بتا کر ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔ آفاق اور شکیلہ اپنے گھر آ گئے اور ہر حالات میں ہمیشہ ساتھ نبھانے کے عہد و پیمان کے ساتھ خوشگوار زندگی کا آغاز کر دیا۔
سجاد انعام سہارن۔ افسانہ نگار (لاہور۔ پاکستان)

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter