نیپال اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی جنرل لیبر معاہدے پر دستخط
مولانا مشہود خاں نیپالی
ریاض / ایجنسی
نیپال کے لیے غیر ملکی روزگار کی سب سے بڑی منزل سمجھے جانے والے مملکت سعودی عرب اور نیپال کے درمیان بالآخر ایک تاریخی دوطرفہ محنتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے پر محیط سفارتی اور تکنیکی کوششوں کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ ایک باوقار تقریب کے دوران عام محنت کشوں کی بھرتی اور نظم و نسق سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
اس اہم معاہدے پر حکومت نیپال کی جانب سے وزیر محنت، روزگار و سماجی تحفظ راجندر سنگھ بھنڈاری جبکہ سعودی عرب کی طرف سے وزیر انسانی وسائل و سماجی ترقی احمد بن سلیمان الراجحی نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب میں مقیم لاکھوں نیپالی محنت کشوں کے روزگار کو مزید محفوظ، منظم اور باوقار بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہے، جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ نیپال نے سنہ 2070 ہجری شمسی (2013ء) سے سعودی عرب کے ساتھ لیبر معاہدے کے لیے باضابطہ کوششیں شروع کر رکھی تھیں۔ متعدد مرتبہ مسودوں کا تبادلہ ہوا، مگر مختلف وجوہات کے باعث معاہدہ حتمی شکل اختیار نہ کر سکا۔ حالیہ پیش رفت اس وقت ممکن ہوئی جب گزشتہ بھادو 13 کو منعقدہ کابینہ اجلاس نے اس معاہدے کی راہ ہموار کی۔
تاہم، بھادو 23 اور 24 کو ہونے والی ’جین زی تحریک‘ اور اس کے نتیجے میں حکومت کی تبدیلی کے باعث دستخط کا عمل کچھ عرصے کے لیے مؤخر ہو گیا تھا۔ بعد ازاں سیاسی استحکام کے قیام اور ازسرِنو شروع کی گئی کوششوں نے بالآخر کامیابی کی صورت اختیار کر لی۔
یہ معاہدہ نہ صرف نیپالی محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، تعاون اور دوستانہ تعلقات کو بھی نئی بلندیوں تک لے جانے کی امید پیدا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نیپال کے غیر ملکی روزگار کے نظام میں ایک مثبت اور دور رس اثرات رکھنے والا باب ثابت ہو ،
مولانا مشہود خاں نیپالی
آپ کی راۓ