غیض میں جب بھی آ گیا پانی
نقشِ جاناں مٹا گیا پانی
خود کو ہم بھی نہ روک پائے جب
حد سے آگے چلا گیا پانی
ہم نے مسدود راستے جو کئے
گھر بھی دریا بنا گیا پانی
چیخ کر لوگ آج کہتے ہیں
میرا سب کچھ بہا گیا پانی
اس نے سب کچھ ہمارا چھین لیا
ظلم اس طرح ڈھا گیا پانی
جنگ جیون کی ہار بیٹھے سب
ایک مقتل سجا گیا پانی
جانِ آدم کی وہ بلی لے کر
آخرش کیا ہی پا گیا پانی
روکنے والے روکتے ہی رہے
اپنا رستہ بنا گیا پانی
زعمِ انساں تھا سربلندی کا
رخ سے پردہ اٹھا گیا پانی
پانی پانی کا ہر سو منظر ہے
خود کو ایسے لٹا گیا پانی
جس کو پڑھنے سے تھا گریز مجھے
وہ سبق بھی پڑھا گیا پانی
جس کو تاریخ دھو نہیں سکتی
رنگ ایسے جما گیا پانی
چھین کر مجھ سے یوں چراغِ خوشی
شمعِ ماتم جلا گیا پانی
جل رہا دماغ و دل ثاقب
آگ ایسی لگا گیا پانی
آپ کی راۓ