نیپال ایشیا کپ میں ہے، ’یقینی بنائیں پاکستان اور انڈیا کے مسائل سے ٹورنامنٹ برباد نہ ہو‘

8 مئی, 2023
کٹھمنڈو / کئیر خبر
نیپال نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) پریمیئر کپ کے فائنل میں متحدہ عرب امارات کو شکست دے کر رواں سال ستمبر میں پاکستان میں ہونے والے ایشیا کپ کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔
گزشته ماه نیپال نے کرتیپور کرکٹ سٹیڈیم میں متحدہ عرب امارات کو سات وکٹوں سے شکست دی اور اپنی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایشیا کپ تک رسائی حاصل کی۔
اے سی سی پریمیئر کپ جیتنے کے بعد نیپال ایشیا کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والی چھٹی ٹیم بن گئی ہے جہاں اسے پاکستان اور انڈیا کے گروپ میں شامل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب انڈین کرکٹ بورڈ نے تاحال پاکستان میں ایشیا کپ کھیلنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے جس کی وجہ سے اس ٹورنامنٹ پر بے یقینی کی تلوار لٹکی ہوئی ہے۔
ایشیا کپ 2023 کے میزبانی کے حقوق پاکستان کے پاس ہیں تاہم انڈین کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری جے شاہ، جو کہ اے سی سی کے چیئرمین بھی ہیں، نے واضح کیا تھا کہ انڈین ٹیم پاکستان کھیلنے نہیں جائے گی۔
اسی سلسلے میں پی سی بی نے ایشیا کپ کی میزبانی کے لیے ’ہائبرڈ ماڈل‘ تجویز کیا تھا جس کے تحت ٹورنامنٹ کے سارے میچز سوائے انڈیا کے پاکستان میں جبکہ انڈیا کے میچز نیوٹرل وینیو پر ہوں گے۔
نیپال کے ایشیا کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے بعد ٹیم کے فینز نہ صرف خوش ہیں بلکہ پاکستان اور انڈیا سے اپنے معاملات سُلجھانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
نیپالی بزنس مین چندن گُپتا نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’انڈیا اور پاکستان تیار ہو جائیں، ہم بھی ایشیا کپ 2023 میں ہیں۔‘
انہوں نے پاکستانی اور انڈین کرکٹ بورڈ کو مخاطب کرکے مزید لکھا کہ ’نیپالی کرکٹ ٹیم نے متحدہ عرب امارات کو شکست دینے کے بعد ایشیا کپ میں داخل ہو کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ یقینی بنائیں پاکستان اور انڈیا کے مسائل کی وجہ سے ایشیا کپ برباد نہ ہو ورنہ نیپال کرکٹ فینز آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔‘
جے شاہ کی جانب سے بھی نیپال کو ایشیا کپ کے لیے کوالیفائی کرنے پر مبارکباد دی گئی۔ کرن گھیمیری نامی نیپالی صارف نے جے شاہ کی ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’امید کرتے ہیں کہ محنت سے حاصل کیا گیا یہ موقع پاکستان اور انڈیا کے سیاسی لڑائی کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔‘
اس حوالے سے پریمیئر کپ کا فائنل دیکھنے آئے ہوئے ایک نیپالی کرکٹ فین کی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ سندیپ پانڈے ہاتھ میں پوسٹر لیے کھڑے ہیں جس پر لکھا ہے کہ ’ڈیئر پاکستان، ہم آپ کے گھر ایشیا کپ کھیلنے آ رہے ہیں۔‘
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ انڈین کرکٹ بورڈ ایشیا کپ متحدہ عرب امارات منتقل کرنا چاہتا ہے۔ خیال رہے 2018 اور 2022 کا ایشیا کپ بھی متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا تھا جس کے اصل میزبان بالترتیب انڈیا اور سری لنکا تھے۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter