وقت کا سمندر

ڈاکٹر شازیہ مجید فیصل آباد پاکستان

11 اپریل, 2018

وقت کے سمندر میں
قہقہے چھپ جاتے ہیں
آرزوئیں سو جاتی ہیں
لڑکیاں بکھر جاتی ہیں
سیپ بن کے رہتی ہیں
سمجھوتوں کے سانچوں میں
کس طرح ڈھل جاتی ہیں
وقت کے سمندر میں
خود سے بے خود رہتی ہیں
کسی سے کچھ نہ کہتی ہیں
دکھ وہ سارے سہتی ہیں
پھر بھی چپ ہی رہتی ہیں
وقت کے سمندر میں
وقت ہی تو ظالم ہے
خود ہی ڈوب جاتی ہیں
وقت کے سمندر میں

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter