ننھی گریما کے غم نے وزیر داخلہ کو بھی زمین پر بٹھا دیا؛ والدین کی فریاد سننے کے لیے انسانیت آگے رہی
مولانا مشہود خاں نیپالی
کٹھمنڈو -کبھی کبھی ایک تصویر سیکڑوں الفاظ سے زیادہ گہرا اثر چھوڑ جاتی ہے، اور ننھی گریما چودھری کے غم میں ڈوبے والدین کے ساتھ پیش آنے والا یہ منظر بھی ایسی ہی ایک دل کو چھو لینے والی تصویر ہے۔ بارا کی جیت پور سمرا اپ مہانگر پالیکا-1 کی تین سالہ معصوم بچی گریما کے المناک قتل کے بعد جب اس کے والدین انصاف کی فریاد لے کر حکومت کے سامنے پہنچے تو وزیر داخلہ سدھن گرونگ نے عہدے اور منصب کا فاصلہ مٹاتے ہوئے زمین پر بیٹھ کر غمزدہ والدین کی فریاد سنی۔
یہ منظر محض ایک سرکاری ملاقات نہیں، بلکہ درد، انسانیت، احساس اور انصاف کی امید کی ایک خاموش داستان بن گیا۔ ایک طرف اپنی معصوم بیٹی کو کھونے والے والدین کے چہروں پر غم کی گہری پرچھائیاں دکھائی دے رہی ہیں، تو دوسری جانب وزیر داخلہ سدھن گرونگ ان کے سامنے زمین پر بیٹھ کر ان کی بات سنتے نظر آ رہے ہیں۔
گریما کے والدین کے لیے یہ کوئی معمول کی ملاقات نہیں تھی۔ وہ اپنی تین سالہ معصوم بیٹی کی دردناک موت کے بعد دل میں بے شمار سوالات، آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر صرف ایک فریاد لیے حکومت کے دروازے تک پہنچے تھےان کی بچی کو انصاف ملنا چاہیے۔ ایسے کربناک لمحے میں وزیر داخلہ کا زمین پر بیٹھ کر ان کی بات سننا وہاں موجود ہر حساس دل کو چھو لینے والا منظر بن گیا۔
یہ تصویر ایک خاموش پیغام بھی دے رہی ہے کہ عہدہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، ایک غمزدہ ماں باپ کا درد اس سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔ وزیرِ داخلہ کا ان کے سامنے بیٹھنا اس احساس کی عکاسی کرتا ہے کہ اقتدار کی اصل معنویت اسی وقت ہے جب وہ بے بس اور غم زدہ انسان کے قریب پہنچے، اس کی آواز سنے اور اس کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کرے۔
ننھی گریما اب اس دنیا میں نہیں، لیکن اس کی معصومیت، اس کے والدین کا درد اور انصاف کے لیے ان کی فریاد پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ حکومت اور متاثرہ خاندان کے درمیان ہونے والے تین نکاتی معاہدے کے بعد سنگین جرائم سے متعلق موجودہ قانونی دفعات اور سزاؤں کا ازسرنو جائزہ لینے، ضروری قانونی اصلاحات کے لیے سفارشات پیش کرنے اور متاثرہ خاندان کے مطالبات کو آگے بڑھانے کا راستہ ہموار ہوا ہے۔
معاہدے کے تحت قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی وزارت سات رکنی ’گریما انصاف عزم کمیٹی‘ تشکیل دے گی، جو سات دن کے اندر اپنی تجاویز اور سفارشات سمیت رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاندان کی خواہش کے مطابق ننھی گریما کی یاد میں یادگار تعمیر کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی وزارت مقامی حکومت کے ساتھ رابطہ اور تعاون کرتے ہوئے ضروری پہل کرے گی۔
گریما کے والدین کو اپنی روایات اور رسم و رواج کے مطابق اپنی معصوم بچی کی آخری رسومات ادا کرنے کے معاملے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ یوں حکومت اور متاثرہ خاندان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ نہ صرف انصاف کے عمل کو آگے بڑھانے بلکہ غمزدہ خاندان کے مطالبات اور جذبات کا احترام کرنے کی سمت بھی ایک اہم قدم ہے۔
زمین پر بیٹھے وزیر داخلہ سدھن گرونگ اور سامنے غم سے ٹوٹے ہوئے گریما کے والدین یہ تصویر صرف ایک ملاقات کی تصویر نہیں، بلکہ انسانیت، احساس اور انصاف کی امید کی ایک ایسی خاموش آواز ہے جو بہت دور تک سنائی دیتی ہے۔
ننھی گریما واپس نہیں آ سکتی، لیکن اگر اس کے نام پر انصاف کا نظام مزید مضبوط ہوتا ہے، سنگین جرائم کے خلاف قانون مؤثر بنتا ہے اور مستقبل میں کسی اور معصوم کی زندگی ایسے ظلم کا شکار ہونے سے محفوظ رہتی ہے، تو یہی اس معصوم بچی کے لیے سب سے بڑا خراج عقیدت ہوگا۔مولانا مشہود خاں نیپالی
آپ کی راۓ