پاک بھارت پہلی ملاقات میں کس مسئلے پر بات ہوگی؟

27 اگست, 2018

عمران خان کے بطور وزیر اعظم حلف اٹھانے کےبعدبھارت کی عمران حکومت کے ساتھ پہلی بضابطہ ملاقات اس ہفتے اسلام آباد میں متوقع ہےجس میں ’انڈس واٹر‘ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

بھارتی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے وزیر اعظم کا حلف اٹھانے کے ایک ہفتے بعد بھارت اور پاکستان کی پہلی بضابطہ ملاقات اس ہفتے ہونے جارہی ہے، اس ملاقات کو بہت اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ اس ملاقات میں انڈس واٹر سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی اس بات کا اعلان کرچکے ہیں کہ اگر بھارت دوستی کی طرف ایک قدم بڑھے گا تو ہم دو قدم اس کی طرف بڑھیں گےاور اسی طرح پاک بھارت کے درمیان کشیدگی کو ختم کیا جاسکےگا۔ لیکن بھارت کی جانب سےابھی اختیاط برتاجارہا ہےجس کی وجہ انہیں نے سرحد پر جاری دہشتگردی کو قرار دیاہے۔

تاہم بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پچھلے دنوں عمران خان کو خط بھیجا تھا جس میں انہوں نے پاکستان کے ساتھ اچھے، مضبوط اور معنی خیز تعلقات کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے دونوں ملکوں میں امن لانے کے لیے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعمیراتی تعلقات رکھنے کے خواہ ہیں جس کے لیے طویل عرصے سے جاری تنازعات کو حل کرنا لازمی ہے اور تب ہی ’انڈس واٹر تنازعے‘ کو حل کرنا اس وقت پاکستان اور بھارت کی اولین ترجیح ہے اور اسے سلسلے میں اس ہفتےبھارت سے ایک ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔

دوسری جانب پاکستان نے ’کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹ‘ کا مسئلہ بھی عالمی بینک کے سامنےپیش کیا ہوا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کررہاہے۔اس حوالے سےکشن گنگا پروجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر اسلام آباد بھر میں احتجاج بھی کیے گئے تھے۔

سال 1960 میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا جس پر جنرل ایوب خان اور جواہر لال نہرو نے دستخط کیےتھے۔ سندھ طاس معاہدے کے مطابق مشرقی تین دریاؤں (راوی، ستلج اور بیاس ) پر بھارت کا مکمل قبضہ رہے گا جبکہ مغربی تین دریائوں (دریائے سندھ، جہلم اور چناب) پر پاکستان کا حق ہوگا۔

مگر بھارت نے مغربی دریاؤں پر بجلی پیدا کرنے کے لیےہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس تعمیر کرلیے اور یہاں تک کہ ان دریائوں کا پانی زراعت اور گھریلو ضروریات کےلیے استعمال کرنےکا حق بھی تسلیم کرالیا۔ اور یہی پاکستان ،بھارت کے درمیان تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے۔

سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان اور بھارت کی آخری میٹنگ رواں سال مارچ میں نئی دہلی میں منعقدکی گئی تھی جس میں پاکستان نے بھارت کے تین متنازع آبی منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراض اٹھایا اور پاکستانی وفد نے پکال دل، لوئرکینلائی اور میار کا دورہ کرانے کا مطالبہ کیا۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter