ایک ہی رات میں ایرانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے نیست و نابود کر دینے کی دھمکی دینے کے بعد، امریکی صدر نے اچانک ’رحم دلی‘ کی تھاپ پر جس طرح دیوانہ وار رقص کیا ہے اور اس پر تہران نے جو دس نکاتی سُر دیا ہے اس نے تاریخ کے طلبا کے ساتھ ساتھ ان تجزیہ نگاروں کو بھی ششدر کر دیا ہے جو سیاست کو اخلاقیات کے ترازو میں تول رہے تھے۔ لیکن رقص شرر سے لطف کشید کرنے والے ہم جیسے تماشائی جانتے ہیں کہ یہ دو ہفتے کی جنگ بندی محض گولیوں کا رکنا نہیں، بلکہ ایران کی "علاقائی چودھراہٹ” پر عالمی مہرِ تصدیق ثبت کرنے کا ایک نفیس تزویراتی مرحلہ ہے۔ ایران کی طرف سے بہ حالت مجبوری (بادی النطر میں) مذاکرات کے لیے پیش کردہ دس نکاتی ایجنڈا اور امریکہ کا اسے ’قابل عمل بنیاد‘ قرار دینا بظاہر "امن” کی کوشش نظر آتے ہیں، لیکن اگر اسے غور سے دیکھا جائے تو یہ اسی اسٹریٹجک کھیل کا اگلا مرحلہ ہے جس کا تذکرہ میں نے کل کیا تھا: یعنی عرب معیشت کو مستقل بنیادوں پر مفلوج کرنا۔
بین الاقوامی سیاست کی تاریخ سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ مذاکرات ہمیشہ اسی کے ایجنڈے پر ہوتے ہیں جو پہلے میز سجا دے۔ امریکہ نے دباو ڈالا، اپنے نکات پیش کیے جسے ایران نے مسترد کر دیا، بعد ازاں ایران نے اپنے نکات پیش کیے جسے امریکہ نے فوراً ’قابل عمل بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے بات چیت کے لیے حامی بھر لی۔ پس دو باتیں ثابت ہوئیں،اول تو یہ کہ مذاکرات کی میز ایران نے سجائی ہے اور دوم اینکہ وہ دنیا کو یہ بتانے میں بھی کامیاب رہا ہے کہ اس خطے کی سیاست میں اس کی موجودگی اور مرضی ناگزیر ہے۔
آئیے پہلے دیکھ لیتے ہیں کہ دس نکاتی ایجنڈہ کیا ہے جسے امریکہ نے ’قابل عمل بنیاد‘ قرار دیا ہے۔
1. باہمی عدم جارحیت کا معاہدہ: امریکہ اور ایران کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کے مکمل خاتمے کی تحریری ضمانت۔
2. آبنائے ہرمز پر خود مختار کنٹرول: آبنائے ہرمز کے انتظام و نگرانی میں ایران کی برتری کو تسلیم کرنا اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ‘سیکیورٹی فیس’ (تقریباً 2 ملین ڈالر فی جہاز) کا نفاذ۔
3. علاقائی جنگ بندی: لبنان، یمن، شام اور عراق میں اسرائیل اور امریکہ کی تمام عسکری کارروائیوں کا فوری اور مکمل خاتمہ۔
4. امریکی افواج کا انخلاء: مشرقِ وسطیٰ (مغربی ایشیا) کے تمام فوجی اڈوں سے امریکی جنگی افواج کا مکمل اور مرحلہ وار انخلاء۔
5. جوہری حقوق کی منظوری: ایران کے مقامی یورینیم افزودگی کے پروگرام اور اس کے پرامن جوہری حقوق کو عالمی سطح پر قانونی طور پر تسلیم کرنا۔
6. پابندیوں کا مکمل خاتمہ: ایران پر عائد تمام بنیادی اور ثانوی (Primary & Secondary) امریکی اور اقوامِ متحدہ کی معاشی پابندیوں کو فوری طور پر ہٹانا۔
7. جنگی نقصانات کا معاوضہ: حالیہ تنازع کے دوران ایران کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے مالی معاوضے کی ادائیگی۔
8. منجمد اثاثوں کی بحالی: امریکہ اور دیگر ممالک میں روکے گئے ایران کے تمام مالیاتی فنڈ اور املاک کی فی الفور واپسی۔
9. تعزیری قراردادوں کی منسوخی: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کی ایران کے خلاف تمام سابقہ قراردادوں کا خاتمہ۔
10. بین الاقوامی قانونی تحفظ: اس پورے معاہدے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک ایسی قرارداد کے ذریعے منظور کروانا جو اسے بین الاقوامی قانون کے تحت "لازمی” (Binding) بنا دے۔
یہ ہیں وہ کل دس نکات جن پر اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے۔ کل ہم نے بات کی تھی کہ ایران مشرق وسطیٰ میں اپنی چودھراہٹ قائم کرنا چاہتا ہے؛ آج اس جنگ بندی نے اسے وہ موقع فراہم کر دیا ہے۔ ایران کا آبنائے ہرمز پر "ٹول ٹیکس” مانگنا محض دو ملین ڈالر کی پرچی نہیں، بلکہ یہ اعلان ہے کہ اس نے عالمی معیشت کی شہ رگ پر اپنا پیر رکھ دیا ہے۔ یہ مطالبہ میز پر لانا ہی ایران کی سب سے بڑی جیت ہے، کیونکہ اب بحث اس پر نہیں ہو رہی ہے کہ ایران کا حق کیا ہے، بلکہ اس پر ہو رہی ہے کہ اس حق کی "قیمت” کیا ہوگی۔ نیز ٹرمپ کا اس منصوبے کو "قابلِ عمل بنیاد” قرار دینا ایران کی جیت پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اب ایران کو ‘کنٹرول’ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ ‘منظم سودے بازی’ (Managed Deal) کر رہے ہیں، تاکہ خطے میں ایران کا خوف اور تسلط برقرار رہے اور عرب ممالک کبھی خود مختار نہ ہو سکیں۔
اس عارضی جنگ بندی کے پردے میں اگر فاتحین کی فہرست تیار کی جائے تو تثلیث کا فائدہ اور عرب معیشت کا زوال صاف نظر آ رہا ہے۔ امریکہ کو سستا تیل اور الیکشن کے لیے "امن” کا بیانیہ مل گیا ہے، ایران کو اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے کا موقع ملا، اور اسرائیل کو ایران کے براہِ راست میزائلوں سے وقتی چھٹکارا۔ رسیونگ اینڈ پر اگر کوئی ہے تو وہ عرب ممالک ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا کہ جب دو ہاتھی لڑتے ہیں تو گھاس ہی کچلی جاتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے اسرائیل یا امریکہ کی صحت پر ذرہ برابر فرق نہیں پڑا، بلکہ عربوں کی 20 سے 30 فیصد سپلائی متاثر ہوئی۔ سعودی عرب کے سب سے بڑے صنعتی شہر جبیل (Jubail) پر حملہ کوئی حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس معاشی نقصان کو یقینی بنانے کی کوشش تھی جو عربوں کو برسوں پیچھے دھکیل دے۔ عرب معیشت کا پورا ڈھانچہ "استحکام اور غیر ملکی سرمایہ کاری” پر کھڑا ہے، اور اس جنگ بندی میں ایران کی پوزیشن نے عرب ممالک کے خوف کو کابوس میں تبدیل کر دیا ہے۔
ایران کے 10 نکات میں ایک نکتہ امریکی افواج کے انخلاء کا بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ قابل عمل ہے؟ کیا امریکہ وہاں سے جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ٹرمپ ایک تاجر ہے اور تاجر کبھی اپنی دکانیں بند نہیں کرتا۔ لیکن ایران کا یہ مطالبہ دراصل ایک "بارگیننگ چپ” ہے۔ وہ جانتا ہے کہ امریکہ نہیں جائے گا، لیکن اس مطالبے کے بدلے وہ پابندیوں کے خاتمے پر امریکہ کو زیادہ جھکنے پر مجبور کر دے گا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکہ کا خطے میں رہنا اب عربوں کے لیے "معاشی تحفظ” سے زیادہ ایک "سیکیورٹی ٹریپ” بن چکا ہے۔ امریکہ عربوں کو یہ باور کرائے گا کہ "دیکھو، میں نے ایران کے انخلاء والے مطالبے کو ٹھکرا کر تمہاری جان بچائی ہے، لہٰذا اب تمہیں اس کی قیمت (تیل یا اسلحے کے معاہدوں کی صورت میں) ادا کرنی ہوگی”۔ یہ وہی پالیسی ہے جس کا تذکرہ میں نے کل کیا تھا کہ "آگ کو پانی کا خوف رہنا چاہیے”۔ امریکہ ایران کو اتنا کمزور نہیں کرے گا کہ عربوں کا ڈر ختم ہو جائے، اور نہ ہی عربوں کو اتنا مضبوط کرے گا کہ وہ امریکہ کی ضرورت سے آزاد ہو جائیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ عرب ممالک اب بھی نشانے پر ہیں۔10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات دراصل مشرقِ وسطیٰ کے ایک نئے "بندر بانٹ” کا آغاز ہیں۔ ایران اپنی "چودھراہٹ” کی قیمت مانگ رہا ہے اور امریکہ "امن” کے نام پر اپنی معیشت بچا رہا ہے۔ اس پورے اسکرپٹ میں عرب ممالک اب بھی اکسٹرا (Extra) کا کردار ادا کر رہے ہیں جنہیں اس وقت بلایا جاتا ہے جب ملبے پر ماتم کرنا ہو یا بیل آؤٹ کرنا ہو۔
یہ جنگ بندی "امن” کے لیے نہیں، بلکہ ایران کو اس تخت پر بٹھانے کے لیے ہے جس کا خواب وہ کئی دہائیوں سے دیکھ رہا ہے، اور جس کی قیمت ہمیشہ کی طرح عربوں کے خون اور پسینے سے ادا کی جائے گی۔ اگر عرب ممالک اس معاشی محاصرے اور سیاسی تنہائی کو بھانپ کر کوئی "سرپرائز کارڈ” نہیں کھیلیں گے، تو تاریخ انہیں دو ہاتھیوں کے درمیان لڑائی میں کچلی ہوئی گھاس کے طور پر یاد کرے گی۔
آپ کی راۓ