نہایت افسوس اور گہرے رنج کے ساتھ یہ خبر ملی کہ جماعت کے بزرگ عالم و مفتی ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی شنکرنگری رحمہ اللہ کے لائق وفائق صاحبزادے شیخ احمد فضل الرحمن مدنی طویل علالت کے بعد آج رات اپنے آبائی گاؤں شنکر نگر، ضلع بلرامپور، اترپردیش میں داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔
مرحوم ایک باصلاحیت، سنجیدہ اور علم دوست نوجوان تھے۔ آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی اے کی تعلیم حاصل کی اور جامعۃ القصیم، سعودی عرب میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی تعلیم کے مرحلے میں تھے۔ اپنے والدِ محترم کے علمی ذخیرے کے امین ہونے کے ساتھ ان کے فتاویٰ کو متعدد جلدوں میں مرتب کرنے کا اہم علمی کام بھی انجام دیا، جسے اہلِ علم نے قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔
کئی ماہ سے علالت میں مبتلا تھے، علاج جاری رہا اور آپریشن بھی ہوا، لیکن تقدیرِ الٰہی کے سامنے کسی کی تدبیر کارگر نہیں۔ بالآخر آج وہ گھڑی آن پہنچی جس کا وقت اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھا تھا۔
اللہ رب العزت مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی علمی خدمات کو قبول فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم سے نوازے۔
اللهم اغفر له وارحمه، وعافه واعف عنه، وأكرم نزله، ووسّع مدخله، وألهم أهله وذويه الصبر والسلوان۔ آمین۔
ابو عبد البر عبدالحى السلفی
———————————————————
انتہائی دکھ بھری خبر افسوسناک کہ پی ایچ ڈی کے طالب علم القصیم ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ مالیگاوں کے فرزند مولانا احمد فضل الرحمن کا آج شب بارہ بجے کے بعد انتقال ہو گیا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ اللہ تعالیٰ جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ٹھکانہ جنت الفردوس بناے آمین
غمزدہ : عبد النور سراجی – جھنڈا نگر
——————————————————-
آہ احمد فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ
صبح صبح مشہور فقیہ ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے لائق و فائق عالم دین محقق فرزند احمد مدنی قصیمی کی وفات کی خبر نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا خبر بھی نہ تھی کہ وہ کچھ عرصہ سے کینسر جیسے موذی مرض کے شکار تھے مگر آج اللہ کا بلاوا آ گیا اور سفر آخرت پر روانہ ہو گئے
مکہ مکرمہ میں انٹرنیشنل حج کانفرنس میں ڈاکٹر صاحب اور میں ساتھ ساتھ تھے کہ یہ لائق و فائق فرزند ان سے ملنے آئے اور پھر وہاں سے ہی ابتدائی تعارف ہوا مگر بعد کے ادوار میں یہ تعلق قائم رہا اور آج اچانک یہ خبر سن کر دل صدمے سے دوچار ہوا لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے مولی راضی ہوگا اللہ کے فیصلے ہی بہتر ہیں
اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
ڈاکٹر عبد اللطیف الکندی
——————————————————-
أحمد فضل الرحمن مدنی صاحب کی وفات کی خبر سن کر کافی افسوس ہوا، آپ کئی دنوں سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے، ہندوستان کے مشہور عالم دین ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی صاحب رحمہ اللہ سابق مدرس جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے لائق فرزند اور ان کے علمی ورثہ کے حقیقی وارث تھے، جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سے بی اے کرنے کے بعد، جامعہ القصیم سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے، اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور اہل خانہ کو صبرِ جمیل کی توفیق دے آمین ۔
قاضی عبد الرحمن رائے بریلی
——————————————————
۔۔۔۔۔۔۔۔موت ایک اٹل حقیقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ ہر مسلمان کو حسن خاتمہ نصیب فرمائے ، والد گرامی مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کے قدردانوں میں ایک نام انکے شاگرد رشید معروف علمی شخصیت ڈاکٹر فضل الرحمن سلفی مدنی رحمہ اللہ کا تھا ، دہلی آمد کے موقع سے ایک بار ان سے تفصیلی ملاقات اور جامعہ اسلامیہ سنابل کے طلبہ کے مابین انکے قیمتی نصیحتی کلمات میں شرکت کا موقع نصیب ہوا تھا ، وہ اس بات کو بہت زور دیکر بیان کرتے تھے کہ انکے استاذ یعنی والد گرامی کے اندر منہجی ومسلکی غیرت بے مثال ہے ۔ اللہ شیخین کی مغفرت فرمائے ، جنت میں اعلی مقام سے سرفراز فرمائے اور انکی خدمات کو انکے لئے صدقۂ جاریہ بنائے ۔
ڈاکٹر فضل الرحمان رحمہ کے فرزند ارجمند شیخ احمدمحمدی مدنی بھی گزشتہ روز جوانی کی عمر میں وفات پا گئے ، ایک عرصہ سے وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے ، وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ میں کئی مادوں میں میرے ہم سبق بھی رہے ، بہت شریف ، سنجیدہ ، متواضع اور خاموش طبیعت کے مالک تھے ، ایک دوسرے کا احترام ، ایک دوسرے کا ممکنہ تعاون کا جذبہ تھا اور حصول علم کی مبارک راہ میں وہ اپنی مثال آپ تھے ۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ میں انکا ساتھ آج بھی ذہن میں نقش ہے ، مدینہ سے فراغت کے بعد وہ غالبا جبیل دعوہ سنٹر سے وابستہ ہو گئے پھر انہوں نے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے القصیم یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور “ایم اے “ کے بعد “ پی ایچ ڈی “کے مرحلہ میں مشغول ہوگئے ، سعودی عرب کے سابقہ اسفار میں القصیم یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہندوستانی طلبہ علمی ونصیحتی مجلس کا اہتمام کرتے رہے ہیں اس موقع سے میں نے ازراہ مذاق کہا کہ “احمدمیرے سب سے بزرگ ساتھی ہیں “ جس پر وہ بہت خوش ہوئے جبکہ وہ بزرگ نہیں تھے لیکن انکی سنجیدگی اور متانت سے بزرگی جھلکتی تھی اللہ انکی مغفرت فرمائے ، انکو اعلی مقام اور رفع درجات سے نوازے اور انکے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے نیز انکے معصوم بچوں کی کفالت فرمائے ۔ اس تحریر کے ساتھ جو تصویر لگائی گئی ہے وہ جامعة القصيم کی ایک مجلس کی ویڈیو رکارڈنگ سے لی گئی ہے ۔ میں عموما بلا کسی مجبوری کے تصاویر سے اجتناب کرتا ہوں لئکن ایک تصویر اس لئے پوسٹ کر دی کہ لوگ احمد محمدی مدنی رحمہ اللہ کو پہچان سکیں اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی چلا جائے کہ اس تصویر میں موجود ایک ابھرتے ہوئے علمی ستارہ کی وفات ہوگئی ہے اور دوسرا اپنی کمزور صلاحیت اور بے عمل زندگی کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے ، اللہ حسن خاتمہ نصیب فرمائے ۔ آمین ۔ (محمدرحمانی دہلی)
—————————————————————
دکتور فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے صاحبزادے دکتور احمد محمدی مدنی قصیمی کا انتقال ہو گیا.
فی الوقت جامعۃ القصیم، سعودی عرب میں دکتورہ کے طالب علم تھے، پچھلے کئی مہینوں سے سے پیٹ میں کینسر کی بڑی بیماری میں مبتلا تھے (جس کی بنیاد پر حدیث رسول کے مطابق ان شاء اللہ وہ شہادت کے مقام پر فائز ہوں گے) آج ان کے آبائی گاؤں شنکر نگر، بلرام پور، یوپی میں انتقال ہو گیا.
اللہ رب العالمین ان کی مغفرت کرے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے. آمین
اللهم اغفرله و ارحمه وعافه واعف عنه واسكنه فسيح جناتك يا رب العلمين.
شکیب الرحمن الہندی
آپ کی راۓ