جب سے شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے سرزمینِ سعودی عرب کو ایک کلمہ اور ایک پرچم کے تحت متحد فرمایا، اسی وقت سے حرمین شریفین کو غیر معمولی توجہ اور مرکزی حیثیت حاصل رہی۔ آپ نے ان مقدس مقامات کو ریاستی ترجیحات اور سرکاری خدمات کے بنیادی ستونوں میں شامل کیا۔ آپ کے صالح فرزندوں نے بھی اسی روشن روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے حرمین شریفین کی تعمیر و توسیع اور بہترین نگہداشت میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ یہاں تک کہ موجودہ دور میں خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آلِ سعود اور ان کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلِ سعود کی مدبرانہ قیادت میں یہ مبارک سلسلہ پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے—اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے۔
مملکتِ سعودی عرب نے اس قدیم مقولے کو یکسر بدل دیا کہ: "حج کو جانے والا گم ہو جاتا ہے اور واپس آنے والا نیا جنم لیتا ہے”—جو ماضی میں عام تھا—اور اس کی جگہ ایک خوشگوار حقیقت قائم کی کہ: "حاجی کو امن و امان کے سائے میں عزت و تکریم کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے اور پرتپاک استقبال بھی کیا جاتا ہے؛ ایسی حکومت کے زیرِ سایہ جو اپنی تمام تر صلاحیتیں خدمتِ حجاج کے لیے وقف کیے ہوئے ہے، اور ایسی بصیرت افروز قیادت کی نگرانی میں جو اپنے وعدوں اور عہدوں کی پاسدار ہے، اور مہمانانِ رحمن کی خدمت میں کسی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتی۔”
مہمانانِ رحمن کی خدمت کے اس عظیم مشن کو مزید مؤثر اور ہمہ گیر بنانے کے لیے، خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آلِ سعود نے 1440ھ میں “ضیوفِ رحمن پروگرام” کا اجراء فرمایا، جو “سعودی وژن 2030” کے کلیدی پروگراموں میں شامل ہے۔ اس پروگرام کا مقصد دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں حجاج و معتمرین کی خدمت میں ایک معیاری اور نمایاں انقلاب برپا کرنا ہے۔ اس کے تحت زائر کے پورے سفر کو ہمہ جہت انداز میں دیکھا جاتا ہے—اس لمحے سے جب وہ مقدس مقامات کی زیارت کا ارادہ کرتا ہے، تاوقتیکہ وہ نہایت خوشگوار یادوں کے ساتھ اپنے وطن واپس لوٹتا ہے۔
یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مہمانانِ رحمن کو فراہم کی جانے والی خدمات محض ادائیگیِ مناسک تک محدود نہیں، بلکہ یہ پروگرام ان کے قیام کے ہر لمحے کو سہل، خوشگوار اور بامقصد بنانے کا عزم رکھتا ہے۔ اس ضمن میں “طریقِ مکہ” اقدام، صحت بیمہ کی سہولت، “بلا بیگ حج” منصوبہ، مکہ بس سروس، مدینہ منورہ میں شٹل ٹرانسپورٹ، اور سہولیات و خدمات کے معیار میں مسلسل بہتری جیسے اقدامات قابلِ ذکر ہیں۔ مزید برآں، اسلامی تہذیبی و ثقافتی تجربات کو فروغ دینا اور مملکت کے متنوع پہلوؤں سے روشناس کرانا بھی اس پروگرام کا اہم حصہ ہے۔
یہ پروگرام لاکھوں حجاج و معتمرین کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے، تاکہ وہ اپنے مناسک نہایت سہولت، اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ ادا کر سکیں۔ اسی کے ساتھ “سعودی ویژن 2030” کے اس ہدف کی تکمیل بھی پیشِ نظر ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو حج و عمرہ کی سعادت میسر آئے۔ اس مقصد کے لیے انسانی وسائل کی ترقی، اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ 2030 تک 30 ملین معتمرین کی میزبانی کے لیے مملکت مکمل طور پر تیار ہو سکے۔
یہ تمام مساعی اس بصیرت افروز بیان کی عملی تصویر ہیں جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آلِ سعود نے پیش فرمایا:
"سعودی عرب کو اپنے قیام کے بعد سے ہی اللہ تعالیٰ نے حرمین شریفین کی خدمت اور ان کی نگہداشت کا شرف عطا فرمایا ہے، اور اسے ہمیشہ اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے، نیز مہمانانِ رحمن کو راحت و سکون فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائی ہیں۔”
اللہ تعالیٰ مملکتِ سعودی عرب کو ہر قسم کے شر و فتن سے محفوظ رکھے، اور حجاجِ کرام کی خدمت میں پیش کی جانے والی ان گراں قدر خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔
آپ کی راۓ