مملکت سعودی عرب کا یومِ تاسیس 

✒️محمد ہارون تیمی

22 فروری, 2026

مملکتِ سعودی عرب کے شہری اور مقیم افراد ہر سال 22 فروری کو یومِ تاسیس کے باوقار موقع کے منتظر رہتے ہیں۔ یہ دن قومی تاریخ کی ایک اہم ترین یادگار ہے جو سعودی ریاست کی تین صدیوں پر محیط گہری تاریخی جڑوں اور تہذیبی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ دن پہلی سعودی ریاست کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے، جس کی بنیاد امام امام محمد بن سعود نے 1139ھ بمطابق 1727ء میں رکھی۔ یہ تاریخی لمحہ دراصل ریاستی سفر کی ابتدا اور سیاسی و سماجی استحکام کی بنیاد تھا، جس نے جزیرۂ عرب میں ایک منظم اقتدار کی شکل اختیار کی۔
یومِ تاسیس ہر سال 22 فروری کو منایا جاتا ہے۔ سعودی قیادت نے اس تاریخ کو باقاعدہ قومی دن کی حیثیت دی ہے تاکہ ریاست کے تاریخی تسلسل اور تہذیبی شناخت کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ دن ان اصولوں کی یاد دہانی بھی کراتا ہے جن پر ریاست کی بنیاد رکھی گئی ۔
مؤرخین واضح کرتے ہیں کہ یومِ تاسیس اور قومی دن میں فرق ہے۔ یومِ تاسیس ریاستِ اولیٰ کے قیام (1727ء) سے متعلق ہے، جبکہ قومی دن 1932ء میں مملکت کے باضابطہ اتحاد کے اعلان کی یادگار ہے، جو بانیٔ مملکت شاہ عبدالعزيز بن عبدالرحمن آل سعود کی قیادت میں ممکن ہوا۔ اس طرح یومِ تاسیس سعودی تاریخ کے گہرے اور قدیم پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

سرکاری تقویم کے مطابق ہر سال یومِ تاسیس 22 فروری کو منایا جاتاہے خواہ وہ کسی بھی ہفتہ وار دن یا دیگر مناسبتوں کے ساتھ موافق ہو، تاکہ اس تاریخی تاریخ کی قومی حیثیت برقرار رہے۔
اس سال یہ دن ماہِ رمضان المبارک کے روحانی ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہوا ہے، جس سے اس کی معنویت اور جذباتی تاثیر میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی نے اعلان کیا ہے کہ یومِ تاسیس 2026ء کے موقع پر سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش شعبوں کے تمام ملازمین کے لیے بامعاوضہ عام تعطیل ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد شہریوں اور کارکنان کو قومی تقریبات میں بھرپور شرکت کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اگر کسی ادارے میں خدمات کی نوعیت کے باعث ملازمین کو کام کرنا پڑے تو انہیں ملکی قوانین کے مطابق متبادل چھٹی یا اضافی معاوضہ دیا جائے گا۔
تقریبات اور ثقافتی سرگرمیاں
یومِ تاسیس کے موقع پر سرکاری و ثقافتی ادارے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے ان میں روایتی ثقافتی مظاہرے، تاریخی سیمینارز، قومی ورثے کی نمائشیں اور عوامی تقریبات شامل ہیں۔ تعلیمی اداروں میں خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ نئی نسل کو پہلی سعودی ریاست کی تاریخ اور اس کے کردار سے روشناس کرایا جا سکے۔
شہروں کی شاہراہوں اور عوامی مقامات کو قومی پرچموں اور روشنیوں سے سجایا جاتا ہے جبکہ سرکاری عمارتوں کو سبز رنگ میں روشن کیا جاتا ہے تاکہ قومی فخر اور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔
یومِ تاسیس کے مقاصد
یومِ تاسیس منانے کے بنیادی مقاصد درج ذیل ہیں:
سعودی ریاست کی تاریخی جڑوں پر فخر کا فروغ
قیادت اور عوام کے درمیان اتحاد و یگانگت کو مضبوط کرنا
مملکت کے تہذیبی و علاقائی کردار کو اجاگر کرنا
نئی نسل کو پہلی سعودی ریاست کی تاریخ سے آگاہ کرنا
ریاستی سفر کی مختلف تاریخی منازل میں حاصل شدہ کامیابیوں کا اعتراف
قومی احساس اور تاریخی شعور کی تجدید
یومِ تاسیس محض ایک رسمی تعطیل نہیں بلکہ قومی شناخت اور اجتماعی شعور کی تجدید کا دن ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ مملکت کی بنیاد بیسویں صدی میں نہیں بلکہ تین صدیوں قبل رکھی گئی تھی، اور اس کے قیام و بقا کے لیے مختلف ادوار میں قیادت نے نمایاں کردار ادا کیا۔
ہر سال یومِ تاسیس کی آمد کے ساتھ ہی سرکاری اور عوامی سطح پر تیاریاں عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ یہ موقع نہ صرف ماضی کی عظمت کو یاد کرنے کا ہے بلکہ حال کی ترقی اور مستقبل کے روشن امکانات کی جانب پُرعزم سفر کا عہد بھی ہے —
اللہ تعالی مملکت سعودی عرب کی حفاطت فرماۓ ۔۔۔۔۔۔۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter