موت کا خوف؛ بیماری سے کہیں زیادہ خطرناک!

عتیق الرحمن ریاضی

5 مئی, 2021

موجودہ حالات میں ہر طرف موت اور بیماری کا خوف اس قدر ہے کہ ہر شخص خوف میں مبتلا نظر آتا ہے ، خوف کی فضا میں ہر شخص دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے کہ کہیں وہ کورونا کا سفیر تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔
اس خوف میں مبتلا ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پورا عالم اس خوف میں مبتلا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ خوف سے خوف جنم لیتا ہے۔۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وبائی وائرس کا خوف اس قدر پھیلایا گیا کہ موت کے خوف سے موت سے پہلے ہی لوگ جینا بھول گئے۔۔۔۔۔۔
کورونا وائرس کے خوف کی بڑی وجہ اس سے ہونے والی اموات کی شرح ہے ، کیونکہ انسان کو سب سے زیادہ خوف موت کا ہی ہوتا ہے اور پھر ایسی بیماری جس کے علاج کے بارے میں معلومات بھی محدود ہیں ، چنانچہ اسی وجہ سے لوگوں میں ایک سراسیمگی پائی جاتی ہے اور لاک ڈاؤن نے اس میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔
خوف انسانی فطرت کا حصہ ہے لیکن خوف جب ذہن میں گھر کر جائے اور ذہن منفی خیالات کی آماجگاہ بن جائے تو ایسی حالت ڈپریشن کہلاتی ہے اور آج لوگ مختلف طریقوں سے خوف اور ڈپریشن کا شکار ہیں، کچھ لوگ وبا کی ڈر سے ، کچھ لوگ میڈیا اور سوشل میڈیا پر مریضوں کی تعداد اور اموات سن کر ذہنی طور پر الجھن کا شکار ہو گئے اور کچھ لوگ واقعی کورونا جیسی وبا کا شکار ہونے کے بعد اپنے آپ کو ایک کمرہ میں بند کر لیا ، پھر وہ خوف اور تنہائی کی وجہ سے ڈپریشن اور کمزوری کا شکار ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔
خوف اور ڈپریشن کی وجہ حالات بھی ہوتے ہیں اور انسان کے اپنے خیالات بھی،جو شخص اپنے منفی خیالات پر کنٹرول نہیں کر پاتا وہ خود ہی اپنے اندر خوف پیدا کرنے کی وجہ بنتا ہے۔۔۔۔۔
میرے بھائی! خوف سے زیادہ خوفناک چیز کوئی نہیں ، دو فٹ اونچی دیوار پر ہر کوئی آسانی سے چل سکتا ہے ، دوڑ سکتا ہے لیکن وہی دیوار اگر دس بارہ فٹ اونچی ہو تو دو چار قدم چلتے ہی ہر شخص دیوار سے نیچےگر جائے گا ۔۔۔۔۔

اک خوف سا درختوں پہ طاری تھا رات بھر
پتے لرز رہے تھے ہوا کے بغیر بھی

خوف اور ڈر کے کئی روپ ہیں ، کئی چیزیں کسی کیلئے فن تو کسی کیلئے فیئر ۔۔۔۔

گرمی میں سکون پہنچانے کا سستا ذریعہ پنکھے ہیں ۔ کئی افراد کو یہ خوف ہوتا ہے کہ چھت پر لگا پنکھا ابھی گرجائے گا ۔۔۔۔۔۔
کسی کو موٹرسائیکل چلانےسے خوف آیا ہے تو وہ زندگی بھر اناڑی ہی رہا ۔۔۔۔۔
کسی کیلئے بلند و بالا پہاڑوں پر چڑھنا کوئی مسئلہ نہیں تو کسی کیلئے تھوڑی سی اونچائی بھی باعث گھبراہٹ ہوتی ہے ۔۔۔۔۔!
کسی کو اندھیرے کا خوف تو کسی کو اجالے کا خوف!

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے
اک دن نکل نہ جاؤں ذرا اپنے آپ سے

آج کل ساری دنیا میں کووِڈ کا خوف چھایا ہوا ہے ،ایک سے دوسرے کو بہت جلد لگنے والی اس بیماری نے قیامت برپا کر رکھی ہے ، خوف اس قدر کہ بیمار کی نہ تو عیادت کی جاسکتی ہے اور نہ تیمارداری!

پڑیئے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیمار دار
اور اگر مر جائیے تو غسل دینے والا بھی نہ ہو

میرے خیال میں وہ لوگ جو اس وائرس سے بے نیاز ہو کر اور اس حوالے سے دنیا بھر سے ملنے والی معلومات کو نظر انداز کرکے معمولات زندگی اپنائے ہوئے ہیں،وہ ان لوگوں سے کہیں زیادہ پرسکون ہیں جو ہر وقت مختلف ذرائع سے اس وائرس یا عذاب کے بارے میں معلومات حاصل کرکے نہ صرف غیر ضروری طور پر خود کو مختلف اقسام کے خوف میں مبتلا کرتے ہیں بلکہ ان معلومات کو دوسروں تک پہنچا کر ان کی زندگی یا ان کا جینا بھی حرام کر دیتے ہیں، انہیں شاید معلوم نہیں اتنے انسان کسی مہلک بیماری سے نہیں مرتے جتنے اس بیماری کے خوف سے مرتے ہیں۔۔۔۔۔۔!

دینی و ملی بھائیو! خوف کی بہت ساری قسمیں یہ سب اپنی جگہ لیکن اگر ہم اپنی زندگیوں میں خوف الہی شامل کرلیں تو تمام خوف ہوا میں اڑ جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔

اللہ کے خوف سے جو دل لرزتے رہتے ہیں
انہیں کبھی بھی زمانے سے ڈر نہیں آیا

کورونا کا مشکل وقت ان شاء اللہ تعالیٰ ایک دن ختم ہو جائے گا ، لیکن اس مشکل وقت میں اپنے ایمان کو برقرار رکھنے بلکہ اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔۔۔۔
انسان یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ جس نے کائنات بنائی ہے وہ اُس کی حفاظت بھی کرنا جانتا ہے ، رب کی مرضی کے بغیر کائنات کا ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا۔۔۔۔۔
باقی جو تکالیف, پریشانیاں و آفتیں آرہی ہیں وہ وقتی ہیں جو بیشک بندوں کے لئے آزمائش ہیں, ہمارے صبر, برداشت, حوصلوں, ایمان اور اللہ تعالی پہ یقین کی آزمائش اور جو اس آزمائش میں کھرا اترتا ہے وہی مومن کہلاتا ہے ،کیونکہ جس انسان کو اللہ تعالی پہ مکمل یقین ہوتا ہے اُس کو کوئی وبا کوئی آفت کچھ نہیں بگاڑ سکتی , دراصل سارا کھیل ایمان اور یقین کا ہے یقین ہمارے اندر ہمت, طاقت, حوصلہ پیدا کرتا ہے جو بڑی سے بڑی مشکل, خطرے اور پریشانی سے ہمیں لڑ کر جیتنا سکھاتا ہے ………

رہی بات موت کی تو یاد رہے موت حیات اللہ تعالی کے ذمہ ہے نہ کہ کسی وائرس یا انسان کے اور جب تک اُس رب کائنات کا بلاوا نہ آئے موت ہمیں چھو بھی نہیں سکتی ساتھ لے جانے کی بات تو بہت دور کی ہے ……

یہاں ہمیں خالد بن ولید کا وہ پیغام یاد آرہا ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے:
” موت لکھی نہ ہو تو موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے” جب موت مقدر ہو تو زندگی خود دوڑتی ہوئی موت سے لپٹ جاتی ہے, زندگی سے زیادہ کوئی جی نہیں سکتا اور موت سے پہلے کوئی مر نہیں سکتا, دنیا کے بزدلوں کو یہ پیغام پہنچادو کہ اگر میدان جہاد میں موت لکھی ہوتی تو اس خالد بن ولید کو بستر پہ موت نہ آتی ۔۔۔۔۔

خالد بن ولید کا یہ پیغام ہر اُس گھبرائے, خوفزدہ انسان کے لئے ہے جو بیماری کے خوف سے جینا بھول گیا اور موت کے خوف سے بزدلی کا طوق اپنے گلے میں پہن لیا ۔۔۔۔۔۔

محترم حضرات! رنج و غم اور خوف سے نجات کا حل تو اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکل کے ساتھ اس کا ذکر ہے ، وہ جو چاہتاہے وہی ہوتاہے، اس لیے آزمائش اور پریشانی کے مواقع پر خوف یا وسوسوں کا شکار ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ پر توکل کیجیے، اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کیجیے، نماز پڑھ کر دعا کیجیے، اور اللہ پاک کا ذکر کرتے رہیئے۔۔۔۔۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ "اے ایمان والو! نماز اور صبر کے ذریعے مدد حاصل کرو”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیغام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالی پہ یقین رکھیں, کورونا کی دہشت کو دل و دماغ سے نکال پھینکیں کیونکہ یہ خوف کہیں نہ کہیں ہمارے ایمان کی کمزوری ہے اس لئے اپنے ایمان کو کمزور ہونے سے بچائیں اورکورونا کو غنیمت جان کر شر میں خیر تلاش کرتے ہوئے ہر وقت اپنے گناہوں کی توبہ کریں ویسے بھی موت برحق ہے ، جب دنیا فانی سے کوچ کرنے کا وقت قریب ہوگا تو ان شاءاللہ شان سے پرسکون سے جائینگے نہ کہ ڈر اور خوف کے سائے میں بزدلوں کی طرح گھٹ گھٹ کر ۔۔۔۔۔

جو دن یا رات قبر میں لکھے ہیں وہ باہر نہیں آسکتے اور جوقبر سے باہر لکھے ہیں وہ قبر میں نہیں آسکتے ۔۔۔۔۔
موت کا ایک دن،ایک وقت مقرر ہے ، وہ ٹل نہیں سکتا۔۔۔۔

” قلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّهُ مُلَاقِيكُمْ ”
کہہ دو کہ موت جس سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمہیں آ کر رہے گی۔

کہنے کا مقصد یہ ہے موت کا خوف خود پر طاری کرکے موت کے ایک مقررہ دن یا مقررہ وقت سے پہلے مرنے سے ہزار گنا بہتر ہے جتنی زندگی اللہ نے انسانوں کو ایک نعمت کے طور پر بخشی ہے وہ کسی وائرس یا کسی بیماری کے خوف میں گزارنے کے بجائے صرف اور صرف خوف الہی کے تحت گزار کر خود بھی سکون میں رہیں اور یہ پیغام آگے پہنچا کر دوسروں کو بھی سکون پہونچائیں۔۔۔۔۔۔
اللہ کے خوف کے تحت زندگی گزارنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی اور خوف انسان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔۔۔۔۔۔
اللہ کے خوف کا ان دنوں سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ مستحق لوگوں کی بڑھ کر مدد کی جائے۔۔۔۔۔۔
گزشتہ ڈیڑھ دو برسوں سے ملکی حالات کے پیش نظربے شمار دولت مندوں کو خود کئی طرح کی مالی مشکلات کا سامنا ہے ،اس کے باوجود ان کے پاس اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے ، سو اللہ کے دیئے ہوئے میں سے ہی دینا ہے ، وہ وقت آگیا ہے جب ہمیں چاہئے کہ اللہ پر اپنا ایمان مضبوط کریں،اپنے مستقبل کو اللہ پر چھوڑ کر مستحق لوگوں کے حال کی فکر کریں۔۔۔۔۔۔

پرسکون رہنے کا سب سے بہترین اور موثر طریقہ یہ ہے کہ ہم خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیں اور اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر پر راضی رہنا سیکھیں ، ایک بات طے شدہ ہے کہ پریشانی اور گھبرانے سے نہ مسائل حل ہوتے ہیں، نہ اس صورت احوال سے نکلا جا سکتا ہے ، البتہ اسے اپنے آپ پر سوار کرنے سے ذہنی حالت زیادہ ابتر ہو جاتی ہے، جس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا بلکہ انسان نقصان سے دو چار بھی ہو سکتا ہے، اور ساتھ میں کسی بیماری کا شکار بھی۔۔۔۔۔

پرسکون رہنے کے لئے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی کا ذکر و اذکار کریں اور فتنوں ، بلاؤں ، مصیبتوں و بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لئے کثرت سے دعائیں بھی پڑھتے رہیں ۔۔۔۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي، وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتالَ مِنْ تَحْتِي۔

اللهم إني أعوذ بك من البَرَصِ، والجُنُونِ، والجُذَامِ، وَسَيِّئِ الأسْقَامِ۔ آمین یا رب العالمین

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter