گور میں کشیدگی برقرار: فوجی تعیناتی کے باوجود آگ زنی نہ رکی، اندرونی علاقے بدستور بے چین
مولانا مشہود خاں نیپالی
گور روٹھت –
روتہٹ کی ضلعی صدر مقام گور میں نافذ کرفیو اور نیپالی فوج کی تعیناتی کے باوجود تشدد اور آگ زنی کے واقعات تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ انتظامیہ کی سخت کارروائیوں کے باوجود شہر کے اندرونی محلوں میں صورتحال بدستور کشیدہ اور غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔
تازہ ترین واقعہ گور نگرپالیکا وارڈ نمبر 4 کے مچکٹیا ٹول میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مشتعل افراد نے ایک اسکوٹر کو نذر آتش کر دیا۔ اب تک مظاہرین کی جانب سے 6 موٹر سائیکلوں اور 2 جیپوں کو جلایا جا چکا ہے۔ فوجی گشت کے بعد گور کی مرکزی سڑکیں تو بظاہر پرسکون دکھائی دے رہی ہیں، تاہم اندرونی علاقوں میں خوف و ہراس اور تناؤ کا ماحول برقرار ہے۔
یہ کشیدگی گور نگرپالیکا وارڈ نمبر 6 کے سبگڑها گاؤں میں دو برادریوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی۔ عینی شاہدین کے مطابق مسلم برادری کے افراد مسجد میں عبادت میں مصروف تھے کہ اسی دوران ہندو برادری کی جانب سے باجے بجانے پر تنازع شروع ہوا، جو بعد ازاں پرتشدد جھڑپوں میں بدل گیا۔
یہ تنازع بڑھتے بڑھتے گور کے وارڈ نمبر 4، 5 اور 6 تک پھیل گیا، جہاں مظاہرین نے متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی اور بعض گھروں میں توڑ پھوڑ کی۔ صورتحال قابو میں لانے کے لیے پولیس کو ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کے شیل استعمال کرنے پڑے۔ جھڑپوں کے دوران چند افراد کے معمولی زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
مزید تشدد کے خدشے کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ہفتہ دوپہر 1 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ سی ڈی او دنیش ساگر بھوسال کے مطابق مشرق میں مڈبلوا گیٹ، مغرب میں لالبکیا بند، شمال میں بم نہر اور جنوب میں گور بھنسار آفس تک کرفیو نافذ العمل ہے۔
انتظامیہ اور سیکورٹی ادارے مسلسل حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ شہریوں میں خوف اور بے چینی کی فضا تاحال برقرار ہے۔
آپ کی راۓ