سعودی مملکت میں تارکین کے بینک کھاتوں کی کڑی نگرانی کی جائے گی

7 مارچ, 2019

جدہ(7مارچ 2019ء ) سعودی عرب میں غیر مُلکیوں کے اکاؤنٹ پر اب خاص نظر رکھی جائے گی۔ اس اقدام کا ایک خاص مقصد اُن غیر مُلکیوں کا پتا چلانا ہے جو مقامی شہریوں کے نام سے کاروبار چلا رہے ہیں۔ سعودی عربین مانیٹری اتھارٹی (ساما) کے مطابق اب سے سعودی بینکوں میں تارکین کے کھاتوں کی نگرانی ہو گئی۔ اگر کسی غیر مُلکی کے بینک اکاؤنٹ میں اُس کی آمدنی سے زائد رقم پائی گئی یا ٹرانزیکشن کا حجم زیادہ ہوا تو ایسی صورت میں متعلقہ بینک ریاستی سلامتی کے ادارے کو اس بارے میں فوری طور پر آگاہ کرے گا۔ساما کی جانب سے تمام بینکوں، مالیاتی اداروں، منی ایکس چینجرز کو تحریری طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کسی غیر مُلکی اکاؤنٹ ہولڈر کی آمدنی اور تنخواہ سے زائد رقم اُس کے اکاؤنٹ میں جمع ہو رہی ہو تو فوری طور پر ریاستی سلامتی کے ادارے کو آگاہ کیا جائے۔

کیونکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ رقم کسی دہشت گردی واردات یا منی لانڈرنگ میں استعمال ہو رہی ہو۔

بینکوں کی جانب سے تارکین کے بینک اکاؤنٹس پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔ ساما کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ اس وقت مملکت میں مقیم کئی غیر مُلکی زراعت اور تجارت کے شعبوں میں کسی سعودی کے نام سے کاروبار چلا رہے ہیں، جو سجل تجاری یعنی تجارتی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے لوگوں کا پتا چلانے کے لیے بینکوں کے ذریعے ہونے والی ٹرانزیکشنز کو بنیاد بنا کر اُن کے غیر قانونی کاروبار کا انسداد کیا جائے گا۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter