جمعیۃ السلام للتنمیہ الاجتماعیہ کے زیراہتمام اجلاس عام و تقریب دستاربندی حفاظ کرام اختتام پذیر

13 فروری, 2026

روپندیہی / پریس ریلیز

سابقہ روایات کی طرح امسال بھی جمعیۃ السلام للتنمیہ الاجتماعیہ کاٹھمانڈو، نیپال کے زیراہتمام معہد ابی بن کعب لتحفیظ القرآن الکریم موضع مریاد پور، روپندیہی نیپال میں مورخہ 10/02/2026 بروز منگل ، بوقت 10 بجے صبح دعوتی وتبلیغی اجلاس عام و تقریب دستار بندی حفاظ کرام کا انعقاد عمل میں آیا، جس کی سرپرستی مولانا شمیم الرحمن اثری حفظہ اللہ سرپرست جمعیۃالسلام للتنمیہ الاجتماعیہ نیپال اور صدارت استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ ابوصادق عاشق علی اثری حفظہ اللہ سابق جنرل سکریٹری ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر نئی دہلی نے فرمائی، جبکہ فضیلۃ الشیخ عبدالرحیم امینی حفظہ اللہ سابق شیخ الجامعہ جامعہ دارالہدی یوسف پور ، سدھارتھ نگر، یوپی نے نظامت کے فرائض نہایت ہی خوش اسلوبی سے سر انجام دیئے ۔
عزیزم عبدالفتاح عبدالمبین مدنی طالب معہد ابی بن کعب لتحفیظ القرآن الکریم کی تلاوت كلام مجید سے اس تقریب سعید کا باقاعدہ آغاز ہوا، پھرحافظ محمدعارف بیتی استاذ معہد الاصلاح اسلامی نے حمد باری تعالی اور حافظ ومولانا عبدالعلی محمد ارشاد عالیاوی حفظہ اللہ نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا،پھر عزیزم سعیدالرحمن اور ان کے رفقاء نے ترانۂ معہد پیش کیا۔
بعد ازاں کوٹہی گاؤں پالیکا وارڈ نمبر 3 کے ادھیکچھ صاحب نے اپنے تاثراتی کلمات میں معہد کے ننھے بچوں کو قرآن کریم حفظ کرنے اور ان کی وداعی پر خوشی ومسرت کا اظہار کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ معہد کی تعمیروترقی کے سلسلے میں میرے لائق جو بھی کام ہوگا وہ میں ضرورکروں گا۔
ان کے بعد کوٹہی گاؤں پالیکا کے میئر جناب بال کشن ترپاٹھی صاحب نے اپنے تاثراتی کلمات میں کہا کہ ہم لوگوں کی تہذیب گنگا جمنی تہذیب ہے اس کو ہرصورت میں برقرار رہنے کی ضرورت ہے، کچھ لوگ ہم لوگوں کے درمیان نفرت کی بیج بو کرماحول کو خراب کرنا چاہتے ہیں ہمیں ان کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیئے نیز ادارہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرنے کا وعدہ کیا ۔
بعد ازاں سرپرست جلسہ مولانا شمیم الرحمن اثری حفظہ اللہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے معزز مہمانوں اور تمام حاضرین کو خوش آمدید کہا اور اجلاس میں تشریف آوری پر جمعیت کے اراکین اور اساتذہ وطلبہ اورجملہ معاونین کی طرف سے خلوص دل سے ان کا شکریہ ادا کیا، اور جمعیت کی دعوتی، تعلیمی ، اشاعتی اور سماجی و رفاہی سرگرمیوں کا اجمالی تعارف پیش کیا۔
بعد ازاں عالی وقار ومعزز مہمانوں کے دست ِمبارک سے معہد سے حفظ قرآن کریم کی تکمیل کرنے والے (13) خوش نصیب حفاظ کی دستار بندی عمل میں آئی، اور انہیں شہادہ کے ساتھ ایک عدد ہینڈبیگ، گھڑی، متنوع شرعی کتب اور ملابس وغیرہ کی صورت میں انعامات سے نوازا گیا۔
اس کے بعد باقاعدہ خطابات کا سلسلہ شروع ہوا جس میں سب سے پہلے صدر اجلاس استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ ابوصادق عاشق علی اثری حفظہ اللہ سابق جنرل سکریٹری ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر نئی دہلی نےمشہور حدیث ( إحفظ اللہ یحفظك ) کا خلاصہ پیش کرکے اسی کی روشنی میں حفظ قرآن کریم کی اہمیت اور اسے اپنے سینوں میں قرآن محفوظ رکھنے کےلئے مسلسل مراجعہ کرنے نیز اس کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی تلقین کی، اور پروگرام کے حوالہ سے اظہار مسرت کرتے ہوئے جمعیت کی خدمات کو سراہااوردعاؤں سے نوازا ۔
صدارتی خطاب کے بعد مہمان خصوصی فضیلۃ الشیخ عبدالرشید مدنی حفظہ اللہ شیخ الجامعہ جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر، نیپال نے اپنے خطاب میں اس پسماندہ علاقہ میں جمعیت کے تعلیمی ادارہ "معہد ابی بن کعب لتحفیظ القرآن الكريم ” مریادپور کے قیام اور اس کی تعلیمی وتربیتی خدمات کو سراہتے ہوئے اس کی ترقی واستحکام کے لئے دعائیں دیں اور فارغین حفاظ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بیش قیمت نصیحتوں سے نوازا ، اور مثالوں کے ذریعہ انہیں سمجھایا کہ قرآن کریم کے احکام و مسائل کا علم رکھنے والے لوگوں کا مقام و درجہ کیا ہے دورفاروقی رضی اللہ عنہ میں مکہ مکرمہ کے ایک گورنر نے ایک غلام شخص کو اپنا قائم مقام بنایا جب ان سے سوال ہوا کہ اشراف مکہ پر انہوں نے غلام کو کیوں امیر بنایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ فرائض کا علم رکھتے ہیں اس لئے ان کو جانشین مقررکیا ۔
بعدہ فضیلۃ الشیخ عبد العظیم عبد التواب مدنی حفظہ اللہ ناظم اعلیٰ جامعہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات، و مدیر مسئول ماہنامہ "نور توحید” جھنڈا نگر، نیپال نے اپنے تاثراتی کلمات میں فرمان الہی (ألا بذكرالله تطمئن القلو ب )کے تحت بتایا کہ آج ہر دولت مند ، صاحب اقتدار ، امیر وغریب ذہنی اضطراب اور پریشانی کا شکار ہے، انہیں حقیقی سکون وراحت میسر نہیں، درحقیقت دلوں کو اطمینان و سکون تلاوت قرآن کریم اور اس پر عمل کرنے میں ہے، نیز فارغین معہد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے قیمتی نصیحتون سے نوازا۔
ان کے بعد فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعود اختر عبدالمنان سلفی حفظہ اللہ استاذ جامعہ سراج العلوم السلفیہ، و مدیر ماہنامہ "السراج ” جھنڈانگر ، نیپال نے فارغین معہدکو قیمتی نصیحتوں سے نوازنے کےساتھ تمام سامعین وسامعات کو بھی قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے کی تاکید کی ۔
ان کے بعد محترم جناب حفظ الرحمن علیگ بھیرہوا نے اپنے تاثراتی کلمات میں کہا کہ قرآن کریم کے کتنے ایسے حفاظ ہیں جو عالم دین نہ ہونے کی وجہ سےترجمہ وتفسیر کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں، اور وہ قرآن میں تدبر اورغور و فکر نہیں کر سکتے ، جس سے قرآن کریم کے پڑھنے کا مقصد فوت ہو جا تا ہے، اس لئے ذمہ داران ادارہ کو میرا مشورہ ہے کہ قرآن کریم کے حفظ کر لینے کے بعد انہیں دو تین ماہ تفسیر احسن البیان سے ترجمہ تفسیر بھی پڑھا دیا کریں تاکہ وہ قرآن کریم کے معانی ومفہوم کوسمجھ سکیں، اس کے علاوہ بھی انہوں نے کئی قابل عمل مشوروں نوازا۔
بعد ازاں صدر اجلاس اور دیگر معزز مہمانوں کے دست مبارک سے جمعیت کے شعبہ تالیف و ترجمہ کی جانب سے طبع شدہ استاذ الاساتذہ فضیلۃ الشیخ عاشق علی اثری حفظہ اللہ کی وقیع کتاب ” انسداد جرائم میں اسلام کا کردار” ، اور ڈاکٹر محمد لقمان سلفی رحمہ اللہ کی اردوترجمہ شدہ کتاب "شیخ الإسلام ابن تیمیہ کتاب وسنت کے داعی وعلمبردار” مترجم فضیلۃ الشیخ محمد شاہد یارمحمد سنابلی حفظہ اللہ، اورمولانا ابومحمد افضال احمد شمیم سلفی حفظہ اللہ کی تالیف کردہ دو کتابوں”حرام کمائی :اشکال ، اسباب، اور نقصانات” اور "ایام ذی الحجہ کی صبحیں عبادت کے انمول تحفے” کا اجراء بھی عمل میں آیا ۔
رسم اجراء کے بعد سابق وزیر تعلیم اور موجودہ ویدھائک عالی جناب وصی الدین خان حفظہ اللہ نے اپنے تاثراتی کلمات میں ذمہ داروں اور حفاظ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ادارہ کی تعمیر وترقی کے لیے ممکنہ تعاون کا وعدہ کیا ۔
بعدہ چھیتر نمبر 4 کے امیدوار جناب اسوتوش مشرا صاحب نے پروگرام کےانعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور فارغین کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ چناؤ میں کامیابی کے بعد جوکچھ مجھ سے ہوسکے گا ادارہ کا تعاون کروں گا ۔
بعده آخری خطیب فضیلۃ الشیخ پرویز عالم ریاضی حفظہ اللہ نے( وقال الرسول يارب ان قومي اتخذوا هذالقران مهجورا) کی روشنی میں جامع اورپرمغز خطاب کیااور دوران خطاب محترم حفظ الرحمن علیگ کی تنقید برائے اصلاح کا نہایت سلجھے ہوئے اسلوب میں جواب بھی دیا۔
اس کے بعد محترم سرپرست اجلاس نے اپنے دعائیہ کلمات کے ساتھ اس پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔
اس اجلاس میں جامعہ خدیجۃ الکبریٰ جھنڈا نگر کے مہتمم ڈاکٹر سعید احمد اثری حفظہ اللہ، مولانا صلاح الدین مدنی ناظم جمعیت اہلحدیث روپندیہی، مولانا عبدالنور سراجی جھنڈا نگری، مولانا محمد اکرم عالیاوی جھنڈا نگری، مولانا ابوہریرہ فیضی، مولانا حفیظ الرحمن اثری ، وغیرہم کے علاوہ ہند و نیپال کے درجنوں علمائے کرام، نامور علمی اور سماجی شخصیات اورقرب وجوار کے سرکردہ افراد کے علاوہ مسلم مرد وخواتین کی ایک کثیر تعداد نے بڑے جوش، جذبہ اور خلوص کے ساتھ شرکت کی۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter