رام کہاں کہاں جنمےتھے؛ کون سچا کون جھوٹا؛ نیپالی پنڈت یا ہندوستانی پنڈت؟

ڈاکٹر عبد اللہ فیصل

12 اگست, 2020

نیپال کے وزیر اعظم کے. پی. اولی شرماجن کاپورا نام کھڑک پرساد اولی شرما ہے.انہوں نے ایک کڑک بیان دے کر سب کے کان کھڑے دئیے اور پوری دنیا کو ورطہء حیرت میں ڈال دیا ہے. ہندستاں کی شدت پسند تنظیمیں بوکھلا گئ ہیں ایسا کو ن سابیان ہے کہ سارا سنگھ پریوار بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے. .ایسا بیان جس سے کچھ پارٹیوں کی سیاست اس دیومالائ کہانی سے جڑی ہوئ ہے.اور بی جے پی کے عروج کا دارو مدار رام مندر پر ہے. بی جے پی کے پاس رام مندر کے علاوہ کوئ مدعا نہیں ہے. بی جے.پی مکمل فرقہ پرست پارٹی ہے نفرت تشدد قتل وخونریزی دنگا فساد ہندو مسلم میں منافرت کے سوا ملک کی تعمیر وترقی کا کوئ منصوبہ بندی ہے نہ پلان صرف بیان بازیا ں ہیں.
نیپال کے ایک معروف شاعر بھانو بھکت کی برسی کی تقریب تھی ( بھانو نے والمیکی رامائن کا نیپالی زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا بھانو کی پیدائش 1814 انتقال 1868 میں ہوا ) تقریب میں نیپال کے وزیر اعظم کے پی ا ولی شرما نے کہا کہ ” ہندستان کا اجودھیا رام کی حقیقی سلطنت نہیں ہے رام جی نیپال کے اجودھیا میں پیدا ہوئے تھے جو ضلع بیر گنج میں واقع ہے .فیض آباد والا اجودھیا فرضی ہے.جسے ہندستان نے بعد میں بنایاہے.”
(Real ayodhya lies in nepal Not in india. Lord Ram is Nepali Not Indian Nepali Media quotes Nepal prime minister kp sharma oli)
وزیر اعظم نے دلیل میں کہا کہ "رامائن کے مصنف والمیکی کا آشرم بھی نیپال میں موجود ہے اور راجہ دشرتھ نے بیٹے کے لئیے یگیہ بھی یہیں کیا تھا. راجہ دشرتھ نیپال کے راجہ تھے. سیتا نارائینی (گنڈک ندی)کے کنارے اپنے دونوں بیٹوں لو اور کش کے ساتھ والمیکی کے آشرم میں رہتی تھیں. نارائنی  ندی گنڈک بہار سے متصل نیپا ل کے سرحد پر واقع ہےجہاں عقیدت مندوں کا زبردست ہجوم رہتا ہے.”
نیپال کے وزیر اعظم کے بیان سے ہندستانی سیاست دانوں خاص طور سے بھاجپا اور فسطائ جماعتوں تنظیموں سیاسی پارٹیوں اور فرقہ پرستوں کو زبردست دھچکا لگا ہے. پورا سنگھ پریوار حواس باختہ ہوگیا ہے  اور سادھو سنتوں کے غبارے کی ہوا نکل گئ ہے. فسطائ جماعتوں کے ذمہ داران نے وزیر اعظم شرما پر ذہنی توازن بگڑنے کاالزام لگا یا ہے.

مودی حکومت نے ظلم وجبر تشدد فرقہ پرستی کے ذریعہ اور آستھا کی بنیاد پر دباؤ ڈال کر سپریم کورٹ سے فیصلہ دلوایا ہے. جبکہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کی آستھا کی بنیاد پر فیصلہ نہیں ہوگا.حقوق وملکیت کی بنیاد پر فیصلہ ہوگا. بابری مسجد کی مقدس جگہ پر جہاں مسلمانوں نے صدیوں تک اپنی پیشانی کو ٹیکا ہے نمازیں ادا کی ہیں جہاں سے اللہ اکبر کی صدائیں گونجتی رہیں ہیں جہاں 1528سے لیکر 1949تک پنجوقتہ نمازیں ہوتی رہی ہیں جہاں سے توحید ورسالت کا ڈنکا بجتا تھا. اس پاکیزہ و مقدس مقام کو بتوں ومورتیوں کی آلاءشوں سے ناپاک کر دیا گیا
ایسے موقع پر نیپال کے وزیر اعظم ولی شرما کابیان آیا ہے جب ہندستان کے وزہر اعظم مودی نے 5 اگست کو شیلا نیاس کرنے کا اعلان کیا تھا. مودی کے ہا تھوں شیلا نیاس ہوا بھی. کسی بھی متنازعہ جگہ پر وزیر اعظم کا جانا سنگ بنیاد رکھنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے. مودی نے بھومی پوجن کے وقت جوڈرامہ بازی کی ہے وہ دیکھنے اور سننے کے لائق تھا.
"مارے گھٹنا پھوٹے سر” بات کہاں کی رہتی ہے اور کہاں لے جاکر جوڑ دیتے ہیں. مودی وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی جھوٹ وکذب کا سہارا لینے میں ماہر تھے. اور بعد میں تو جھوٹ کے سہارے پر حکومت ہی چلارہے ہیں. اپنے بیان اورتقریر میں اکثر تاریخی غلطیاں کرتے رہے ہیں. ملک کے کسی بھی ریاست کونے یاعلاقے میں سیاسی، سماجی، تعلیمی، وثقافتی جلسوں کانفرنسوں میں تقریریں کیں یا خطاب کیا تو جھوٹ کا سہارا لیکر ہی سامعین سے تالیاں بجوائ ہیں تاریخی غلطیاں بھی کرنے میں بہت ماہر ہیں صحیح نام بتا نہیں پاتے یہ ان کی جہالت کم علمی اور تاریخ کے ساتھ کھلواڑ بھی ہے.جو مسلمانوں سے تعصب نفرت عداوت بغض اور دشمنی پر مبنی ہے.

مہاتما گاندھی کا زبانی طور پر آدرش ماننے والے مودی گاندھی جی کا روز قتل ہوتے دیکھ رہے ہیں لیکن کوئ ایکش نہ لے کر گاندھی کی توہین سے جیسے متفق ہوں. گاندھی کے قاتل ناتھو رام.گوڈسے کے نظریہ کے لوگ زندہ ہیں اور گاندھی کا روز قتل ہوتا ہے. سنگھ پریوار کی ایک خاتون نےاپنے چند نوجوانوں کو لیکر گاندھی کے پتلے پرگولیاں مارتی ہےاور پتلے کو نذر آتش بھی کردیاجاتاہے. ناتھو رام گوڈسے زندہ باد گاندھی مردہ بادکےنعرے لگتے ہیں .لیکن ان پر کوئ کاروائ نہیں ہوتی ہے.
پورا ملک مختلف مسائل سے دوچار ہے. بہار بنگال سیلاب سے ڈوب رہا ہے. لا کھوں لوگ بےگھر ہوچکے ہیں. ان کا کوئ پرسان حال نہیں ہے.لاک ڈاؤن سے عوام فاقہ پر مجبور ہیں. کاروبار بند ہے چھے 6 ماہ سے لوگ اپنے گھروں میں قید ہیں. مختلف طرح کی بیماریوں نے جکڑ رکھا ہے. لوگ ذہنی مریض بنتے جارے ہیں. خود کشی کر نے کے واقعات میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے. لاکھوں نوجوان بے روزگار ہوچکے ہیں. بچے بلک رہے ہیں عورتوں کی عزت وآبرو محفوظ نہیں ہے.دلتو ں اور مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں مسلم نوجوانوں کو مآب لنچنگ کر کے سوشل میڈیا پر لوڈ بھی کیا جاتا ہے.لیکن ان درندوں قاتلوں کو گرفتاری تک نہیں ہوتی ہے. ملک میں خانہ جنگی جیسی صورت حال پیدا ہوگئ ہے. لوگ دانے دانے کے لئیے ترس رہے ہیں. لوٹ مار چوری ڈکیتی عام ہے. مہنگائ آسمان کو چھو رہی ہےخوردنی اشیاء کی زبردست قلت ہے.علاج ومعالجہ کے لئیء دوائیاں عنقاء ہیں. ہر چہار جانب ہا ہاکار مچی ہوئ ہے لوگ خون کے آنسو رو رہے ہیں. کروڑوں افراد فاقہ کشی پر مجبور ہیں. عوام خود کشی ہر آمادہ ہے.لیکن مودی حکومت عوام کی راحت رسانی کا صرف اعلان ہی کر رہی ہے.رام مندر شیلا نیاس میں سب کو الجھا کر اپنا الو سیدھا کر رہی ہے.رام جنم بھومی پوجن کا اعلان کر کےمودی جی عوام کی توجہ اپنی طرف مبزول کرانا چاہتے ہیں تاکی عوام کا غم وغصہ رام مندر کا مسلہ چھیڑ کر ٹھنڈا کیا جا سکے.
مودی کا ساحرانہ انداز عوام کو سلا دیتی ہے. جیسے مودی ہی”آستھا” بن چکے ہیں وہ کچھ بھی کریں ہندو عوام پر کوئ اثر نہیں پڑتا ہے.اگر کچھ سیاسی وسماجی تنظیمیں آواز بلند کرتی ہیں تو ان کو ملک سے غداری کا الزام گا کر جیل کی سلاخوں میں ڈال دیا جاتا ہے. کیا مودی حکومت کے ظالمانہ فیصلوں کے خلاف آواز اٹھانا ملک سے غداری ہے. کیا گھپلوں گھوٹالوں کے خلاف احتجاج کرنا ملک سے بے وفائ ہے. کتنے لوگ انصاف کی گہار لگانے کے جرم میں جیلوں میں قیدو مشقت کی زندگی گزار رہے ہیں. مودی حکومت سیاسی حریفوں سے زبردست انتقام بھی لیتی ہے. کئ لوگوں کو جیل کی ہوا کھانی پڑی ہے اور مودی کے آمرانہ روئے سے بی جے پی کے کئ لیڈر سیاست سے غائب ہوگئے.انجام سوچ کر سب خاموش رہ جاتے ہیں.
مودی جی نے اپنی ہی پارٹی کے سنئیر لیڈروں (ایڈوانی جوشی) کو سیاسی طور پر زندہ در گور کر دیا ہے.لب کشائ کرنے کی کسی کی ہمت نہیں ہے. مودی سیاہ وسفید کے تنہامالک بن چکے ہیں.
ا گر ان پر یا حکومت کے خلاف کوئ آواز اٹھتی ہے تو فورا اس کا علاج "آستھا ” ہے رام جنم بھومی اور دوسرے موثر ہتھیار چین پاکستان سے جنگی ماحول پیدا کرنا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئیے مودی حکومت کا محوب مشغلہ ہے. اشتعال انگیز بیان دے کر ہندو شدت پسند وں کو خوش کر دیا جاتا ہے. ہندو نیپال کے مابین کشیدہ تعلقات چین کو لیکر تھے ہی اب مزید تلخی پیدا ہوگئ ہے.تعلقات میں کشیدگی بڑھتی ہی جارہی ہے.اترا کھنڈ کے کچھ علاقے کو لیکر دونوں ملکوں میں تلخی بڑھی اور یہ سلسلہ چل رہا ہے. نیپال نے نیا نقشہ جاری کر کے ہندستان کی نیدیں اڑا دیں ہیں نیال کے وزیر اعظم شرما نے رام جنم بھومی کو لیکر ایک بڑا بیان دے دیا جس کی وجہ سے تنازعے میں مزید شدت آگئ ہے.ہندستان کی خارجہ پالیسی ناکام ہے ہمسایہ ملکوں سے تعلقات اچھے نہیں ہیں.ہندستان نے اپنے غلط روئے اور ناقص خاجہ پالیسی سے پڑوسی ملکوں کو ناراض کر رکھا ہے.
نیپال کےرشتوں میں تلخی سے دونوں ملکوں کےعوام کافی تکلیفوں و پریشانوں میں مبتلای ہیں ہندستان کے لوگ بڑی تعداد میں نیپال کے مشہور شہروں میں کاروبار تجارت کرتے ہیں. کاٹھمنڈو بھیرہوا.بٹول. پالپا.پوکھرا. جھنڈا نگر. تولہوا علی گڈھوا. ککرہوا کھنواں وغیرہ جیسے شہروں قصبوں میں اچھا کارو بار کررہے ہیں ان کی معیشت نیپال سے ٹکی ہوئ ہے.
اور اسی طرح نیپال کے لوگ ہندستان میں اچھا کاروبار کرتے ہیں ان کی بہترین تجارت ہوتی ہے.شان وشوکت سے دوکانیں چلتی ہیں. سرحدی علاقے سے لیکڑ پہاڑ ی علاقے تک خوردونوش اور دیگر ضروری اشیاء انڈیا سے ہی لے جاتے ہیں. ہندستان نیپال کی کشیدگی سے دونو ں ملکوں کے عوام پیسے جارہے ہیں اورعوام کو کافی دقتوں و پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے.نیپال کے وزیر اعظم کھڑک پرساد شرما جی کے بیان پر انڈیا کے ہندو آگ بگولہ ہوگئے رام مندر ٹرسٹ کے رکن مہنت وینندرداس نے سخت نوٹس لیا.اور ذہنی بیمار کہا ہے.نیپال میں ہر سال "ویواہ پنچمی” سیتا کی شادی کی رسم منائ جاتی ہے. اجودھیا سے باراتی جنک پور نیپال آتے ہیں.رام کی جائے پیدائش پر ہندو مورخین میں خود شدید اختلافات ہیں کسی نے رام کی جائے پیدائش تاریخ پیدائش کے تعلق سے کچھ نہیں لکھا ہے. والمیکی تلسی داس بھی رام کی تاریخ پیدائش جائے پیدائش پرخاموش ہیں.کوئ ٹھوس ثبوت ہی نہیں ہے کی رام تھے بھی یا نہیں.
رام کی کہانی فرضی اور من گڑھت ہے پانچ ہزار سال قبل کی کہانی بتائ جاتی ہےجس کا حقیقت سے قطعی تعلق نہیں ہے .اس موضوع پر رامائن سیرئیل بھی بنی ہے رامائن شروع ہونے سے پہلے ابتداء میں جو صحیح باتیں نشر ہوتی ہیں کہ یہ رام کتھا ہے کالپنک ہے یہ فرضی کہانی ہے سچائ پر محمول نہ کیا جائے.

کچھ سالوں پہلے ایک شخص نے دعویٰ کیا تھا "کہ رام افغانی پٹھان تھے وہ افغانستان کے اجودھیا میں پیدا ہوئے تھے”

نیپال کے وزیر اعظم کے پی اولی شرما پنڈت جی سچ بولتے ہیں کہ رام نیپال کے اجودھیا میں پیدا ہوئے تھےجو ضلع بیر گنج میں واقع ہے .کہ  ہندستاں کے پنڈت سچ بولتے ہیں.کہ  رام کی جائے پیدائش انڈیا کے فیض آباد اجودھیا ہے.رام جی کی پیدائش پر بہت اختلاف ہے.کسی کے پاس کوئ سچی دلیل نہیں ہے نہ پختہ ثبوت ہے.
سوال یہ اٹھتا ہے کہ رام کہاں کہاں جنمے تھے. سب کا دعویٰ ہےتو سچ کس کو مانا جائے.
کون سچا کون جھوٹا یہ کون طے کرے.؟
مضمون نگار المصباح کے ایڈیٹر ہیں. 98923715177

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter