دكتور أحمد فضل الرحمن مدني كا انتقال پر ملال؛ علماء و احباب کے احساسات

إعداد: عبد الصبور ندوى

23 اگست, 2026
مورخہ ١١ اور ١٢ اگست ٢٠٢٦ کی درميانى شب (پونے بارہ بجے) یہ اندوہناک خبر  سنی گئی کہ برادر عزیز دکتور احمد فضل الرحمن مدنی جو ایک مہلک مرض میں مبتلا تھے، آج بوقتِ نصف شب (پونے بارہ بجے) اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔*انا للہ وانا الیہ راجعون۔*
ابھی عمر کی کل 42 بہاریں ہی دیکھی تھیں؛ پانچ سال قبل ان کے والدِ محترم فقیہ عصر حضرت ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کا سانحۂ ارتحال سامنے تھا۔ مولانا احمد مدنی، جنہیں معاصر علماء اپنے والد کا سچا جانشین قرار دیتے تھے، نے اپنے والد کے مجموعۂ فتاویٰ **”نعمت المنان” (6 جلدیں)** کی ترتیب، تخریج، جمع اور تزئین کا کام بڑی ٹھگ و دو ؛ محنت اور لگن کے ساتھ انجام دیا تھا، جسے آج برصغیر کی علمی دنیا میں ایک عظیم اور مستند شاہکار کا درجہ حاصل ہے۔
دکتور احمد رحمہ اللہ القصیم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے اسکالر تھے۔ چھ سات ماہ قبل پیٹ میں تکلیف کے بعد چیک اپ کرایا تو کینسر کی تشخیص ہوئی۔ سعودی عرب اور ہندوستان کے مختلف ہسپتالوں میں علاج کے بعد بالآخر آج اس دارِ فانی کو الوداع کہہ دیا۔
 رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
اللہ نے جو کچھ زندگی انہیں عطا کی تھی، وہ دین کی دعوت، نشر و اشاعت اور تالیف و تصنیف میں گزری۔ رب ذوالجلال ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے، ان کی مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ **آمین۔**
پسماندگان میں اخوان و اخوات اور اعزہ و اقارب کے علاوہ ایک بیوہ اور چار ننھے منے بچے ہیں۔ اس آزمائش کے موقع پر اللہ تعالیٰ انہیں صبرِ جمیل اور ہمت و حوصلہ عطا کرے۔
مورخہ12 اگست 2026ء بروز بدھ، بوقت 10:00 بجے صبح آبائی گاؤں شنکر نگر (ضلع بلرام پور; یوپی انڈیا) کے قبرستان میں سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیے گئے۔
آپ کے انتقال پر علماء دانشوران اور احباب نے تعزیتی کلمات و احساسات رقم کئے ہیں افادہ کی غرض سے انھیں نشر کیا جارہا ہے:
—————————–
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے سابق رکن شوری اور معروف دینی دانشگاہ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے سابق شیخ الجامعہ مؤقر عالم دین ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے جوان سال منجھلے صاحبزادے عزیزم احمد فضل الرحمن محمدی کا انتقال پُرملال*
یہ خبر نہایت رنج و افسوس کے ساتھ سنی گئی کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے سابق رکن شوری اور معروف دینی دانشگاہ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے سابق شیخ الجامعہ مؤقر عالم دین ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے جوان سال منجھلے صاحبزادے عزیزم احمد فضل الرحمن محمدی کا گزشتہ شب تقریبا ساڑھے بارہ بجے بعمر تقریبا 42/سال طویل علالت کے بعد آبائی وطن شنکر نگر ،بلرام پور،یوپی میں انتقال ہوگیا ۔انا لله وانا إليه راجعون ۔ اللهم اغفر له وارحمه وعافہ واعف عنه ووسع مدخله واكرم نزله و اغسله بالماء و الثلج والبرد ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الابيض من الدنس وادخله في جنة الفردوس و اعذه من عذاب القبر وعذاب النار والهم اهله و ذويه الصبر والسلوان امين.
عزیزم احمد فضل الرحمن نہایت خلیق و ملنسار،ذہین ومحنتی،م اور علم وتحقیق کے ذوق وشوق سے سرشار تھے۔ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں سے فراغت کے بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی اے،اور جامعۃ القصیم سے ایم اے کیا اور وہاں سے ہی پی ایچ ڈی کررہے تھے۔اپنے عظیم والد گرامی کے فتاوی کے مرتب ومدون تھے اور ان کے دیگر معارف مؤلفات پر کام کررہے تھے ۔سرطان کے مہلک مرض میں مبتلا تھے۔اس کا علم اس وقت ہوا جب کہ کافی دیر ہوچکی تھی۔سعودی عرب کے مستشفی الملک فہد التخصصی میں آپریشن بھی ہوا لیکن افافہ کے بجائے مرض بڑھتا گیا،نتیجتا ڈاکٹر کے مشورے سے وطن مالوف لوٹ آئے جہاں کچھ دنوں کے بعد داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔
پسماندگان میں اہلیہ ایک لڑکا، تین لڑکیاں،دو بھائی محمد ،ہشام اور تین بہنیں ہیں۔
ان کے جنازہ کی نماز آج ہی بتاریخ 12/اگست 2026ء دس بجے صبح آبائی وطن شنکر نگر میں ادا کی گئی۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ،جنت الفردوس کا مکین بنائے ,پسماندگان ومتعلقین کو صبرو سلوان عطا فرمائے ۔آمین۔
شریک غم ودعا گو: اصغر علی امام مہدی سلفی،امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
————————————–

جماعت کے معروف عالم ومفتی دکتور فضل الرحمن مدنی شنکرنگری رحمہ اللہ کے ہونہار صاحبزادے شیخ احمد فضل الرحمن مدنی طویل علالت کے بعد آج رات اپنے آبائی گاؤں شنکر نگر ضلع بلرامپور،یوپی میں اللہ کے پیارے ہوگیے ۔

آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی اے کیا تھا اور فی الوقت جامعة القصيم سعودي عرب میں دکتوراہ( پی ایچ ڈی) کر رہے تھے ۔ اپنے والد کے علمی میراث کے سچے امین تھے اور آپکے فتاوی کو کئی جلدوں میں مرتب کرکے اہل علم سے داد تحسین وصول کیاتھا۔کئی مہینوں سے بیمار تھے آپریشن بھی ہواتھا مگر آج وقت موعود آپھونچا۔رب تعالی مغفرت فرمایے اور اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق دے. آمین
اللهم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه و الهم ذويه الصبر والسلوان
غمزده: د.عبدالحكيم عبدالمعبود المدنى
کاندیولی ،ممبئی
—————————————
آہ احمد فضل الرحمن محمدی مدنی رحمہ اللہ
افسوس ناک خبر یہ ہے کہ معروف و مشہور سلفی ادارہ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں سے فارغ التحصیل عالم دین ہر دل عزیز دوست و ساتھی محترم جناب احمد فضل الرحمن صاحب محمدی مدنی کا ابھی کچھ وقت پہلے آبائ گاؤں شنکر نگر بلرام پور میں انتقال ہوگیا ہے
انا للہ وانا الیہ راجعون
واضح رہے کہ آپ سعودی عرب کی مشہور قصیم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے قصیم میں ہی کئ ماہ قبل آپکی طبعیت خراب ہوئ مختلف جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ پیت میں کینسر جیسی بیماری میں آپ مبتلا ہیں مختلف جانچ و ڈاکٹروں کے مشوروں کے بعد سعودی عرب کے مستشفي الملك فهد التخصصي میں پیٹ کا آپریشن ہوا مگر مرض گھٹنے کے بجائے بڑھتا رہا آخر کا آپ انڈیا آگیے اور اگرہ شہر کے کسی اسپتال سے زیر علاج تھے آخر کار وقت پورہ ہوگیا اور آپ اللہ کو پیارے ہوگیے
واضح رہے کہ آپ عالمی شہرت یافتہ عالم دین استاد محترم دکتور فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے بیٹے ہیں نماز جنازہ و تدفین بتاریخ 12 اگست بروز بدھ صبح 10بجے آبائ و علمی گاؤں شنکر نگر بلرام پور کے قبرستان میں ادا کی جائے گی لہٰذا قرب و جوار کے دوست احباب نیز خاص عام سے شرکت کی پر زور اپیل ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ موصوف کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے ۔۔ آمین ثم آمین تقبل یا رب العالمین
محمد فضل الرحمن
+919226261717
خالد محمدی
+919371784178
حافظ ریاض صاحب
+919989853034
محمد ظفر عبدالرؤف محمدی
——————————————————————
نہایت افسوس اور گہرے رنج کے ساتھ یہ خبر ملی کہ جماعت کے بزرگ عالم و مفتی ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی شنکرنگری رحمہ اللہ کے لائق وفائق صاحبزادے شیخ احمد فضل الرحمن مدنی طویل علالت کے بعد آج رات اپنے آبائی گاؤں شنکر نگر، ضلع بلرامپور، اترپردیش میں داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔
مرحوم ایک باصلاحیت، سنجیدہ اور علم دوست نوجوان تھے۔ آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے بی اے کی تعلیم حاصل کی اور جامعۃ القصیم، سعودی عرب میں ڈاکٹریٹ (پی ایچ ڈی) کی تعلیم کے مرحلے میں تھے۔ اپنے والدِ محترم کے علمی ذخیرے کے امین ہونے کے ساتھ ان کے فتاویٰ کو متعدد جلدوں میں مرتب کرنے کا اہم علمی کام بھی انجام دیا، جسے اہلِ علم نے قدر و تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔
کئی ماہ سے علالت میں مبتلا تھے، علاج جاری رہا اور آپریشن بھی ہوا، لیکن تقدیرِ الٰہی کے سامنے کسی کی تدبیر کارگر نہیں۔ بالآخر آج وہ گھڑی آن پہنچی جس کا وقت اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھا تھا۔
اللہ رب العزت مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی علمی خدمات کو قبول فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم سے نوازے۔
اللهم اغفر له وارحمه، وعافه واعف عنه، وأكرم نزله، ووسّع مدخله، وألهم أهله وذويه الصبر والسلوان۔ آمین۔
ابو عبد البر عبدالحى السلفی
———————————————————
انتہائی دکھ بھری خبر افسوسناک کہ پی ایچ ڈی کے طالب علم القصیم ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ مالیگاوں کے فرزند مولانا احمد فضل الرحمن کا آج شب بارہ بجے کے بعد انتقال ہو گیا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون اللہم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ اللہ تعالیٰ جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ٹھکانہ جنت الفردوس بناے آمین
غمزدہ : عبد النور سراجی – جھنڈا نگر
——————————————————-
آہ احمد فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ
صبح صبح مشہور فقیہ ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے لائق و فائق عالم دین محقق فرزند احمد مدنی قصیمی کی وفات کی خبر نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا خبر بھی نہ تھی کہ وہ کچھ عرصہ سے کینسر جیسے موذی مرض کے شکار تھے مگر آج اللہ کا بلاوا آ گیا اور سفر آخرت پر روانہ ہو گئے
مکہ مکرمہ میں انٹرنیشنل حج کانفرنس میں ڈاکٹر صاحب اور میں ساتھ ساتھ تھے کہ یہ لائق و فائق فرزند ان سے ملنے آئے اور پھر وہاں سے ہی ابتدائی تعارف ہوا مگر بعد کے ادوار میں یہ تعلق قائم رہا اور آج اچانک یہ خبر سن کر دل صدمے سے دوچار ہوا لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے مولی راضی ہوگا اللہ کے فیصلے ہی بہتر ہیں
اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین
ڈاکٹر عبد اللطیف الکندی
——————————————————-
أحمد فضل الرحمن مدنی صاحب کی وفات کی خبر سن کر کافی افسوس ہوا، آپ کئی دنوں سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلا تھے، ہندوستان کے مشہور عالم دین ڈاکٹر فضل الرحمن مدنی صاحب رحمہ اللہ سابق مدرس جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے لائق فرزند اور ان کے علمی ورثہ کے حقیقی وارث تھے، جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سے بی اے کرنے کے بعد، جامعہ القصیم سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے، اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور اہل خانہ کو صبرِ جمیل کی توفیق دے آمین ۔
قاضی عبد الرحمن رائے بریلی
——————————————————
۔۔۔۔۔۔۔۔موت ایک اٹل حقیقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ ہر مسلمان کو حسن خاتمہ نصیب فرمائے ، والد گرامی مولانا عبدالحمید رحمانی رحمہ اللہ کے قدردانوں میں ایک نام انکے شاگرد رشید معروف علمی شخصیت ڈاکٹر فضل الرحمن سلفی مدنی رحمہ اللہ کا تھا ، دہلی آمد کے موقع سے ایک بار ان سے تفصیلی ملاقات اور جامعہ اسلامیہ سنابل کے طلبہ کے مابین انکے قیمتی نصیحتی کلمات میں شرکت کا موقع نصیب ہوا تھا ، وہ اس بات کو بہت زور دیکر بیان کرتے تھے کہ انکے استاذ یعنی والد گرامی کے اندر منہجی ومسلکی غیرت بے مثال ہے ۔ اللہ شیخین کی مغفرت فرمائے ، جنت میں اعلی مقام سے سرفراز فرمائے اور انکی خدمات کو انکے لئے صدقۂ جاریہ بنائے ۔
ڈاکٹر فضل الرحمان رحمہ کے فرزند ارجمند شیخ احمدمحمدی مدنی بھی گزشتہ روز جوانی کی عمر میں وفات پا گئے ، ایک عرصہ سے وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے ، وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ نبویہ میں کئی مادوں میں میرے ہم سبق بھی رہے ، بہت شریف ، سنجیدہ ، متواضع اور خاموش طبیعت کے مالک تھے ، ایک دوسرے کا احترام ، ایک دوسرے کا ممکنہ تعاون کا جذبہ تھا اور حصول علم کی مبارک راہ میں وہ اپنی مثال آپ تھے ۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ میں انکا ساتھ آج بھی ذہن میں نقش ہے ، مدینہ سے فراغت کے بعد وہ غالبا جبیل دعوہ سنٹر سے وابستہ ہو گئے پھر انہوں نے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے القصیم یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور “ایم اے “ کے بعد “ پی ایچ ڈی “کے مرحلہ میں مشغول ہوگئے ، سعودی عرب کے سابقہ اسفار میں القصیم یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہندوستانی طلبہ علمی ونصیحتی مجلس کا اہتمام کرتے رہے ہیں اس موقع سے میں نے ازراہ مذاق کہا کہ “احمدمیرے سب سے بزرگ ساتھی ہیں “ جس پر وہ بہت خوش ہوئے جبکہ وہ بزرگ نہیں تھے لیکن انکی سنجیدگی اور متانت سے بزرگی جھلکتی تھی اللہ انکی مغفرت فرمائے ، انکو اعلی مقام اور رفع درجات سے نوازے اور انکے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے نیز انکے معصوم بچوں کی کفالت فرمائے ۔ اس تحریر کے ساتھ جو تصویر لگائی گئی ہے وہ جامعة القصيم کی ایک مجلس کی ویڈیو رکارڈنگ سے لی گئی ہے ۔ میں عموما بلا کسی مجبوری کے تصاویر سے اجتناب کرتا ہوں لئکن ایک تصویر اس لئے پوسٹ کر دی کہ لوگ احمد محمدی مدنی رحمہ اللہ کو پہچان سکیں اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی چلا جائے کہ اس تصویر میں موجود ایک ابھرتے ہوئے علمی ستارہ کی وفات ہوگئی ہے اور دوسرا اپنی کمزور صلاحیت اور بے عمل زندگی کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے ، اللہ حسن خاتمہ نصیب فرمائے ۔ آمین ۔ (محمدرحمانی  دہلی)
—————————————————————
دکتور فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے صاحبزادے دکتور احمد محمدی مدنی قصیمی کا انتقال ہو گیا.
فی الوقت جامعۃ القصیم، سعودی عرب میں دکتورہ کے طالب علم تھے، پچھلے کئی مہینوں سے سے پیٹ میں کینسر کی بڑی بیماری میں مبتلا تھے (جس کی بنیاد پر حدیث رسول کے مطابق ان شاء اللہ وہ شہادت کے مقام پر فائز ہوں گے) آج ان کے آبائی گاؤں شنکر نگر، بلرام پور، یوپی میں انتقال ہو گیا.
اللہ رب العالمین ان کی مغفرت کرے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے. آمین
اللهم اغفرله و ارحمه وعافه واعف عنه واسكنه فسيح جناتك يا رب العلمين.
شکیب الرحمن الہندی
—————————————————————
جامعہ محمدیہ، منصورہ مالیگاؤں میں اپنے ہم عصر ساتھیوں کے انتقال کا سلسلہ جاری ہے، جس کی نئی کڑی احمد بن د. فضل الرحمن محمدی مدنی ہیں. ان سے پہلے (حصر نہیں) حسین محمدی مدنی، وصی اللہ محمدی مدنی، تبارک اللہ محمدی اور ہمارے کلاس فیلو/ عظمت اللہ محمدی گزر چکے ہیں، جن کی جدائی میں ہمارے لئے ایک گہرا خاموش پیغام ہے، وہ یہ کہ «اے ساتھیو! ہم تو چلے اور اب تمہاری باری ہے».
اللہ تعالیٰ گزرنے والوں کی مغفرت کرے اور جب ہمیں اپنے دربار میں بلائے تو قلبِ سلیم کے ساتھ حاضری کی توفیق دے، کیونکہ امراض سے پاک دل ہی اس دن کام آنے والے ہیں نہ کہ مال وأولاد، یہی ندائے الہی ہے: {يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (88) إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ} (89) سورة الشعراء
(ابو ہریرہ بن بشیر محمدی مدنی)
————————————————–
دکتور فضل الرحمن مدنی رحمہ اللہ کے صاحبزادے دکتور احمد محمدی مدنی قصیمی کا انتقال ہو گیا.
فی الوقت جامعۃ القصیم، سعودی عرب میں دکتورہ کے طالب علم تھے، پچھلے کئی مہینوں سے سے پیٹ میں کینسر کی بڑی بیماری میں مبتلا تھے (جس کی بنیاد پر حدیث رسول کے مطابق ان شاء اللہ وہ شہادت کے مقام پر فائز ہوں گے) آج ان کے آبائی گاؤں شنکر نگر، بلرام پور، یوپی میں انتقال ہو گیا.
آپ سب سے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی گزارش ہے.
اللہ رب العالمین ان کی مغفرت کرے اور گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے. آمین
شریک غم:حافظ خلیل الرحمٰن سنابلی، ممبئی
—————————————————
شیخ احمد بن فضل الرحمن مدنی آف شنکر نگر ایک لائق وفائق صالح نوجوان باصلاحیت عالم کی وفات ایک غمناک وقوعہ ہے اور علمی خسارہ ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں داخل کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
مطيع الله مدني-
—————————————————-

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter