سعودی عرب کردار کا غازی ہے گفتار کا نہیں

ابو حماد عطاء الرحمن المدنی/ المرکز الاسلامی کاٹھمنڈو

5 نومبر, 2023
آج کل سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے حاسد، احسان فراموش اورجاہل قسم کے لوگ فلسطین کے تعلق سےسعودی کی خدمات کو دانستہ طورپر زیر کرنے کی ناروا کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور لگاۓ ہوۓ ہیں جبکہ یہ بات ہر کسی کو معلوم ہے کہ مسئلہ فلسطین کوسعودی عرب کی خارجہ پالیسیوں میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اور یہ آج سے نہیں بلکہ بانی مملکت شاہ عبد العزیز آل سعود ہی کے دور سے ہے حتی کہ موجودہ فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مبارک دور تک جاری وساری ہے۔
  ممملکت سعودی عرب نے فلسطین کا مالی، سیاسی، فکری اورنظریاتی طورپر جو تعاون پیش کیا ہے ان کا احاطہ اس مختصر سی تحریر میں نہیں کیا جاسکتا۔ پھر بھی بطور نمونہ ریکارڈ کے پنوں پر نظر دوڑانے سے پتہ چلتاہے کہ 1967ء کو خرطوم میں منعقدہ سربراہ کانفرنس کے وقت مملکت نے فلسطین کے لئے وسعت قلبی کے ساتھ بھرپور مالی تعاون پیش کیا تھا۔ اسی طرح 1978ء کو بغداد میں منعقد عرب سربراہی اجلاس میں فلسطینیوں کےسالانہ مالی امداد دس سال کے لئے ( 1979ء سے 1989 ءتک) ایک ارب ستانوے  ملین، تین لاکھ امریکی ڈالر فراہم  کیاتھا۔  اور 1987ء میں الجزائر کی ہنگامی سربراہی کانفرنس کےوقت مملکت سعودی عرب نے فلسطینی انتفاضہ کے لئے ماہانہ 6 ملین ڈالر کی امداد مختص کرنے کا فیصلہ کیا اور 1987ء میں  پہلے انتفاضہ کے دوران فلسطینی انتفاضہ فنڈ میں ایک ملین ڈالر کی امداد پیش کی مزید دو ملین ڈالر انٹرنیشنل ریڈکراس کو فلسطینیوں کے لئے ادویات، طبی آلات اور خوراک کی خریداری کی غرض سے دی۔
اردن میں بحیرہ میت کے کنارے منعقدہ عرب سربراہی اجلاس کے موقع سے سعودی عرب نے فلسطینی اتھارٹی کےبجٹ میں اپنی ماہانہ شراکت کی مقدار 7.7 ملین ڈالر کو بڑھا کر  20 ملین ڈالر کردیا۔
2017ء میں الأقصی اور القدس فنڈ میں اضافے کے لئے 500 ملین ڈالر، اور القدس میں واقع اسلامی اوقافِ کے لئے 50 ملین ڈالر، اقوام متحدہ کی ایجنسی ” انروا” کو القدس اور فلسطینیوں کی ضروریات کے لئے 50 ملین ڈالر کا عطیہ پیش کیا یہاں تک کہ 2000ء سے 2019ء تک مملکت کی طرف سے فلسطین کو فراہم کی جانے والی امداد 7 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔
1987ء میں فلسطینی انتفاضہ فنڈ میں سعودی عوام کی جانب سے 118 ملین ریال، اسی طرح 1994ء- 1995ء- 1997 اور 1999ء کے دوران ڈونر ممالک کی کانفرنس کے ذریعے فلسطین میں ترقیاتی پروگراموں کے لئے 1بلین ڈالر دیئے۔ 2014ء میں اسرائیلی جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کے لئے 500 ملین ڈالر سے تعاون کیا۔
مملکت نے فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ کی سپورٹ کے لئے 2002ء میں بیروت سربراہی کانفرنس کیمطابق طے شدہ تمام شراکتیں پوری کردیں۔ 2002ء سے 2004ء تک کی مدت  کے دوران  184,8 میلن ڈالر وعدے کیمطابق ادا کردیا۔ اپریل سے ستمبر 2004ء کے آخر تک 46.2 ملین ڈالر کی پوری رقم منتقل کردی۔
اردن میں سعودی سفیر نایف بن بندر السدیری نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کو بتایا کہ 1999ء سے اکتوبر 2022ء تک فلسطین کے لئے سعودی عطیات کا حجم 5.2 بلین ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔
السدیری،  جنہیں رواں سال ماہ اگست میں فلسطین میں پہلے سعودی سفیر کے طورپر تعین کیا گیا وہ کہتے ہیں : کہ اس مالی تعاون کے ذریعے فلسطینی اتھارٹی کے بجٹ کی سپورٹ، انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، خوراک اور دیگر شعبوں جیسے زرعی تحفظ، فلسطینی سول سوسائٹی، پانی اور ماحولیاتی صفائی کے لئے براہ راست مدد شامل ہے۔
  تقریبا ایک ماہ سے جاری موجودہ بحران کے پیش نظر 3 نومبر 2023ء جمعہ کے دن سعودی عرب کی تمام مساجد میں شاہ سلمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ کی جانب سے عوامی سطح پر غزہ کے لئے خصوصی فنڈ کا اعلان کیا گیا۔
صرف 24 گھنٹوں میں 3لاکھ 90 ہزار لوگ فنڈ ریزنگ میں حصہ لے چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے، جن لوگوں نے اب تک اس کار خیر میں بھاری مالی تعاون پیش کیا ہے وہ یہ لوگ ہیں:
ملک سلمان بن عبد العزیز: 30 ملین ریال۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان:   20 ملین ریال۔
مؤسسۃ عبد اللہ العثیم وألادہ الخیریۃ : , 10 ملین ریال۔
مؤسسۃ أبو غزالۃ للتنمیۃ والبیک: 10ملین ریال۔
 مؤسسۃ حیاۃ الخیریۃ: 10 ملین ریال۔
 مؤسسۃ الغویری الخیریۃ: 3 ملین ریال۔
 فاعل خیر: 2 ملین ریال۔
مؤسسۃ محمد ابراھیم السبیعی الخیریۃ: , 2 ملین ریال۔
 شرکۃ ھنقر ستیشن المحدودۃ: , 2 ملین ریال۔
 ماکدونالدز السعودیۃ: 2 ملین ریال۔
 مؤسسۃ سالم بن محفوظ الأھلیۃ: 2 ملین ریال۔
مؤسسۃ الولید للانسانیۃ: 1 ملین ریال۔
مؤسسۃ سلیمان أبانمی الأھلیۃ: 1 ملین ریال۔
الشیخ عبد العزیز أحمد محمد بغلف: 1 ملین ریال۔
أوقاف الأمیر متعب بن عبد العزیز آل سعود: 1 ملین ریال۔
مؤسسۃ محمد بن عبد اللہ الماجد الأھلیۃ: 1 ملین ریال۔
مؤسسۃ عبداللہ بن ابراہیم السبیعی الخیریۃ: 1 ملین ریال۔
شرکۃ سلسلۃ مقاھی: 5 لاکھ ریال۔
طلال و طارق أبناء عمر العقاد: 5 لاکھ ریال۔
المسافر للسفر والسیاحۃ: 5 لاکھ ریال۔
أوقاف محمد بن عبد اللہ الجمیح الخیریۃ:  3 لاکھ ریال۔
ساین: 2 لاکھ 50 ہزار ریال۔
وقف محمد بن صالح العذل:  2 لاکھ 50 ہزار ریال۔
مؤسسۃ عبد العزیز بن طلال وسری بنت سعود للتنمیۃ الإنسانية:  2 لاكھ ریال۔
 سیدۃ الأعمال أمیرۃ الطویل:  1 لاکھ ریال۔
ان کے علاوہ بہت سارے لوگ ہیں جن کے نام اس لسٹ میں نہیں  ہیں، اور تبرعات کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
مشرق وسطی میں پائیدار قیام امن پیدا کرنے کی خاطر حماس کے حملے سے قبل سعودی عرب اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے کے راستے پر تھا، جیسا کہ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے کیاہے۔ یہ سلسلہ ابھی کے لئے رک گیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حماس کا اسرائیل پر حملہ جزوی طور پر اس عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو پٹری سے اتارنے کی خواہش کے نتیجے میں ہوا جس کی وجہ سے حماس اور ایران نئے مشرق وسطیٰ میں اکیلے رہ جاتے۔
کیا خطے میں حالات واپس ویسے ہوجائیں گے جیسے حماس کے حملے سے پہلے تھے؟  ابھی ایسا ہوتے ہوئے محسوس نہیں ہورہا، اسرائیل کسی قسم کے سمجھوتے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ ایک نہ ایک دن ضرور تنازع ختم ہوگا، اس وقت  ترکی اور ایران میں سے کوئی آگے نہیں آۓگا  بلکہ سعودی عرب ہی وہاں تعمیر نو کے لئے فنڈ کرے گا ان شاءاللہ۔
اللہ تعالیٰ مملکت سعودی عرب اور اس کے فرمانرواؤں کی صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے  خصوصاً خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت بخشے  اور مظلوم فلسطینیوں کی ہر طرح سے غیبی مدد کرے۔
أبو حماد عطاء الرحمن المدنی
المرکز الاسلامی کاٹھمنڈو

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter