مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر بڑھتی ہوئی سیاسی و عسکری کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، جہاں ایران کی پالیسی، اسرائیل کے خلاف اس کا سخت مؤقف، اور خلیجِ عربی میں اس کی سرگرمیاں عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ تہران کی جانب سے اسرائیل کے خاتمے کا نعرہ ایک نظریاتی اور سیاسی موقف کی حیثیت رکھتا ہے، جسے ایران فلسطینی عوام کی حمایت کے تناظر میں پیش کرتا ہے، تاہم ناقدین کے نزدیک یہ حکمتِ عملی خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہی ہے۔
ایران کی علاقائی سطح پر مختلف گروہوں کی پشت پناہی اور خلیجی پانیوں میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے توازنِ طاقت کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سلامتی اور تجارتی راستوں کے لیے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب ان اقدامات کو اپنے لیے براہِ راست چیلنج تصور کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں سعودی عرب نے اپنی دفاعی اور سفارتی حکمتِ عملی کو مضبوط کیا ہے اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ذریعے علاقائی اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے، تاکہ ممکنہ خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ سعودی قیادت خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور بیرونی مداخلت کو محدود کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
دوسری جانب ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی وسیع تر علاقائی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور امن پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل، سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، تاکہ خطہ مزید تصادم اور عدم استحکام سے محفوظ رہ سکے۔
مبصرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام اسی صورت ممکن ہے جب علاقائی طاقتیں اپنے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافہ کا سبب بنیں
آپ کی راۓ