دینی خدمات انجام دینے والے فرزندوں کی عظیم ماں کا انتقال، اہل علم کے احساسات

12 مارچ, 2026

مشہور وممتاز عالم دین حضرت مولانا عبداللہ مدنی رحمہ اللہ؛ عبدالعزیز شاہد؛ زاہد آزاد جھنڈا نگری؛ مولانا عبدالعظیم مدنی اور عبدالرقیب عالیاوی کی والدہ محترمہ مؤرخہ 9 مارچ 2026 بعد نماز عشاء ایک طویل علالت کے بعد  اس دار فانی سے کوچ کر گئیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔لگ بھگ سو برس کی عمر پائی۔ بروز منگل 10 مارچ 2026 بعد نماز ظہر جھنڈا نگر کے قبرستان میں سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دی گئیں – ایک ماں اور دادی کی حیثیت سے خانوادہ زکریا کو بہت پیار ملا ؛ بطور مربیہ ان کا کردار انتہائی شاندار رہا؛ ہر کوئی ان کا احترام کرتا اور بدلے میں وہ شفقت و محبت کا دریا بن جاتیں؛ گھر اور خاندان کو جوڑے رکھنے کی جو صلاحیت ان کے اندر تھی وہ کم ہی خواتین کے اندر  نظر اے گی- ذیل میں ان کی وفات پر تعزیتی تحریریں موصول ہوئی ہیں انہیں یہاں پیش کیا جارہا ہے- (عبد الصبور ندوي)


از قلم: مولانا مشہود خان نیپالی

انتہائی رنج و الم اور دل کی گہرائیوں سے محسوس ہونے والے دکھ کے ساتھ یہ افسوسناک خبر موصول ہوئی کہ جامعہ خدیجۃ الکبریٰ گرلز کالج جھنڈا نگر کرشنا نگر نیپال کے صدر اور مرکز التوحید کے سربراہ فضیلۃ الشیخ عبدالعظیم مدنی حفظہ اللہ کی والدۂ محترمہ اس دار فانی سے رخصت کر گئیں۔ اس اندوہناک خبر نے اہل علم، دینی حلقوں اور عقیدت مندوں کے دلوں کو سوگوار کر دیا، کیونکہ ایک ایسی عظیم ماں کا دنیا سے رخصت ہونا، جس نے علم و دین کی خدمت کرنے والے فرزندوں کی تربیت کی ہو، یقیناً ایک ایسا صدمہ ہے جس کی کمی دلوں میں ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔
مولانا مشہود خاں نیپالی نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا:
"ماں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے جس کی محبت بے مثال، دعائیں بے لوث اور شفقت سایۂ رحمت کی طرح زندگی بھر ساتھ رہتی ہے۔ ماں کی گود وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں انسان محبت، ایثار، صبر اور اخلاص کے اسباق سیکھتا ہے۔ جب ایسی عظیم ہستی دنیا سے رخصت ہوتی ہے تو دل ایک ناقابل بیان خلا اور درد محسوس کرتا ہے، کیونکہ ماں کی جدائی وہ زخم ہے جسے وقت بھی مکمل طور پر نہیں بھر سکتا۔”
مولانا مشہود خاں نیپالی نے مزید کہا:
"یقیناً فضیلۃ الشیخ عبدالعظیم مدنی حفظہ اللہ جیسی باوقار دینی شخصیت کی علمی اور دعوتی خدمات میں والدۂ محترمہ کی تربیت، دعاؤں اور شفقت کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ایسے صالح اور دین کے خادم فرزندوں کی پرورش ان کی بہترین تربیت اور اخلاص کی روشن علامت ہے۔”
انہوں نے مرحومہ کے بڑے صاحبزادے مرحوم عبداللہ مدنی رحمہ اللہ کا بھی خصوصی ذکر کیا:
"عبداللہ مدنیؒ ایک جید عالم دین، علم و دعوت کے مخلص خادم اور دینی خدمات میں نمایاں مقام رکھنے والی شخصیت تھے۔ ان کی علمی خدمات اور دین کے لیے اخلاص آج بھی اہل علم کے دلوں میں زندہ ہے۔ ایک ماں کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس نے ایسے فرزندوں کی تربیت کی جو علم دین کی خدمت اور امت کی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ عبداللہ مدنیؒ کی وفات پہلے ہی اہل علم کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی اور اب والدۂ محترمہ کا انتقال اس خاندان کے لیے ایک اور گہرا دکھ بن کر سامنے آیا ہے۔”
مولانا مشہود خاں نیپالی نے جامعہ خدیجۃ الکبریٰ گرلز کالج کے مشرف مولانا عبدالخبیر اثری زاہد آزاد اور تمام اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"ہم سب اس غم میں برابر کے شریک ہیں اور اس صدمے کو اپنا صدمہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی نیکیوں کو صدقۂ جاریہ بنائے اور اہل خانہ خصوصاً فضیلۃ الشیخ عبدالعظیم مدنی حفظہ اللہ اور مولانا عبدالخبیر اثری زاہد آزاد کو صبر جمیل، حوصلہ اور اجر عظیم عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق دے اور مرحومہ کی دعاؤں، تربیت اور نیک اثرات کو ان کی اولاد اور شاگردوں کے ذریعے ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھے۔ آمین یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے

تمہارے دم سے ہیں میرے لہو میں کھلتے گلاب
مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے

گلی گلی میں جو آوارہ پھر رہا ہوتا
جہان بھر میں وہی نیک نام تم سے ہے

کہاں بساط جہاں اور میں کمسن و ناداں
یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے

جہاں جہاں ہے مری دشمنی سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے مرا احترام تم سے ہے

اے میری ماں مجھے ہر پل رہے تمہارا خیال
تم ہی سے صبح مری میری شام تم سے ہے

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
اے میری ماں مرا سارا مقام تم سے ہے


سماج نیوز کے سرپرست مولانا زاہد آزاد جھنڈا نگری و مولانا عبدالعظیم مدنی کی والدہ کے انتقال پر تعزیت

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آج اخبار میں یہ المناک خبر پڑھ کر دل نہایت رنجیدہ اور غمگین ہوگیا کہ آپ کی والدہ محترمہ اس دارِ فانی سے کوچ کرگئیں۔ بے اختیار زبان سے یہی کلمات نکلے: اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ یقیناً یہ خبر اہلِ خانہ اور متعلقین کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے، کیونکہ ماں جیسی ہمدرد، شفیق اور بے لوث محبت کرنے والی ہستی کا دنیا سے رخصت ہوجانا زندگی کے بڑے سانحات میں سے ایک ہے۔ موت ایک یقینی حقیقت اور اٹل قانونِ الٰہی ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ انسان خواہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، ماں کی جدائی کا صدمہ دل کو گہرائی تک مغموم کردیتا ہے کیونکہ دنیا میں ماں سے بڑھ کر مخلص، ہمدرد اور خیر خواہ رشتہ کوئی نہیں ہوتا، لیکن بندۂ مومن کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہے اور صبر و رضا کا دامن تھامے۔ مرحومہ یقیناً نہایت نیک سیرت، رحم دل اور شفیق ماں تھیں، اور اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی صالح اور باکردار اولاد عطا فرمائی جو علمِ دین، حسنِ اخلاق اور خدمتِ اسلام میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ آپ جلیل القدر اہلِ علم کی ماں تھیں جن میں خصوصیت کے ساتھ مولانا عبدالخبیر زاہد آزاد جھنڈانگری، مولانا عبدالرقیب عالیاوی اور مولانا عبدالعظیم مدنی جیسے اہلِ علم کے نام قابلِ ذکر ہیں، جو علم و فضل، بلند اخلاق اور دینی خدمات کے باعث جماعت اہلحدیث ہند و نیپال میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ بلاشبہ ایسی صالح اور دیندار اولاد کسی ماں کی بہترین تربیت، اخلاص اور دعاؤں کا ثمر ہوتی ہے اور یہ مرحومہ کے حسنِ تربیت اور ان کی زندگی کے بابرکت اثرات کا روشن ثبوت ہے۔ اگرچہ مرحومہ کی وفات سے جو خلا پیدا ہوگیا ہے وہ بظاہر کبھی پُر نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ کے بعد ماں ہی ایک ایسی ہستی ہے جو اپنی اولاد سے بے لوث اور والہانہ محبت کرتی ہے، ماں کی شفقت اور دعاؤں کا سایہ اولاد کے لیے ایک عظیم نعمت ہوتا ہے تاخیر سے خبر ملنے پر جنازے میں شرکت کا شرف تو حاصل نہ ہوسکا لیکن یہاں بیٹھ کر دل کی گہرائیوں سے آپ کی والدہ مرحومہ کے لیے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور انہیں اپنی وسیع رحمتوں کے سایہ میں جگہ عطا کرے۔
آپ اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں کے لیے صبر و حوصلے کا سہارا بنیں اور اس صدمے کو استقامت اور اللہ پر توکل کے ساتھ برداشت کریں تاکہ خاندان کے دیگر افراد کو بھی آپ کی ہمت سے تقویت ملتی رہے۔ اس جانکاہ صدمے میں مجھے اپنا غمگسار سمجھیں، میں دل کی گہرائیوں سے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی والدہ مرحومہ کو غریقِ رحمت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور آپ سمیت تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے،۔

شریک غم
عمیر مقتدیٰ مئوی


محترم المقام جناب شیخ عبد الخبير زاهد ٱزاد جھنڈا نگری صاحب حفظہ اللہ ۔
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
آپ کی والدۂ محترمہ کے انتقال کی خبر سن کر دل گہرے رنج و غم اور ملال سے بھر گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں وہ مبارک سایہ ہے جس کی شفقت، دعائیں اور محبت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں، اور جب یہ سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے تو دل ایک ایسے خلا کو محسوس کرتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوتا ہے۔

آپ کی والدہ مرحومہ نیکی، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کا نمونہ تھیں۔ ایسی صالحہ ہستیوں کا دنیا سے رخصت ہونا بلاشبہ ایک عظیم خسارہ ہے، مگر اہلِ ایمان کے لیے یہ یقین باعثِ تسلی ہے کہ نیک اعمال اور خالص زندگی اللہ تعالیٰ کے ہاں کبھی ضائع نہیں ہوتی۔
ہم اس غم کی گھڑی میں آپ اور آپ کے تمام اہلِ خانہ کے ساتھ دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اپنے خاص فضل و کرم سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔آمین
اللہ تعالیٰ آپ کو صبرِ جمیل، حوصلۂ کامل اور اس صدمۂ عظیم پر اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ بے شک ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
إنا لله وإنا إليه راجعون
والسلام علیکم ورحمة الله وبركاته
شریک غم سلیم ساجد مدنی
داعي جمعية الدعوة و الإرشاد رياض


برادر محترم و مکرم جناب شیخ عبدالخبیر زاہد آزاد صاحب و شیخ عبدالعظیم مدنی صاحب وجمیع اہل خانہ /حفظكم الله تعالى و احسن عزائكم .
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته۔
والدہ ماجدہ رحمها الله تعالی ورفع درجتہا واسکنہا فسيح جناته ‌کےانتقال کی افسوسناک خبر حالت سفر میں موصول ہوئی۔ خبر معلوم ہو کر سخت صدمہ لائق ہوا ۔یقینا والدہ محترمہ جیسی مشفق و مہربان ہستی کی رحلت اور جدائی انتہائی تکلیف دہ امر ہے، لیکن قضائے الہی پر صبر کرنا ایک مومن کا شیوہ ہے۔ پس تمام اہل خانہ اور متعلقین حکم نبوی(فلتصبرولتحتسب ) پر عمل کرتے ہوئے صبر سے کام لیں .اللہ تعالی آپ تمام حضرات کو اس صدمے کے وقت میں صبر کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ افسوس کہ میں سفر میں ہونے اور صحت کے مسائل کی وجہ سے جنازے میں شرکت اور تعزیت کے لیے حاضر ہونے سے قاصر رہا۔ بہرحال میری اور جملہ اہل خانہ کی طرف سے بہت بہت تعزیت عرض ہے ۔اللہ تعالی سے بصمیم قلب دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ والدہ محترمہ کواپنےفضل و کرم کی چادرسےڈھانک لے اور ان کی بال بال بخشش کرے، اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور تمام متعلقین کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازے ۔آمین ۔فقط والسلام۔
شریک غم/آپ کا بھائی ازھر بن عبدالرحمن رحمانی مبارک پوری۔ جامعہ ابی ہریرہ الاسلامیۃ لال گوپال گنج ۔پریاگ راج۔ یوپی۔


گرامی قدر مولانا عبد الخبیر زاہد آزاد جھنڈا نگری حفظہ اللہ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ابھی تھوڑی دیر قبل عزیزم احسن سلمہ نے آپ کی والدہ ماجدہ کی رحلت کی نہایت تکلیف دہ اور غم انگیز خبر سنائی، جسے سن کر مجھے اور میرے اہل خانہ کو شدید صدمہ پہنچا، میرے بھائی قضائے الٰہی پر تسلیم و رضا ایک مومن کی شان ہے، لہذا صبر و شکر کا دامن تھام کر اللہ تعالی سے خیر کی امید رکھیں، میں آپ کے اس غم میں برابر کا شریک ہوں۔
لله ما اعطى وله ما أخذ وكل شيء عنده بأجل مسمى فلتصبروا ولتحتسبوا.
انا لله وإنا إليه راجعون، تغمدها الله برحمته الواسعة وغفر لها واسكنها الفردوس الأعلى.

عظم الله أجركم، وجعل الجنة مثوى ميتكم ويلهكم الصبر والسلوان.
شریک غم
افضال احمد شمیم سلفی
دوحہ قطر

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter