خلیجی امن کو درپیش خطرات اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری

قمر الدين رياضي

24 جولائی, 2026

خلیجی خطہ ایک بار پھر کشیدہ حالات سے دوچار ہے، اور بڑھتی ہوئی جارحیت و سیاسی کشمکش نے پورے عالمِ اسلام کے لیے تشویش کی نئی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ ایسے نازک وقت میں خلیجی ممالک کا اپنے دفاع، قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے متحد ہونا ایک فطری اور ناگزیر اقدام ہے۔ کسی بھی ملک کی خودمختاری کی پامالی اور بے گناہ انسانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے، کیونکہ اسلام ظلم و زیادتی کی ہر شکل کو مسترد کرتا ہے۔
سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی امتِ مسلمہ کے لیے دینی، انسانی اور فلاحی خدمات بھی مسلمہ ہیں۔ حرمین شریفین کی خدمت اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی مختلف شعبوں میں اعانت ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہے۔ اس لیے خلیجی ممالک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی کوئی بھی کوشش پورے عالمِ اسلام کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ مسلم ممالک باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کی سلامتی و خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔ اہلِ علم، دانشوروں اور ذمہ دار طبقات کو بھی چاہیے کہ وہ اشتعال انگیزی اور افواہوں کے بجائے حکمت، بصیرت اور اعتدال کو فروغ دیں۔ آج امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی ضرورت باہمی اتحاد، امن پسندی اور ظلم و جارحیت کے خلاف اصولی موقف ہے؛ کیونکہ متحد اور منظم امت ہی اپنے اجتماعی مفادات اور خطے کے امن کا مؤثر تحفظ کر سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلم ممالک کو امن و سلامتی عطا فرمائے، امتِ مسلمہ کو باہمی اتحاد و اتفاق نصیب کرے، ظلم و جارحیت کا خاتمہ فرمائے اور حرمین شریفین سمیت تمام اسلامی ممالک کو ہر قسم کے شر و فتنہ سے محفوظ رکھے-آمین یارب العالمین

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter