انتری بازار/سدھارتھنگر
بتاریخ 18 جون 2026ء بروز جمعرات بمقام مدرسہ المعہد الاسلامی بحر العلوم انتری بازار، جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ کے زیرِ اہتمام حلقہ کے مکاتبِ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات کے مابین "صبح و شام کے مسنون اذکار” کے موضوع پر ایک عظیم الشان تحریری و تقریری مسابقہ منعقد ہوا، جو صبح 8 بجے شروع ہو کر اذانِ ظہر تک جاری رہا۔
المعہد الاسلامی بحر العلوم، انتری بازار، سدھارتھ نگر کے ذمہ داران، اساتذۂ کرام اور طلبہ و طالبات مبارک باد کے مستحق ہیں، بالخصوص ادارہ کے پرنسپل مولانا عبدالرشید سلفی نائب ناظم جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ، جنہوں نے جمعیت اہل حدیث کے اس اہم اور تاریخی مسابقہ کی میزبانی کی اور پروگرام کو منظم انداز میں چلانے، کامیاب بنانے اور انتظامی امور کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے قابلِ قدر محنت، دوڑ دھوپ اور انتھک جدوجہد کی۔
اس مسابقہ میں شرکت کے لیے جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ کی جانب سے حلقہ کے کُل 37 مکاتبِ اسلامیہ کو دعوت دی گئی تھی، تاہم ان میں سے صرف آٹھ مکاتب کے ذمہ داران نے دینی بیداری، تعلیمی شعور اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے طلبہ و طالبات کو اس اہم پروگرام میں شریک کیا۔ ان اداروں سے تعلق رکھنے والے کل 70 طلبہ و طالبات نے مسابقہ میں بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔
شرکت کرنے والے اداروں میں مدرسہ المعہد الاسلامی بحر العلوم انتری بازار، مدرسہ المعہد الاسلامی انوار العلوم گنجہڑا، حراء پبلک اسکول محمودوا گرانٹ، انتری بازار، المعہد الاسلامی نور الہدی ندولیا، مدرسہ عین العلوم امہوا، مدرسہ اسلامیہ ببھنی بازار، مرکز دار التوحید السلفیہ گنگوا چھپیا اور مدرسہ اسلامیہ دار الاسلام بھینسہوا شامل ہیں۔
مسابقہ تحریری و تقریری دو مرحلوں پر مشتمل تھا۔ تقریری مسابقہ کے لیے ممتحن و حکم کے فرائض مولانا عبدالرحمن سلفی داعی جمعیۃ الدعوۃ الوجہ، سعودی عرب اور حافظ خالد رشید سراجی استاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نے انجام دیے، جب کہ تحریری مسابقہ کی جانچ اور نتائج کی ترتیب کے فرائض حافظ محبوب عالم عبدالسلام سلفی، استاد مدرسہ ضیاء العلوم السلفیہ چنروٹہ، نیپال اور حافظ سمیع اللہ شمس، استاد معہد عثمان بن عفان لتحفیظ القرآن سلیم نگر، نیپال نے نہایت ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ انجام دیے۔
آج کے اس تیز رفتار دور میں، جب دین سے دوری اور مادہ پرستی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اور موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے نئی نسل کو بڑی حد تک اپنی گرفت میں لے لیا ہے، ایسے حالات میں بچوں کو قرآن و سنت، مسنون اذکار اور اسلامی تعلیمات سے جوڑنے کے لیے اس نوعیت کے علمی و دینی مسابقات کا انعقاد نہایت اہم اور بابرکت عمل ہے۔ یہ سرگرمیاں بچوں میں دینی ذوق، مثبت مسابقت اور اسلامی شعور پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔
مسابقہ کے لیے ذمہ داران کی جانب سے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کے خاطر خواہ انتظامات کیے گئے تھے۔ پہلے انعام کے لیے فی طالب علم 2000 روپے نقد انعام مقرر تھا، جس کے لیے تین شرکاء کا انتخاب کیا گیا۔ دوسرے انعام کے لیے فی طالب علم 1500 روپے نقد انعام رکھا گیا تھا اور اس کے لیے بھی تین شرکاء منتخب کیے گئے۔ اسی طرح تیسرے انعام کے لیے فی طالب علم 1000 روپے نقد انعام مقرر تھا، جس کے لیے تین طلبہ و طالبات کا انتخاب کیا گیا، جب کہ چوتھے انعام کے لیے فی طالب علم 500 روپے نقد انعام رکھا گیا تھا، جس کے لیے دس شرکاء منتخب کیے گئے۔
اس طرح مختلف درجاتِ انعام کے لیے منتخب 19 طلبہ و طالبات میں مجموعی طور پر 18,500 روپے کے نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔ مزید برآں، جو طلبہ و طالبات درجاتِ انعام کے لیے منتخب نہ ہو سکے، ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر شریک طالب علم کو 100 روپے نقد انعام دیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر 23,600 روپے کے نقد انعامات تقسیم کیے گئے۔ نقد انعامات کے ساتھ ساتھ تمام شرکاء کو گراں قدر دینی و اصلاحی کتابیں اور ایک ایک عدد قلم بھی بطور تحفہ پیش کیا گیا۔
پہلے انعام کے لیے عبدالرب عبدالمعبود، ثناء مہوش بنت محبوب عالم اور محمد صلا بن رمضان علی منتخب ہوئے۔ دوسرے انعام کے لیے سعدیہ خاتون بنت محب اللہ، عشرت فاطمہ بنت شکیل احمد اور صائمہ خاتون بنت ذاکر علی منتخب ہوئیں۔ تیسرے انعام کے لیے حسین بن داؤد، فریحہ خاتون بنت بدر عالم اور شائسہ پروین بنت ضیاء الرحمن منتخب ہوئیں۔
چوتھے انعام کے لیے نبیلہ خانم بنت عبدالصبور، عبدالباری بن محمد رفیق، رافعہ خاتون بنت اشتیاق احمد، نکہت انجم بنت ضمیر اللہ، کوثر جہاں بنت رمضان علی، محمد زید بن اختر علی، شہناز بنت ہدایت اللہ، عافیہ خاتون بنت شمس اللہ، صادقہ انصاری بنت عبدالحنان اور عبدالمہیمن بن سعود اختر منتخب ہوئے۔
مسابقہ کے اختتام کے بعد ساڑھے گیارہ بجے اعلانِ نتائج و تقسیمِ انعامات کی تقریب منعقد ہوئی، جس کا افتتاح جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ کے ناظم مولانا جمشید عالم عبدالسلام سلفی نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں جمعیت کے تمام ذمہ داران، میزبان ادارے، شریک مدارس کے اساتذہ و ذمہ داران اور تمام طلبہ و طالبات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج جب کہ نئی نسل مختلف فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے علمی و دینی پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اس طرح کے مسابقات بچوں میں دینی ذوق، مطالعہ کا شوق، نیکی کی مسابقت اور خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ آئندہ بھی نسلِ نو کی دینی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت کے لیے ایسے تعمیری پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
تقریب سے مولانا وصی اللہ مدنی (ناظم جمعیت اہل حدیث ضلع سدھارتھ نگر)، مولانا سعود اختر سلفی، مولانا رفیع احمد ندوی (نائب ناظم جمعیت اہل حدیث ضلع سدھارتھ نگر)، مولانا شفیع اللہ مدنی (امیر جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ)، مولانا بدیع الزماں سلفی، مولانا عبدالرحمن سلفی، مولانا خالد رشید سراجی اور نیپال سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان مولانا مجیب الدین مدنی نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ مقررین نے جمعیت کے ذمہ داران کو اس کامیاب اور مفید مسابقہ کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی، اساتذۂ کرام کی محنت کو سراہا اور طلبہ و طالبات کو آئندہ بھی اس طرح کے علمی مسابقات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے صبح و شام کے مسنون اذکار کی فضیلت بیان کرتے ہوئے حاضرین کو ان اذکار کو اپنی روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بنانے کی تلقین کی۔
تقریب کے دوران جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ کی جانب سے دو ممتاز علمی، دینی، جماعتی اور رفاہی شخصیات مولانا رفیع احمد ندوی اور مولانا ندیم انور خان سراجی کو ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں تکریمی ایوارڈ اور توصیفی سند سے نوازا گیا۔ اسی موقع پر نیپال سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمان مولانا مجیب الدین مدنی، مولانا بدیع الزماں سلفی، مولانا عبدالرحمن سلفی اور مولانا خالد رشید سراجی کی شال پوشی کرکے ان کی عزت افزائی بھی کی گئی۔
پروگرام میں معروف بلاگر اور سماجی شخصیت عطا اللہ شاہ سدھارتھ نگری کی شرکت بھی قابلِ ذکر رہی۔ انہوں نے مسابقہ اور اختتامی تقریب کو براہِ راست (لائیو) نشر کرکے ان لوگوں تک بھی اس پروگرام کی سرگرمیوں کو پہنچایا جو موقع پر شریک نہ ہو سکے تھے۔ جمعیت اہل حدیث حلقہ شہرت گڑھ کے ذمہ داران نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی اس کاوش کو قابلِ قدر قرار دیا۔
پروگرام کے انتظامی و رفاہی پہلوؤں میں حراء پبلک اسکول محمودوا گرانٹ کے ذمہ داران نے نمایاں کردار ادا کیا۔ بالخصوص مولانا سعود اختر عبدالمنان سلفی اور جناب حمود منان نے مسابقہ میں شریک تمام طلبہ و طالبات، اساتذۂ کرام، مہمانانِ گرامی اور ذمہ دارانِ جمعیت کے لیے دوپہر کے کھانے کا عمدہ انتظام کیا، جسے حاضرین نے سراہا۔ جمعیت کے ذمہ داران نے ان کے حسنِ تعاون اور مہمان نوازی پر خصوصی شکریہ ادا کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ آمین!
پروگرام کے اختتام پر ناظم حلقہ نے ان تمام حضرات کا شکریہ ادا کیا جن کی مادی و مالی تعاون کی وجہ سے بچوں کے انعامات وغیرہ کا انتظام ہوا، اس طرح تقریب خوشگوار، منظم اور روح پرور ماحول میں اپنے اختتام کو پہنچی۔
آپ کی راۓ