مملکتِ سعودی عرب نے اپنی سرزمین، شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے معاملے میں ایک بار پھر واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا ہے۔ کسی بھی ریاست کی خودمختاری اور اس کی شہری آبادی کو نشانہ بنانا محض بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔
حالیہ کشیدگی اور میزائل و ڈرون حملوں کے تناظر میں سعودی عرب اور دیگر انصاف پسند ممالک نے شہریوں اور آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے اور اس امر پر زور دیا ہے کہ جنگی کارروائیوں میں بے گناہ شہریوں کو نقصان پہنچانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ مملکتِ سعودی عرب کا واضح موقف ہے کہ اختلافات اور تنازعات کا حل طاقت، دھمکی اور حملوں کے ذریعے نہیں، بلکہ سفارت کاری، گفت و شنید اور پُرامن ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔
سعودی عرب کا موقف محض اپنی سرحدوں اور شہریوں کے دفاع تک محدود نہیں، بلکہ مملکت ہمیشہ خلیجی اور عرب خطے کے امن و استحکام کو بنیادی اہمیت دیتی آئی ہے۔ خطے میں کشیدگی کا دائرہ وسیع ہونے سے نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے خطے کی سلامتی، معیشت اور عوامی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔
مملکت نے اس حقیقت کی بھی نشاندہی کی ہے کہ شہری مراکز کو نشانہ بنانے والے حملے انسانی جانوں کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ ایسے اقدامات خوف و ہراس کو جنم دیتے اور بنیادی شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے امکانات بڑھاتے ہیں۔ اسی لیے سعودی عرب شہریوں کے تحفظ اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کو علاقائی امن کی بنیادی ضرورت قرار دیتا ہے۔
مملکتِ سعودی عرب اپنی سرزمین، عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے؛ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ سعودی قیادت مسلسل اس امر پر زور دیتی رہی ہے کہ خطے کو مزید کشیدگی اور تصادم سے نکالنے کے لیے سیاسی و سفارتی راستے اختیار کیے جائیں۔
اسلامی تعلیمات بھی ظلم و زیادتی سے اجتناب اور حدود سے تجاوز نہ کرنے کی واضح ہدایت کرتی ہیں۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾
یعنی: "اور زیادتی نہ کرو، بے شک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
یہی اصول سعودی عرب کے عمومی سفارتی موقف میں بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے کہ دفاع اور تحفظ کا حق اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن شہریوں کو نشانہ بنانا، جارحیت کو فروغ دینا اور تنازعات کو مزید وسعت دینا کسی بھی طور خطے کے مفاد میں نہیں۔
مملکتِ سعودی عرب کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ اس کی سرزمین پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس ترین مقامات واقع ہیں، جہاں ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان عبادت اور زیارت کے عظیم مقصد کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ چنانچہ حرمین شریفین کی سرزمین کا امن و استحکام پوری امتِ مسلمہ کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
آج مشرقِ وسطیٰ کو جنگی کشیدگی اور تصادم کے بجائے امن، استحکام، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب کا اعلان کردہ موقف یہی ہے کہ ریاستوں کی خودمختاری کا احترام، شہریوں کا تحفظ اور تنازعات کا پُرامن حل ہی خطے کو مزید بحرانوں سے محفوظ رکھنے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
حرمین شریفین کی سرزمین کا امن، سعودی عرب کی سلامتی اور خطے کا استحکام—یہ تینوں باہم مربوط ہیں۔ ان کے تحفظ اور بقا کے لیے امن و اعتدال کی راہ ہی دیرپا حل کی مضبوط بنیاد بن سکتی ہے۔
اگر اسے اخباری کالم کے لیے مزید پُرجوش، مؤثر اور ادبی رنگ دینا ہو تو عنوان اور ابتدائی پیراگراف کو مزید طاقتور بنایا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ مملکت توحید سعودی عرب کو ہر قسم کے شر، فتنہ و فساد، آفات و مصائب سے محفوظ فرمائے، حرمین شریفین کی حفاظت فرمائے، سرزمین حرمین کو امن و امان، استقرار و خوشحالی سے نوازے اور توحید و سنت کا علم ہمیشہ سربلند رکھے۔ آمین یا رب العالمین
آپ کی راۓ