مشرقِ وسطیٰ کی جدید تاریخ عدم استحکام، پراکسی جنگوں اور دائمی رقابتوں کے ایک ایسے لامتناہی سلسلہ سے عبارت ہے جس نے پوری ملتِ اسلامیہ اور انسانیت کو گہرے اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس خطے کا سانحہ یہ نہیں کہ یہاں اختلافات موجود ہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ ان اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری کے بجائے مسلح ملیشیاؤں، جارحانہ عزائم اور پراکسی نیٹ ورکس کو ذریعہ بنایا گیا۔
اس تمام تلاطم خیز منظرنامے میں اگر غیر جانبدارانہ اور منطقی نظر سے دیکھا جائے تو ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے: سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے ہمیشہ خطے کو تباہی سے بچانے، کشیدگی کم کرنے اور بحرانوں کو سفارتی میز پر حل کرنے کی سنجیدہ و مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔ اس کے برعکس، دوسری جانب ایک ایسی پالیسی نظر آتی ہے جو طویل عرصے سے اپنے علاقائی و جیو پولیٹیکل اہداف کے حصول کے لیے غیر ریاستی عناصر اور مسلح گروہوں کی سرپرستی کو اپنا اصل ہتھیار بنائے ہوئے ہے۔
سفارت کاری بمقابلہ عدم استحکام: خلیجی ممالک کا مصالحانہ کردار:
حالیہ علاقائی بحران کے آغاز ہی سے سعودی عرب نے ایک ذمہ دار اور بیدار مغز ریاست کا ثبوت دیتے ہوئے یہ واضح اور حتمی موقف اختیار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کو کسی نئی خوفناک اور خطرناک جنگ کی آغوش میں دھکیلنا خودکشی کے مترادف ہوگا۔ مختلف بین الاقوامی سفارتی ذرائع اس بات کی توثیق کرتے ہیں کہ ریاض نے متعدد مواقع پر براہِ راست اور بالواسطہ ذرائع سے یہ پیغام پہنچایا کہ تنازعات کا حل صرف اور صرف گفتگو اور باہمی احترام میں مضمر ہے۔
توازن اور ضبطِ نفس پر مبنی اس سفارتی حکمتِ عملی کا مقصد یہ تھا کہ خطے کے عوام کو خون خرابے اور اقتصادی تباہی سے محفوظ رکھا جائے۔ تاہم، اس مثبت اور مصالحانہ رویے کے جواب میں جو طرزِ عمل سامنے آیا، وہ منطق اور بین الاقوامی قوانین دونوں کے منافی ہے۔
حوثی تحریک کی دھمکیاں اور توانائی کی عالمی سلامتی:
اس امن پسندانہ فضا کو شدید دھچکا اس وقت لگا جب ایران سے فکری و عسکری طور پر منسلک حوثی تحریک نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلانیہ خطرہ پیدا کیا اور بحیرۂ احمر میں سعودی اور خلیجی مفادات کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیاں دیں۔
یہ محض کسی ایک ملک کی خودمختاری پر حملہ نہیں تھا، بلکہ:
* عالمی تجارت کی شاہراہوں کو مسدود کرنے کی کوشش تھی،
* بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے نظام کو یرغمال بنانے کا اقدام تھا،
* اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی ورزی تھی۔
سعودی عرب نے سرکاری اور بین الاقوامی فورمز پر ان حملوں اور دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور یہ واضح کیا کہ ہر پرامن ریاست کی طرح مملکت بھی اپنی زمین، اپنے شہریوں، اپنی سرحدوں اور اپنی معاشی تنصیبات کے دفاع کا کامل اور قانونی حق رکھتی ہے۔
ایرانی پالیسی کا تضاد: منطقی سوالات اور حقائق:
یہاں ایک ایسا بنیادی سوال جنم لیتا ہے جو کسی بھی سنجیدہ اور غیر جانبدار مبصر کو غور و فکر پر مجبور کرتا ہے:
اگر ایران اور اس کے حامیوں کی تمام تر تگ و دو اور نعرے بازی کا بظاہر ہدف امریکی یا اسرائیلی مفادات ہیں، تو پھر اس کی عملی ضرب ہمیشہ عرب ممالک، ان کی معاشی تنصیبات، بحری راستوں اور شہری بنیادی ڈھانچے ہی پر کیوں پڑتی ہے؟
یہ تضاد صرف سیاسی نعرے بازی کی نفی نہیں کرتا بلکہ ایک گہرے منطقی مغالطے کو بھی فاش کرتا ہے:
1. جیو پولیٹیکل تضاد: اسلامی اور عرب ممالک کے انفراسٹرکچر اور تجارتی راستوں کو نقصان پہنچا کر کون سی "عالمی سامراج دشمنی” کا حق ادا کیا جا رہا ہے؟
2. عراق کی مثال: عراق میں امریکی افواج اور ان کے عسکری اڈے طویل عرصے سے موجود ہیں، اور وہ ایران کے بالکل پڑوس میں واقع ہیں جہاں تک رسائی نہایت آسان ہے۔ مگر وہاں ان اڈوں کے خلاف یا اس ملک کے خلاف کسی طرح کا کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آتا، جبکہ فاصلے پر واقع خلیجی ریاستوں کی شہری تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ان کے دعوؤں کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔
دفاعِ وطن کا حق: قرآنی و اسلامی تعلیمات کی روشنی میں:
اسلامی شریعت کا مزاج امن، عدل اور تعدی سے پاک معاشرے کا قیام ہے۔ اسلام کسی بھی ایسی پالیسی یا عمل کی حمایت کی اجازت نہیں دیتا جو زمین میں فساد، ناانصافی اور بے گناہوں کی تباہی کا باعث بنے۔
قرآنِ کریم نے ظلم اور ناانصافی پر مبنی اشتراک کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے فرمایا:
(وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان)
"نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔” (سورۃ المائدہ: 2)
اسی طرح، جب کوئی فریق صلح اور مذاکرات کا ہاتھ بڑھائے تو اسلام اس کی پذیرائی کی تعلیم دیتا ہے:
(وإن جنحوا للسلم فاجنح لها وتوكل على الله)
"اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسا رکھو۔” (سورۃ الانفال: 61)
عقل ودانش کا تقاضا:
جب ایک ریاست (سعودی عرب) مسلسل صلح، سفارت کاری اور پائیدار امن کی کوشش کرے، اور دوسرا فریق اس کے جواب میں اس کی سلامتی، معیشت اور شہریوں کو خطرے میں ڈالے، تو بین الاقوامی قانون، عقلِ سلیم اور اسلامی شریعت، تینوں کی رو سے متاثرہ ریاست کو اپنے دفاع کا کامل حق حاصل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں مظلوم اور پرامن ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا اور اس کے حقِ دفاع کی حمایت کرنا ایک اخلاقی، انسانی اور اسلامی فریضہ بن جاتا ہے۔
اصولی اور غیر جانبدارانہ موقف کی ضرورت:
آج امتِ مسلمہ اور عالمی برادری ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہمیں فرقہ وارانہ تعصبات، جذباتی نعروں اور عارضی سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حق اور انصاف کا اصولی موقف اختیار کرنا ہوگا۔
* کسی بھی ملک کی خودمختاری پر شب خون مارنا،
* شہری تنصیبات اور معاشی مراکز کو تباہ کرنا،
* اور پراکسی تنظیموں کے ذریعے خطے کے امن کو یرغمال بنانا ہر نقطہ نظر سے قابلِ مذمت ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی بقا صرف اس بات میں مضمر ہے کہ باہمی احترام، عدم مداخلت اور پرامن بقائے باہم کے اصولوں کو تسلیم کیا جائے۔ اور ان تمام سنجیدہ کوششوں کا کھل کر ساتھ دیا جائے جو سعودی عرب اور اس کے اتحادی خلیجی ممالک خطے میں دائمی امن اور استحکام کے لیے کر رہے ہیں۔
آپ کی راۓ