کرشنانگر/ کیر خبر
وزیر اعظم سشیلا کارکی سے نیپال میں تعینات اسرائیلی سفیر سمولیک ایری باس کی حالیہ شائستگی ملاقات نے ملک کے سیاسی، سماجی اور دینی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ایک طرف سرکاری سطح پر اس ملاقات کو دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور نیپال و اسرائیل کے درمیان 65 سالہ سفارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری جانب فلسطین میں جاری خونریزی اور انسانی المیے کے پس منظر میں اس ملاقات کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔
ملاقات کے دوران اسرائیلی سفیر نے وزیر اعظم کو نیپال کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور ملک کی پہلی خاتون چیف جسٹس بننے پر مبارکباد پیش کی۔ وزیر اعظم سوشیلا کارکی نے بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے 65 سال مکمل ہونے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیپال اور اسرائیل کو باہمی احترام، تعاون اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو مزید آگے بڑھانا چاہیے۔ سفیر باس نے اس موقع پر نیپال اور اسرائیل کے تعلقات کو خوشگوار اور مستحکم قرار دیتے ہوئے انہیں مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا، ساتھ ہی محنت اور ہجرت سے متعلق حالیہ معاہدوں کی منظوری پر نیپال حکومت کا شکریہ ادا کیا، جس سے نیپالی مزدوروں کے لیے اسرائیل میں قانونی روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی بات کہی گئی۔
تاہم فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں جاری انسانی بحران کے دوران اس ملاقات نے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ دینی، تعلیمی اور سماجی قیادت نے اس ملاقات کو اخلاقی طور پر قابل اعتراض قرار دیتے ہوئے اسے مظلوم فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر نیپال کے ناظم اعلیٰ شیخ شمیم احمد ندوی نے اپنے سخت مذمتی بیان میں کہا کہ ایسے نازک وقت میں، جب فلسطین کے معصوم بچے، خواتین اور بے گناہ شہری ظلم و بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں، اسرائیلی سفیر کے ساتھ دوستانہ ملاقات عالمی انسانی اقدار اور انصاف کے اصولوں سے صریح انحراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپال جیسے امن پسند اور اصولی ملک کو مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، نہ کہ ظالم قوتوں کے ساتھ قربت بڑھانی چاہیے۔
اسی طرح عائشہ صدیقہ گرلز کالج، جھنڈا نگر نیپال کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر منظور احمد خان علیگ نے کہا کہ فلسطین میں جاری مظالم کے دوران اسرائیلی نمائندے سے قربت نہ صرف اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہے بلکہ یہ عالمی ضمیر کو بھی مجروح کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے مسلسل ضیاع پر خاموشی اور سفارتی گرمجوشی انصاف، انسانیت اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
ادھر جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر کے ترجمان، راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال کے جنرل سیکریٹری مولانا مشہود خاں نیپالی نے اس ملاقات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں ایسے سفارتی روابط عوامی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ نیپال کی خارجہ پالیسی کو محض سیاسی یا معاشی مفادات کے بجائے انسانی حقوق، عالمی انصاف اور مظلوم اقوام کے ساتھ اخلاقی یکجہتی کی بنیاد پر استوار ہونا چاہیے۔
سیاسی و سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی بدامنی، نفرت پر مبنی سیاست اور سماجی بے چینی کے ماحول میں اسرائیل کے ساتھ قریبی روابط پر سنجیدہ اور محتاط غور و فکر ناگزیر ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر خارجہ پالیسی میں انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کو نظرانداز کیا گیا تو یہ نیپال کے سماجی توازن اور عالمی سطح پر اس کے اصولی تشخص کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
دینی و سماجی حلقوں نے حکومت نیپال سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطین میں جاری مظالم کے خلاف واضح، اصولی اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کرے اور خارجہ تعلقات استوار کرتے وقت انسانی اقدار، عالمی انصاف اور مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی کو مرکزی حیثیت دے، تاکہ نیپال ایک امن پسند، باوقار اور انصاف پر قائم ریاست کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھ سکے۔مولانا مشہود خاں نیپالی
آپ کی راۓ