جب وقت خود سپاہی بن جائے! مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ایرانی حکومت کا رویہ کے تناظر میں

ابوحماد عطاء الرحمن مدنی مرکز الفرقان الاسلامی، جنکپور دھام

24 جولائی, 2026

مشاہدہ اور تجربہ کا سب سے پرانا سبق یہی ہے کہ تیز بہنے والا پانی جلدی سوکھ جاتا ہے۔ بلند شعلہ ایندھن نہ ملنے پر بجھ جاتا ہے۔ اور جو زیادہ اچھل کود کرے وہ تھک کر سب سے پہلے بیٹھ جاتا ہے۔ آج خلیج کی سرزمین پر یہی قانون اپنی آنکھوں سے نظر آ رہا ہے۔
ایران اس وقت ایک ساتھ کئی آگوں میں جل رہا ہے۔ سامنے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کی مسلسل بمباری ہے۔ پیچھے اپنی معیشت کا بوجھ ہے۔ چاروں طرف پابندیوں کا گھیرا ہے اور اندر عوام کی بے چینی ہے۔ ہر میزائل جو وہ داغتا ہے، ہر نعرہ جو وہ لگاتا ہے، اس کے ساتھ اس کی اپنی طاقت کا ایک حصہ بھی خرچ ہو رہا ہے۔ تیز حملہ کرنے والا اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ حملے کے ساتھ دفاع کی طاقت بھی کم ہوتی ہے۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ عرب ممالک نے بارہا ایران کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ سفارتی تعلقات بحال کیے، اقتصادی راہیں کھولیں، اور خطے کے استحکام کے لیے دروازے کھلے رکھے۔ لیکن ایران آج بھی اسرائیل اور امریکہ سے زیادہ عرب ممالک کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔
دوسری طرف خلیجی ممالک ہیں۔ ان کے پاس آج کمی کس چیز کی ہے؟ جدید ترین طیارے ہیں، دنیا کے بہترین میزائل ڈیفنس سسٹم ہیں، اور سالانہ اربوں ڈالر کا دفاعی بجٹ ہے۔ مگر انہوں نے تلوار میان میں رکھی ہوئی ہے۔ وہ میدان میں نہیں کود رہے۔ وہ گولی کا جواب گولی سے نہیں دے رہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس خطے کی جنگ کا فیصلہ میدان میں نہیں ہوگا۔ یہاں جیتنے والا وہ ہوگا جس کا گھر آخر میں ٹوٹے گا۔ جس کی معیشت آخر میں گرے گی۔ جس کے پاس وقت اور صبر سب سے زیادہ ہوگا۔
خلیج کا پانی سمندر سے آتا ہے۔ معیشت تیل سے چلتی ہے۔ مستقبل استحکام سے جڑا ہے۔ ایک ہفتے کی جنگ ان کی دس سال کی ترقی نگل جائے گی۔ اس لیے انہوں نے جنگ نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ دفاع کر رہے ہیں، ڈرون روک رہے ہیں، سفارت کر رہے ہیں، اور سب سے بڑھ کر انتظار کر رہے ہیں۔ وہ وقت کو اپنا سپاہی بنا رہے ہیں۔
یہی حکمت ہے۔ شور کرنے والا جلدی تھک جاتا ہے۔ خاموش رہنے والا آخر تک کھڑا رہتا ہے۔ جب ایک فریق کی سانسیں پھول جائیں گی، جب اس کا خزانہ خالی ہو جائے گا، جب اسے احساس ہوگا کہ طاقت کے زور پر سب کچھ نہیں ملتا، تب وہی میز پر آئے گا اور کہے گا کہ راستہ نکالو۔
اور تب وہی ہوگا جو عرب کی صدیوں پرانی روایت ہے۔ دستِ کرم ہمیشہ بڑا رہا ہے۔ سعودی عرب نے ہمیشہ جنگ کے بعد صلح کا جھنڈا بلند کیا ہے۔ عزت دشمن کو مٹا دینے میں نہیں، دشمن کو اٹھا کر اپنا ہمسایہ بنا لینے میں ہے۔
اللہ تعالیٰ خلیجی ممالک کی حفاظت فرمائے، اور پورے مشرقِ وسطیٰ کو امن و استحکام کا گہوارہ بنا دے۔ فتنوں کو دور کرے، اور خطے کو جنگ و خونریزی سے محفوظ رکھے۔ آمین یا رب العالمین

ابوحماد عطاء الرحمن مدنی
مرکز الفرقان الاسلامی، جنکپور دھام

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter