ایران کا غیر دانشمندانہ فیصلہ:خلیجی ممالک کے امن کو خطرہ، اور مملکت سعودی عرب کا حکیمانہ موقف: قمرآلدین الریاضی

4 مارچ, 2026

حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ وہ فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کے نام پر امریکہ کے خلاف جنگی مؤقف اختیار کر رہا ہے، لیکن عملی صورتِ حال یہ ہے کہ اُس کی جانب سے داغے گئے میزائلوں نے براہِ راست مملکتِ سعودی عرب، قطر، کویت اور عرب امارات جیسے خلیجی ممالک کے شہری اور پُرامن علاقوں کو نشانہ بنایا— بلا شبہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جسے پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جس نے خطے میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی۔

یہ طرزِ عمل کھلی جارحیت، علاقائی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی اور بین الاقوامی اصولوں کی پامالی کے مترادف ہے۔ فلسطین کے نام پر ایسے اقدامات جو مسلم ممالک ہی کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیں، نہ حکمت پر مبنی ہیں اور نہ ہی امت کے مفاد میں۔ شہری آبادی کو نشانہ بنانا کسی بھی اخلاقی، انسانی یا قانونی معیار پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ہم ان کارروائیوں کی نہایت سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اسے خلیجی خطے کے امن، معاشی استحکام اور عوامی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک پیش رفت سمجھتے ہیں۔ اس قسم کی عسکری مہم جوئی نہ صرف کشیدگی کو بڑھاتی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع تر تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے، جس کے نتائج سب کے لیے تباہ کن ہوں گے۔

ہم پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران فوری طور پر ایسے اقدامات سے باز آئے، خطے کے امن کو داؤ پر لگانے سے گریز کرے، اور اختلافات کے حل کے لیے سفارتی اور پرامن ذرائع اختیار کرے۔ حکمت، اعتدال اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہی وہ راستہ ہے جو مسلم دنیا کے استحکام اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے۔

مملکتِ سعودى عرب کی پالیسی، خصوصاً گذشتہ دنوں میں، خطے کے استحکام اور کشیدگی میں کمی لانے کی سنجیدہ کوششوں سے عبارت رہی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے مابین چینی ثالثی کے ذریعے تعلقات میں جو پیش رفت ہوئی، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ موجودہ بحران کے دوران بھی مملکت نے نہایت حکیمانہ طرزِ عمل اختیار کیا اور اپنے فضائی حدود اور عسکری تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ موقف محض زبانی ہمدردی نہ تھا بلکہ غیر جانب داری اور حسنِ نیت کا عملی اظہار تھا۔

سعودی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ مملکت نے کبھی “دو رُخی” پالیسی اختیار نہیں کی؛ جو مؤقف اپنایا، اسے عملی صورت میں ڈھالا اور ثابت قدمی کے ساتھ اس پر قائم رہی، زمانے کی گردش بھی اسے متزلزل نہ کر سکی۔ اسی بنا پر امریکی حملوں کے بعد ایرانی قیادت کو سعودی قیادت سے رابطہ کرنا پڑا، بالخصوص سمو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے، اور دونوں فریقوں کے درمیان مثبت مذاکرات کی خبریں سامنے آئیں۔ ان حالات میں اگر ایران کی جانب سے سعودی مفادات کو نشانہ بنایا جائے تو یہ “سیاسی بدعہدی” اور اعلیٰ ظرفانہ مواقف کی ناشکری کے مترادف ہوگا۔

بار الہ سے دعا ہے کہ وہ تمام مسلم ممالک کو ہر قسم کی جارحیت اور فتنہ و فساد سے محفوظ رکھے، اور خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی فضا قائم فرمائے۔آمین یارپ العالمين

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter