نیپال مدرسہ بورڈ

ڈاکٹر سلیم انصاری جھاپا، نیپال

31 اگست, 2025
کٹھمنڈو پوسٹ، 2002 رپورٹ کے مطابق، نیپال میں مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں قومی نصاب سے جوڑنے کی کوشش بیسویں صدی کے آخر میں شروع ہوئی۔ 2002ء میں حکومتِ نیپال نے پہلی بار یہ اصول بنایا کہ تمام مدارس کو ضلعی تعلیمی دفاتر کے ساتھ رجسٹر کرایا جائے، اور اگر وہ سائنس، ریاضی، انگریزی اور نیپالی جیسے عصری مضامین پڑھائیں تو انہیں مالی امداد دی جائے۔ یہ پہلا قدم تھا جو مذہبی تعلیم کو قومی تعلیمی نظام سے جوڑنے کے لیے اٹھایا گیا۔ تاہم، عمل درآمد کے مسائل، سیاسی دباؤ اور مذہبی اداروں کی تشویش کے باعث یہ پالیسی مکمل کامیاب نہ ہو سکی۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ تقریباً نصف مدارس اس نظام کے تحت رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ باقی نصف مدارس بعض تحفظات اور مشاہدات کی وجہ سے اب تک اس میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔ یہ ہچکچاہٹ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ان تحفظات کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں تاکہ تمام مدارس بااعتماد طریقے سے اس نظام کا حصہ بن سکیں۔
2006–07 میں حکومت نے ایک جامع پالیسی متعارف کرائی، جس میں مدارس کی رجسٹریشن کو لازم قرار دینے کے ساتھ ساتھ عصری مضامین کی تدریس بھی شرط بنا دی گئی۔ ریکارڈ نیپال، 2007 کے مطابق، اس پالیسی کے تحت حکومت نے مالی امداد اور تدریسی تربیت کی فراہمی کا وعدہ کیا، لیکن کئی رپورٹس کے مطابق فنڈز کی غیر یقینی فراہمی اور انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس پالیسی پر مکمل عمل نہ ہو سکا۔ اسی دوران "مدرسہ اسلامی ایسوسی ایشن بورڈ” بنایا گیا تاکہ مدارس کو منظم کیا جا سکے، مگر چند ماہ میں یہ ادارہ غیر فعال ہو گیا کیونکہ اس کے پاس نہ مالی وسائل تھے اور نہ ہی قانونی اختیارات۔ 2016 میں یو ایم ایل حکومت کے دور میں قومی سطح پر مدرسہ بورڈ قائم کرنے کی تجاویز سامنے آئیں۔ اس کا مقصد مدارس کی نگرانی، نصاب میں یکسانیت، اور عصری مضامین کی شمولیت کو یقینی بنانا تھا۔
ہمالین ٹائمز، 2018 کے مطابق، 2018 میں صوبہ مدھیش (صوبہ 2) میں "مدرسہ ایجوکیشن بورڈ” کا بل پیش کیا گیا، جس میں بیرونی عطیات کے ذریعے مدارس کی مالی معاونت کا نظام تجویز کیا گیا۔ مگر یہ بل آئینی پیچیدگیوں کی وجہ سے رک گیا کیونکہ وفاقی حکومت کے مطابق تعلیم اور بیرونی فنڈنگ قومی دائرہ کار میں آتی ہیں، صوبائی نہیں۔ مذہبی قیادت نے بھی زور دیا کہ مدارس سے متعلق کسی بھی پالیسی کو وفاقی سطح پر بنانا چاہیے تاکہ یکسانیت برقرار رہے۔
2020 کے بعد تعلیمی ماہرین اور مسلم رہنماؤں نے دوبارہ یہ مطالبہ اٹھایا کہ وفاقی وزارتِ تعلیم کے ماتحت ایک مضبوط مدرسہ بورڈ قائم کیا جائے ۔ مقصد یہ تھا کہ دینی اور عصری تعلیم کو یکجا کر کے تعلیمی معیار بلند کیا جائے اور مدارس کے طلبہ کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے (نیپالی ٹائمز، 2021)۔ مدرسہ بورڈ کے قیام کی تجویز کئی سالوں سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے درمیان زیرِ بحث ہے اور یہ بحث اب بھی جاری ہے اور مختلف فریق اپنی تجاویز اور خدشات کے ساتھ اس عمل میں شریک ہیں تاکہ ایک متفقہ اور مؤثر نظام سامنے آ سکے۔
مدرسہ بورڈ کے فوائد
اس حصے میں مدرسہ بورڈ کے قیام کے ممکنہ فوائد پر تفصیل سے بات کی جائے گی اور یہ دیکھا جائے گا کہ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہو جائے تو اس کے کیا مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ مرکزی بورڈ کے تحت تمام مدارس کا نصاب یکساں ہوگا، جس سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ طلبہ کو قومی سطح پر مساوی مواقع بھی میسر آئیں گے۔ نصاب میں یہ یکسانیت طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ شعبوں میں داخلے کو آسان بنائے گی اور انہیں دوسرے تعلیمی اداروں کے ہم پلہ کر دے گی۔
اسی طرح، بورڈ کے تحت ملنے والی ڈگریاں سرکاری و نجی اداروں میں تسلیم کی جائیں گی، جو طلبہ کے لیے تعلیمی اور معاشی ترقی کے نئے دروازے کھول دے گی۔ اعلیٰ تعلیم کے اداروں اور ملازمتوں میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے انہیں الگ سے کسی توثیق یا معادلے کی ضرورت نہیں رہے گی، جو ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنس، کمپیوٹر اور زبانوں جیسے عصری مضامین کی شمولیت طلبہ کو جدید معاشرتی اور معاشی تقاضوں کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کا موقع دے گی۔ اس سے مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ صرف مذہبی خدمات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ عصری شعبوں میں بھی اپنی مہارت دکھا سکیں گے۔
اساتذہ کی مہارت بڑھانے کے لیے ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا، جس سے تدریسی معیار میں خاطر خواہ بہتری آئے گی۔ تربیت یافتہ اساتذہ نہ صرف بہتر تدریس فراہم کریں گے بلکہ طلبہ کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھائیں گے، جو مجموعی تعلیمی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح، مالی شفافیت بھی بورڈ کے قیام کا ایک اہم پہلو ہوگا۔ فنڈز کی تقسیم میں شفافیت آنے سے بدعنوانی اور وسائل کے ضیاع میں نمایاں کمی آئے گی، اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ مالی وسائل براہِ راست تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں۔
نقصانات اور خدشات
اس حصے میں نیپال مدرسہ بورڈ کے ممکنہ نقصانات اور خدشات پر گفتگو کی جائے گی۔ یہ دیکھا جائے گا کہ کن وجوہات کی بنا پر بعض مذہبی ادارے اور اسٹیک ہولڈرز اس نظام کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔ بعض مذہبی ادارے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر مدرسہ بورڈ کے قیام کے بعد حکومت کو زیادہ اختیارات ملے تو وہ مدارس کے داخلی معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے، جس سے ان کی صدیوں پرانی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ خدشہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب تعلیمی پالیسیوں پر سیاسی دباؤ کا امکان بھی موجود ہو، کیونکہ حکومت کی براہِ راست نگرانی مدارس کی مذہبی آزادی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اثر و رسوخ کا اندیشہ بھی نمایاں ہے۔ اگر مدرسہ بورڈ کے فیصلوں میں سیاسی جماعتوں کا عمل دخل بڑھا تو تعلیمی پالیسیاں اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف فیصلوں کی شفافیت متاثر ہوگی بلکہ تعلیمی معیار پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
مالی وسائل کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ جب بروقت فنڈز فراہم نہیں کیے جاتے تو تعلیمی منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں یا تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر مدرسہ بورڈ کو مناسب مالی وسائل نہ ملے تو پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد ممکن نہیں ہوگا، جس سے اس کے مقاصد متاثر ہو سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ بعض علما کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ یکساں نصاب نافذ کرنے سے مذہبی تعلیم کی روایتی ساخت اور انفرادی شناخت متاثر ہو جائے گی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نصاب میں حد سے زیادہ تبدیلی مدارس کی صدیوں پرانی علمی روایت اور دینی علوم کی گہرائی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اہم چیلنجز
مدرسہ بورڈ کے قیام میں سب سے پہلا اور سب سے بڑا چیلنج مختلف مکاتبِ فکر کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔ نیپال میں مدارس مختلف مسالک اور فکری رجحانات سے تعلق رکھتے ہیں، اور ہر مکتبِ فکر کے اپنے نصابی اور انتظامی ترجیحات ہیں۔ ان سب کو ایک مشترکہ نظام کے تحت لانا ایک نہایت حساس اور پیچیدہ عمل ہوگا کیونکہ اس کے لیے تمام فریقین کے درمیان اعتماد، مکالمہ اور لچک پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر نصاب کی یکسانیت اور پالیسی سازی میں اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکے گا۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختیارات کا توازن پیدا کرنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگر بورڈ صرف وفاقی حکومت کے ماتحت ہوا تو صوبائی حکومتوں کے لیے اس پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے، اور اگر تمام اختیارات صوبائی سطح پر دے دیے گئے تو تعلیمی معیار میں یکسانیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ایک ایسا نظام وضع کرنا ضروری ہوگا جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم ہو تاکہ پالیسیوں کا نفاذ متوازن اور مؤثر ہو۔
مالی وسائل کی مستقل فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ تعلیمی منصوبے اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک انہیں بروقت اور مناسب مالی امداد میسر نہ ہو۔ ماضی میں کئی تعلیمی اصلاحات اس لیے ناکام ہوئیں کہ ان کے لیے درکار فنڈز یا تو فراہم نہیں کیے گئے یا تاخیر سے ملے۔ اس لیے مدرسہ بورڈ کے لیے ایک پائیدار مالی ماڈل تیار کرنا ضروری ہوگا تاکہ اس کے منصوبے بغیر رکاوٹ کے جاری رہ سکیں۔
غیر رجسٹرڈ مدارس کو مرکزی نظام میں شامل کرنا بھی آسان کام نہیں ہوگا۔ بہت سے مدارس حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے اور وہ اپنی مکمل خودمختاری برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں مرکزی نظام کا حصہ بنانے کے لیے اعتماد سازی، شفاف پالیسی سازی اور تعلیمی فوائد کی وضاحت کرنی ہوگی تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر اس نظام میں شامل ہو سکیں۔
دینی و عصری تعلیم میں توازن قائم رکھنا سب سے حساس مسئلہ ہے کیونکہ مدارس کی بنیادی پہچان دینی علوم ہیں جبکہ جدید دور کے تقاضے عصری مضامین کی شمولیت کے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔ ایک ایسا نصاب تیار کرنا جو قرآن و حدیث اور فقہ کے ساتھ ساتھ سائنس، ریاضی اور ٹیکنالوجی کو بھی شامل کرے، اس کے لیے ماہرینِ تعلیم، دینی اسکالرز اور حکومتی اداروں کے درمیان طویل مشاورت اور عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی۔
مستقبل کے حل اور تجاویز
نصاب کو گریڈ 10 تک حتمی شکل دے کر تمام مدارس میں نافذ کرنا نہ صرف تعلیم کے معیار کو یکساں بنائے گا بلکہ طلبہ کو قومی سطح پر مساوی مواقع بھی فراہم کرے گا۔ یکساں نصاب کی بدولت مدارس کے طلبہ عصری تعلیمی اداروں کے طلبہ کے ہم پلہ ہو سکیں گے اور انہیں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کے لیے کسی اضافی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام مدارس کو قومی تعلیمی دھارے میں بہتر انداز میں ضم کرنے کا بھی باعث بنے گا۔
وفاقی مدرسہ بورڈ میں علما، تعلیمی ماہرین اور حکومتی نمائندوں کو شامل کرنے سے ایک شفاف اور متوازن نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ یہ شمولیت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ فیصلے صرف سرکاری سطح پر نہ ہوں بلکہ دینی، علمی اور انتظامی پہلوؤں کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔ اس طرح بورڈ کے تحت بننے والی پالیسیاں زیادہ متفقہ، جامع اور دیرپا ثابت ہوں گی۔
اساتذہ کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ وہ جدید تدریسی مہارتوں اور نصاب کی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ تربیت یافتہ اساتذہ نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کریں گے بلکہ طلبہ کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ اقدام مدارس کی تدریسی فضا کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مالی شفافیت کے لیے ایک آزاد مانیٹرنگ اتھارٹی کا قیام بھی ناگزیر ہے تاکہ فنڈز کی تقسیم میں بدعنوانی اور اقربا پروری کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ ادارہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مالی وسائل صرف تعلیمی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور طلبہ کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں، نہ کہ غیر متعلقہ کاموں پر۔
عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کا اجرا طلبہ کو معاشی طور پر بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ صرف مذہبی میدانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ عملی زندگی میں بھی ہنرمند اور خود کفیل بن سکیں گے، جو ملک کی معاشی ترقی میں براہ راست معاونت فراہم کرے گا۔
بطور خلاصہ، مدرسہ بورڈ کا قیام نیپال میں دینی اور عصری تعلیم کے امتزاج، نصاب کی ہم آہنگی اور طلبہ کو قومی تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے نہ صرف مدارس کے طلبہ کو جدید تعلیمی تقاضوں کے مطابق مواقع مل سکیں گے بلکہ انہیں اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ میدانوں میں بھی آگے بڑھنے کا راستہ فراہم ہوگا۔ یکساں نصاب اور جدید مضامین کی شمولیت سے مدارس کا تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور یہ ادارے صرف روایتی مذہبی مراکز کے بجائے ہمہ جہتی علمی اور فکری ترقی کے مراکز میں تبدیل ہو سکیں گے۔
تاہم، اس منصوبے کی کامیابی کے لیے شفاف مالی نظام، علما اور تعلیمی ماہرین کی بھرپور شمولیت، اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی سنجیدہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ اگر تمام فریقین اعتماد، شفافیت اور مستقل مکالمے کے ساتھ مل کر کام کریں تو یہ اصلاحات نہ صرف پائیدار اور مؤثر ثابت ہوں گی بلکہ نیپال کے تعلیمی منظرنامے کو نئی جہت بھی فراہم کریں گی، جو مدارس اور پورے مسلم معاشرے کے لیے ترقی کی بنیاد بنے گی۔ ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف مدرسہ بورڈ پر انحصار کافی نہیں ہوگا؛ مدارس کی تعلیم کا معیار اس وقت بہتر بنایا جا سکتا ہے جب تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول مدارس کی انتظامیہ، اساتذہ، حکومت اور معاشرہ، خلوصِ نیت کے ساتھ اس مقصد کے لیے کام کریں، چاہے بورڈ موجود ہو یا نہ ہو۔
ڈاکٹر سلیم انصاری
جھاپا، نیپال

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter