|| مدارس اسلامیہ اور ہم ||

محمد هارون محمد يعقوب انصارى

30 اپریل, 2019

مدارس و مکاتب کےقیام میں دین ودنیا کی بھلائی کارازمضمر ہے کیونکہ یہاں اسلامی تعلیمات دی جاتی ہیں جس کا عمل دخل انسانی زندگی کے ساتھ براہ راست ہے، انسان کی پیدائش اس دنیا میں اس کورے کاغذ کے مانند ہوتا ہے جس پر جو نقش ونگار کردیا جائے وہی منصہ شہود ہوتا ہے ۔ بلاشبہ نسل انسانی کی تعمیر وترقی اور صالح معاشرہ کی تشکیل اور ارتقاء میں تعلیم وتعلم اور مدارس و مکاتب اور مربیان سمیت والدین کا اہم کردار ہوتاہے۔

بچوں کا پہلا درس گاہ ماں کی گود ہے جہاں وہ اپنی کلکاریوں سے ابو اور امی کہناسیکھتاہے پھررفتہ رفتہ عام بول چال کوسیکھتاہے ماحول کی نزاکت کااثر اس پر ہونے لگتا ہے ، حتی کی عمر میں روز افزوں گراوٹ کے ساتھ ساتھ ہوشمندی کے ناخن لینا شروع کرتاہے پھر درسگاہ ثانی کی طرف ترغیب دلائی جاتی ہے جہاں قوم کے بچے یکجاہوتے ہیں کھیل کود آمدورفت کے ساتھ "الف "با” سیکھنا شروع کردیتاہے پھریہ سلسلہ کچھ عرصہ تک چلتاہے۔ 

حالانکہ ابتدائی ایام میں والدین کو اپنے بچے کے متعلق تجسس رہتی ہے اور شوق بھی مگر یہ شوق جوپروان چڑھ رہا تھا کسی نہ کسی دن باالاتم ختم ہو جاتا ہے اور روزینہ اور بچوں کے روٹن کی طرح مدرسہ آنے جانے لگتا ہے ۔ اور ہم والدین کی توجہ اس کی حرکات و سکنات خواہشات ارادے منشاء اور رغبت سے ہٹ جاتی ہے اور تعلیمی سال کے اخیر میں اچھے رزلٹ کی امیدوابستہ ہوتی ہے، اور یہ عادی بات ہے ہروالدین کو ہوتی ہے مگر….


طفل نوخیز اور مربیان:-

طفل نوخیز وہ سفید ورقہ ہے جس پر جو عکس اتاری جائے وہی دکھائی دےگا، اس لئے عصر حاضر میں جدید اختراع ٹیلیویزن پروگرامس ،سیریلس ، موبائیل اور دیگر الکٹرانک مخرب اخلاق وسائل سے حددرجہ دور رکھا جائے، گھر کا سازگار ماحول ، صفائی ستھرائی ماں باپ کاآپسی ملنسارانہ رویہ گفتار میں نرمی نہ صرف گھر کے ماحول اور تزئین کو فروغ دیتا ہے بلکہ اس کا مثبت اثر طفل نوخیز پر پڑتاہے۔

المیہ:-

دور جدید میں یہ بات باعث فخر سمجھی جاتی ہے کہ میرا نونہال بچہ جب رونے پر آجاتاہے تو اسے موبائیل پکڑادو چپ ہو جاتا ہے،اسے موبائیل گیم یا موبائیل میں ڈاؤنلوڈ پروگرامس یا فلمی نغمات کے چلانے سے رونا بند کردیتاہے ، ٹیلیویزن کے شوچلانے پر چپ ہوجاتاہے وغیرہ وغیرہ… جبکہ ہمیں یہ خیال بالکل نہیں ہوتا ہے کہ بچے کے رونے کی وجہ کیاہوسکتی ہے اس پر ہم غور وفکر نہیں کرتے حالانکہ وہ بچہ دنیاوی گفت وشنید سے نابلد ہوتا ہے تکلیف کے ہونے پر اپنے تکلیف کو زبان کیا ہاتھ سے بھی نہیں بتاسکتا اور ہم اسے فضولیات میں لگاکر اس کے کرب والم سے کوسوں دور چلے جاتے ہیں۔ اور بچہ گھٹ گھٹ کر معصومیت سے ٹکٹکی باندھ کر ادھر ادھر نظریں دوڑاتا رہتا ہے بالآخر چپ ہوجاتاہے اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ میرا بچہ کتنا عقلمند ہے کہ مذکورہ چیزوں کے دینے پر چپ ہوگیا اور خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے۔

پرورش:-

خاندان،گھر،سماج معاشرہ کی فلاح وبہبود اور ترقی  کے لئے ضروری ہے سبھی افراد یکجہتی کا ثبوت پیش کرکے صالح معاشرہ کو تشکیل دیں اور یہ تب ہوگا جب ہم خود تربیت یافتہ ہوں،
ننھے پودے بہت کمزور ہوتے ہیں لیکن رفتہ رفتہ پختہ بھی ہوجاتے ہیں اور انکے ابتدائی دنوں میں انہیں جس طرف موڑناچاھیں بآسانی مڑ سکتے ہیں لیکن جب بڑے ہیکل توانا درست ہوجاتے ہیں تو ممکن نہیں ہوتا۔بعینہ طفل نوخیز کا معاملہ ہوتا ہے

طفل نوخیز کی تربیت، تعلیم ،پرورش، پرداخت کی ذمہ داری والدین کی ہوتی ہے پھر ذمہ داری مدارس کی ہوتی ہے لیکن اس سے زیادہ بچوں کی تربیت کا انحصار صالح معاشرہ پر ہوتا ہے جسے ہم یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ بچوں کے لہوو لعب کا مرکز پڑوس کے ہم جولیوں سے براہ راست پڑتا ہے اور چند ساعت کی یہ لہو ولعب دن بھر کے محنت پر غالب ہو جاتی ہے اس لئے صالح معاشرہ کا کردار بھی اہم ہوتاہے۔
یہ حقیقت ہے کہ صالح معاشرہ کی تشکیل کے لئے کسی ایک کو پہل کرنا ہوگا اور رفتہ رفتہ لوگ اس میں شامل ہوتے جائیں گے اور ایک دن ایسا بھی آئے گاکہ معاشرہ سے مخرب اخلاق جرائم کاانسداد ہوگا اور بچوں کے اندر شعورواگہی پیدا ہوگی اور چند سالوں کی کاوش کے بعد سرپرستوں کو زیادہ محنت کرنے ضرورت نہیں پڑےگی۔

درسگاہ اول:-

طفل نوخیز کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتا ہے جہاں سے دنیاکے زبان کوسیکھتاہے اور اپنے خواھشات بموجب مافی الضمیر کو ادا کرنے کی جستجو کرتاہے 

درسگاہ ثانی:-

بلاشبہ درسگاہ اول کے بعد طفل نوخیز کے لئے درسگاہ ثانی مدرسہ ہی ہوتا ہے اور عام بات ہے جسے ہرکوئی واشگاف ہے ۔ اس لئے بچوں کو مدرسہ جانے کا عادی بنائیں اور انہیں اپنے ہمراہ لائیں اور لے جائیں ۔ بچوں کے دن بھر کے مدرسہ کے اوقات کا اپنے دل میں محاسبہ کریں کہ ہمارا بچہ کیاسیکھ رہاہے پروگریس کتناہے۔

معا مدرسہ پر جاکر کچھ وقت دیں جس سے بچے کے اندر پختگی آئے اساتذہ اور مربیان سے تبادلئہ خیال کریں صفائی ستھرائی کا خاص پاس ولحاظ رکھیں کیونکہ بچوں کے مستقبل اور اسکے اذھان وقلوب پر اس کااثر مرتب ہوتاہے۔ روزینہ کا معمول بنائیں اور اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھیں اسلامی قصے کہانیاں بھی سنائیں اور اسی دوران بچوں کے روزینہ کدوکاوش کا محاسبہ بھی کریں۔

اساتذہ کی نگرانی اور ہم:-

اکثر مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ بچہ مدرسہ جانے سے کتراتا ہے چہ میں گوئی کرتاہے مدرسہ کے علاؤہ کہیں اور جانے پر خوش ہوتا ہے لیکن مدرسہ کے نام سے اسکے اندر ایک قسم کی جلن پیداہوجاتی ہے اور ہم بلا سوچے سمجھے اس پر تشدد کرنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ غلطی بچے کے زندگی کو پرخطر اور مستقبل کو تاریک بنادیتی ہے۔

ایسے میں ہمیں کیا کرنا چاھئے:-

جب ہم ایک ذمہ دار سرپرست ہیں تو ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ حالات کے نزاکت کو سمجھیں اور بچوں کے حرکات و سکنات اور خواھشات کومدنظر رکھیں یہ تب ہوگا جب آپ اپنے آپ کو ایک ذمہ دار باپ کی حیثیت سے اپنے آپ کو کسوٹی پر رکھ کر کھرااترنے کی کوشش کریں گے تب نہیں تو سطور بالا میں مذکور بچوں کی بے رغبتی پر تشدد ظلم ہی کریں گے اور بچوں کی ادنی غلطی کے سرزد ہونے پر اس کی زندگی کھلواڑ کرجائیں گے اور بچوں پر تشدد جبر استحصال ایک سم قاتل ہے جس پر آپ کو روک لگانی ہے۔

تدابیر:-

جب آپ کا بچہ مدرسہ سے متنفر ہوجائے، مدرسہ جانے سے کترائے، اسکول کا نام سننے سے چڑھے جانے میں ٹال مٹول کرے تو آپ کا فریضہ بنتاہے کہ بچے کو اس کی حالت پر چھوڑ کر مدرسہ کا رخ کریں اور مدرسہ میں متعین اساتذہ صدر مدرس سے بچہ کے حرکات و سکنات اور عدم رجحان پر تفصیلی تبادلئہ خیال کریں کیونکہ وہاں ان سے انکا حل ملے گا اور مربیان سے شائستگی سے بات کریں اور جو مربی آپ کے بچے کے لئے مقرر ہے ضروری ہے کہ اس سے بھی تبادلئہ خیال کریں پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ کہاں پر کمی ہے جس کی وجہ سے بچہ اپنی زندگی کو تاریک کرنے کرنے کی ضد پر اڑاہواہے۔
کبھی کبھار کیااکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ راستہ میں شیاطین بچوں کی زندگی سے کھیلنا شروع کر دیتے ہیں اور احساس تک نہیں ہوتا اور وہ اپنے کام نہایت سرد مہری کے ساتھ کرتے رہتے ہیں حتی بچہ مدرسہ کی زندگی سے آزاد ہوجائے۔


ایسے میں ہم اپنی لاعلمی میں خود کی ہوئی غلطی کا خمیازہ بھگتتے ہیں کیونکہ ہم :-

بچوں کو مغرب کی اذان کے بعد گھر کے باھر آنے جانے کی اجازت دیتے ہیں جس کی ممانعت اسلام نے کی ہے کیونکہ اس وقت شیاطین وخبیث گلیوں کا چکر لگاتے ہیں اوررات میں بچوں کو پریشان کرتے ہیں۔
گھر سے جب ہم بچوں کومدرسہ بھیجتے ہیں تو ان پر دم کرکے نہیں بھیجتے اور نہ ہی انہیں دعاء پڑھ کر نکلنے کی تلقین کرتے ہیں کہ بچہ صحیح سالم رہے اور اوباش ومدمعاش شیاطین سے محفوظ رہے۔
آج کے اس دور میں درسی اوقات میں  اساتذہ کی توجہ بچوں پر کم فضولیات پر زیادہ رہتی ہے۔ پڑھاتے کم مارتے زیادہ ہیں تربیت کم خدمت شہنشاہوں جیسا مختصرا۔

ضروری نہیں کہ ہر بچہ جو مدرسہ میں زیر تعلیم ہو وہ اساتذہ کی خادمہ یا خادم اور بیوی کی طرح خاطر داری کرے بچے چھوٹے ضرور ہوتے ہیں مگر حساس اور غیرت مند بھی ہوتے ہیں ممکن آپ کا بچہ ان خوبیوں کا مالک ہو جن سے آپ براہ راست واقف نہیں اس لئے مدرسہ جانے سے بھاگتاہو۔

  • ہوسکتاہے کہ بچہ پڑھنے میں کمزور ہو اور اس کمزوری پر چھڑی زیادہ گرتی ہو
  • ہوسکتاہے بچہ سبق یادکرتاہو مگر خوف ودہشت سے سبق سناتے وقت بھول جاتاہو اور مار پڑتی ہو
  • ہوسکتاہے بچہ ذہین ہو مگر استاذ کے پڑھانے کے طریقے سے متفق نہ ہو
  • ہوسکتاہے استاذ کے پڑھانے کا طریقہ نہ ہو اور بچہ کے ذہن سے بات اڑ جاتی ہو
    الغرض کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جس سے آپ لاعلم ہیں اور اس کا انکشاف تب ہوگا جب آپ بچہ مدرسہ مدرسین سے مل کر تبادلئہ خیال کریں گے 
    پھر اپنے بچے کے اندر اصلاح پیداکریں یا مدرسہ کے انتظامیہ سے بات کرکے طرز تعلم کو درست کرنے کی بات کریں وغیرہ وغیرہ۔


مدراس کا المیہ:-

مدارس ایک خیراتی ادارے ہیں یہ بات اس لئے میں کہہ رہاہوں چونکہ ہماری سوچ یہیں پر ختم ہوتی ہے۔ہم مستطیع ہونے باوجود غیر مستطیع زبردستی بن جاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ بچے کو فری کی تعلیم دلاکر ملک کے سب سے اعلی عہدے پر فائز کرادیں گے تو یہ ہمارا حماقت ہوگی۔ 
ذہن وہی اور اس حد تک ہی کام کرتاہے جس حد تک ہم اس کو وسعت دیتے ہیں 
المیہ کی ذیلی اس لحاظ سے مناسب معلوم ہوا کہ مدارس کو ہم خیراتی ادارہ سمجھ لئے ہیں جس پرہم اپنا تصرف نہیں کرتے مدرسہ دیوالیہ کاشکار ہو یا اور کچھ اس سے ہمارا کا کوئی واسطہ نہیں ہمیں مطلوب مدرسہ کا روز کھلنا مدرسین کی حاضری بچوں کا اسکول جانا اور بس کچھ نہیں….
کہتے ہیں کہ شکر جتنی زیادہ پڑتی ہے مٹھاس اتنی ہی بڑھتی ہے کبھی ہماری توجہ اس جانب مبذول نہیں ہوئی جبکہ ہمیں بخوبی اندازہ ہے کہ ہم اس ادارے کو فری نگاہوں سے نہ صرف دیکھتے بلکہ اعانت کرنے سے پرہیز بھی کرتے ہیں فصلی زکوت وخیرات سے بھی نہیں نوازتے اگر دینا بھی پڑا تو ہزار باتیں سناکر بھیکاریوں کی طرح پیش کرتے ہیں اور یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہم نے دے کر بہت بڑا احسان کردیا۔ راقم جوبات کہناچاھتا ہے شاید مذکورہ بالا سطور سے المیہ کا ظہور ہوچکا ہوگا لیکن کبھی کبھار حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صراحتا لکھنا ضروری ہوتا اور پردہ چاق کرنا بھی۔

ہم اپنے گریبان کو چاق کرنے کے بجائے دوسروں کے گریبان کو چاق کرنے کی فراق میں لگے رہتے ہیں بچوں کی تعلیم متاثر کیوں ؟ اس پر دھیان نہیں دیئے بس بچہ جاتاہے مگر اتا نہیں اس پر دھیان زیادہ ہوتاہے، تو آئیے ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں پھر المیہ کا پتہ چلےگا۔

  • مستطیع ہونے کے باوجود غیر مستطیع بننے کا نوٹنکی خود آپ کے بچوں کو نوٹنکی باز بناتاہے
  • ماھانہ چند سکوں کے عوض مدرس کی خریداری جو کہ نہ کھانے کے لئے کافی نہ ہی گھر چلانے کے لئے30/31دن 24 گھنٹے حاضری اس پر بھی احسان جتلانے کی کوشش
  • وقت پر تنخواہ کی عدم ادائیگی اور مانگنے پر زجروتوبیخ وغیرہ وغیرہ
  • نصف سال کے تنخواہ کی بمشکل ادائیگی اور رمضانی چندہ چنود کرکے لینے کا انتباہ
  • مشکل حالات میں مساعدہ کی عدم حصولیابی پر کشکول گدائی
  • اپنے مالی تعاون کا تصرف غلط اور مدرسہ سے بے اعتنائی
    پھر اندازہ لگائیے کہ المیہ درس وتدریس میں رہےگا یانہیں؟
  • اساتذہ پر ڈیکٹیٹرانہ نظام جس کے مرتکب براہ راست بچے ہوتے ہیں

مدارس تعلیم گاہ یا تجارتی مراکز

یہ بات بڑی عجیب سی لگتی ہے کہ مدارس کو تعلیم گاہ نہ کہہ کے تجارتی مراکز کے نام سے موسوم کیاجائے راقم کو یہ جملہ ناگوار تو لگ رہاہے مگر سچائی کا درپن دکھانا بھی بہت ضروری ہے کیوں اس چبوترے سے تربیت پاکر نکلنے والے بچے کل قوم و ملت اور ملک کے معمار ہونگے بڑی بڑی ذمہ داریاں انکے ناتواں کندھوں پر رکھی جائے گی دین و ایمان کے ساتھ قوم وملت اور ملک کی خدمت کرنی ہوگی یہ نہ صرف ایک نسل کی آبیاری کریں گے بلکہ آنے والی نسل کے لئے بھی مثبت قدم اٹھائیں گے ، معاشرتی خرابیوں کا قلعہ قمع کریں گے اور انکو سچی وحدت کاراستہ دکھائیں گے گویا کہ انہیں کے ہاتھوں میں صالح معاشرہ کی تشکیل کرنے کا زمام ہوگا ، تب ایسے حالات میں ہم افراد قوم کو ان نونہالوں کے متعلق نہایت  سنجیدگی کے ساتھ سوچناچاھئے ۔ کہ انکی تربیت گاہ کو کس طرح منظم کیاجائے کہ اس خاک سے تیار ہونے والے مجسمے گلدان میں سجیں گے گلوں کا ہار بنیں گے انکی گلپوشی کی جائے۔پر صد افسوس آج کے چند نام نہاد قرطاسی مدارس و مکاتب نے صحیح سمت جارہے راھگیروں کے راستہ کو کتر دیاہے اور دنیاوی حرص و طمع کا خواب دکھادکھاکے انکو بھی اپنے دامن گرفت میں لے لیاہے۔

قیامت قریب ہے اس کی سب سے بڑی نشانی جہال کا مدارس و مکاتب پر جاگیر دارانہ تسلط، ڈکٹیٹر شپ نظام کا نفاذ ہے جنہیں عقل سلیم نہیں ، فہم وفراست سے عاری ہیں  علم و حکمت سے نابلدی اور  صدق و کذب کے مابین تفریق کرنے کی اہلیت سے پیدل ہیں وہی آج قوم وملت کی سربراہی کررہے ہیں اور اپنے اوچھے جاہلانہ افتاء سے نہ صرف قوم کو گمراہ کررہے ہیں بلکہ نونہالوں کی زندگی سے کھیل رہے ہیں۔ درحقیقت انکا مطمح نظر قومی خزانے سے اپنے جیب کو بھرنا نام کے سامنے ٹائیٹل آویزاں کرنا سرکاری نیم سرکاری اور داخلی وبیرونی آمدنی کا ناجائز تصرف ہے۔اس کے علاؤہ کچھ نہیں۔

گویا کہہ دیاجائے کہ اب تعلیمی مراکز کو قوم کے سرکردہ حضرات نے جنہوں ان پر غاصبانہ تسلط جمارکھاہے زکوت وخیرات اور عطیات جمع کرکے شاہانہ خرچ کرنا ہے نہ کہ تعلیمی میدان میں سدھار اور سدھار کیسے جب اس اہلیت صلاحیت کے مالک ہونگے تب تو نہیں تو لوٹ کھسوٹ کے سوا قوم کو کچھ حاصل نہیں ہے اس لئے آج کے مدارس تعلیم گاہ کم تجارتی منڈی زیادہ بنے ہوئے ہیں۔اللہ ھدایت دے آمین

اساتذہ بے راہ رو کیوں؟

آج جبکہ غرباء اور نادار ومساکین کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے مالداری کا تناسب بڑھ چکا ہے ہرکسی کے پاس بینک بیلنس  تجارت اور دیارغیر میں نوکری اس لئے معاشرتی برائیاں یک لخت ہمارے۔ گھروں میں داخل ہوچکی ہیں اور اپنے کو۔ اسٹینڈرڈ لائف والے۔ تصور کرتے ہیں۔اس کے بالمقابل اساتذہ ماہ کے 31 دن روزینہ کے 24 گھنٹے صف بست لائن حاضر ہوتے ہیں انکی تنخواہیں دال میں نمک کے برابر ہوتی ہےجس سے ایک گھر چلانا مشکل ہے، دواعلاج ، دیگر اخراجات دیگر حقوق شادی بیاہ کی بات چھوڑیں۔۔۔ لیکن ایک ناظم جس کی حیثیت چند دن قبل عام  تھی وہی جب اپنے یہاں تقریبات کاانعقاد کرتاہے پھر دیکھنے والے عش عش کرتے ہیں آخر کیسے ؟ ایک مولوی اتنا بڑاجاھل اور عقل سے پیدل نہیں ہوتا کہ وہ اس بات کا ادراک نہ کرسکے۔ جب اساتذہ کی بات آتی ہے تو منتظمہ کمیٹی رونے دھونے لگتی ہے اور ذاتی مصروفات کی بات آئے تو آن بان۔ تو ظاہر بات ہے کہ دوخرابیاں لازم آئیں گی

 
1:- درس وتدریس سے بے رغبتی

2:- کھیت میں پانی چلانے سے مطلب وہ کہیں بھی جائے (تجاہل عارفانہ) 

جب انکے ساتھ ذمہ داران مدارس دوہرا سلوک کرتے ہیں اور کماحقہ حق المحنہ ادا نہیں کرتے تو ظاہر بات ہے مدرسوں پر حاضری ضرور ہوگی مگر تعلیم نہیں۔ اب توذمہ داران مدارس تقرری کے وقت دو چیزوں کو فوقیت دیتے ہیں 

1:-۔  اقرباء پروری

2:-۔ چندہ کرنے کی صلاحیت ہے کہ نہیں

بہر کیف چندہ کوئی معیوب فیصلہ نہیں کیونکہ اسی سے مدارس چلتے ہیں لیکن فی الحال تقرری کے وقت اس بات دیکھنا غیر مناسب ہے کیونکہ اب فیس لیکر تعلیم دیا جاسکتا ہے جو بیحد سود مند ثابت ہوگا اور اساتذہ کو رمضان المبارک کے متبرک ماہ میں بحالت روزہ در در کے ٹھوکر کھانے سے بچانا منتظمین کی ذمہ داری ہے۔ یہ تب ہوگا جب ہم بچوں کے سرپرستوں کو فیس کا مکلف بنائیں گے، اور وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ ہم ارباب مدارس کی توجہ داخلی اور خارجی آمدنی پر ٹکی ہوئی ہوتی ہے

ایک رسم سوء برسوں سے چلی آرہی ہے کہ ہم زکوت وصدقات وخیرات کو بٹورنے کے لئے اہل ثروت کے پاس بھیجتے ہیں جواگر منکسرالمزاج ہے تو عزت وافزائش کے ساتھ مدرسہ کی اعانت کرتاہے لیکن اگر اسکے دائرے محدود ہیں تو بھیکاریوں کی طرح ایک عالم دین کو دھتکار دیتا ہے یاچند کھری کھوٹی باتیں سناکر واپس الٹے پاؤں لوٹنے پر مجبور کردیتاہے۔ جواس بات کااحساس دلاتا ہے کہ مدارس کا وجود اسی سے ہے نعوذباللہ ذلک

کہتے ہیں کہ

درحقیقت مدارس  اللہ جل شانہ کے خاص کرم اور نوازش سے وجود میں آتے ہیں کیونکہ یہاں سے قال اللہ اور قال الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صدائیں پوری دنیامیں جاتی ہیں ۔ یہیں سے صالح معاشرہ کی تشکیل کاری ہوتی ہے اور دین کی باتیں عام ہوتی ہیں۔

ایک بات قابل غور ہے کہ مدارس و مکاتب کے ترقی اور تنزلی کا راز نیت پر ہوتا ہے جیساکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے

انما الاعمال بالنیات صحیح بخآری ومسلم

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter