افسانچہ: يہ کشمیر ہے

نذیر جوہر

20 جولائی, 2020
سری نگر کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے باہر آتے ہی یہاں کی خْنک اور یخ بستہ ہواوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا ۔  وہ ٹھٹھر سے گئے اور خْنک ہواوں کا مزا لینے لگے۔ بھوک سے نڈھال دونوں جرمن جوڑے اب کھانے پینے کی چاہ میں ایک اچھے سے ریستوران کی تلاش میں سرگرداں معروف سیاحتی  علاقے  بلیوارڈ روڈ پہنچ گئے۔  نیلے ساکت و جامد شفاف پانی سے لبالب شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کنارے موجود ایک معروف ریستوران میں داخل ہوئے اور اپنا آرڈر پلیس کیا۔  راستے میں سْنسان، شہرِ خموشاں کا نظارہ کرنے کے بعد ، اب وہ کشمیر کے پْر آشوب حالات کے بارے میں گفتگو کرنے ہی لگے تھے کہ ایک ویٹر ان کے قریب آیا اور بِنا کچھ کہے انہیں ایک پلے کارڈ دکھایا۔ ” یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے ” پلے کارڈ پر لکھا تھا۔ ” اوکے او کے ” ایک گول اور کْشادہ میز کے ارد گرد بیٹھے دو جرمن جوڑوں نے باری باری کہا اور اپنا سر اثبات میں ہلانے لگے۔ اس دوران ایک ویٹر ان کے آرڈر کی تعمیل و تکمیل کرتا ہوا مطلوبہ اشیائے خوردونوش میز پر سجانے لگا۔ یہ لوگ  کھانے پینے میں جْٹ گئے اور پلے کارڈ دکھانے والے ویٹر کی مْسمْسی، مبہوت اور روبوٹ جیسی شکل وصورت پر کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔ تبھی وہ پلٹ کر آیا اور انہیں ایک پلے کارڈ دکھایا۔ ” یہاں ہنسنا منع ہے” 
 ” اووو۔۔۔ ۔” جرمن جوڑے اُسے دیکھتے رہے اور  اپنے دیدے گول کول گْھمانے لگے۔ موضوع بدل کر اب وہ کشمیر کی خوبصورتی کے اثر کو لے کر رومانٹک ہوتے ہوئے رومانی باتیں کرنے لگے۔ جبھی پلے کارڈ والا ویٹر پھر نمودار ہوا۔ اْس نے پھر ایک پلے کارڈ دکھایا۔ ” یہاں رومانس کرنا منع ہے ” وہ کارڈ دکھا کر جانے لگا تو  جرمن سیاح ہونقوں کی طرح اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے۔  جبھی وہ پھر کھانےپینے میں مگن ہوئے۔  اس دوراں انہیں کچھ سردی سی محسوس ہوئی تو یہ لوگ یہاں کے موسم کے بارے میں اظہار خیال کرنے لگے جبھی ایک اور پلے کارڈ کی نمائش ہوئی ” یہاں موسمیاتی بحث و تمحیص منع ہے ” 
” پر کیوں۔۔۔۔ ؟” اچانک ایک سیاح چیخا۔
” کیوں کہ یہاں کا موسم تہاں سے طے ہوتا ہے  ” پلے کارڈ دکھایا گیا۔ ” وہاٹ نان سینس۔” اچانک ایک زنانہ سیاح چیخیں۔ پھر سے ایک ڈسپلے ہوا۔ ” یہاں چیخنا چلانا منع ہے ” 
 ” او مائی گاڈ۔۔۔ ”  میز پر موجود زنانہ سیاح زچ ہوکر چیِخیں اور  رونی صورت بنا کر سر تھام کر بیٹھ گئیں۔ پھر ڈسپلے ہوا ” یہاں رونا دھونا منع ہے ” 
” مگر کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟” اچانک وہ سب ایک ساتھ شدید غصے میں چیخے ۔ جبھی ایک اور جلی حروف میں لکھا ہوا پلے کارڈ  نظروں سے گْزرا۔
”   کیونکہ یہ کشمیر ہے  !!!!!!   ”   

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter