جھنڈا نگر / کیر خبر
موصولہ اطلاعات کے مطابق مورخہ ٢٤ اگست ٢٠٢٥ کو صبح دس بجے جھنڈانگر کی سماجی و دینی شخصیت الحاج عبدالستار شاہ کا ٨١ برس کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے- انا للہ وانا الیہ راجعون-
مورخہ ٢٥ اگست ٢٠٢٥ کو صبح جھنڈا نگر کے قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کے بیچ سپرد خاک کردے گئے – آپ کی نماز جنازہ بڑے فرزند مولانا جمال احمد شاہ نے پڑھائی- جنازہ میں قرب و جوار کے علما فضلا سماجی کارکن؛ تاجر و سیاستداں حضرات کی ایک بڑی تعداد شریک تھی-
آپ مسجد شاہ کے متولی تھے مدرسہ دار السلام کے سرپرست تھے- آپ سابق وزیر اقبال احمد شاہ کے بڑے بھائی تھے- پسماندگان میں اہلیہ بچوں میں مولانا جمال احمد شاہ ریاض شاہ اور اسرار شاہ کے علاوہ چار بچیاں ہیں سب شادی شدہ ہیں- علاوہ ازیں ایک بھرا پرا خاندان پیچھے چھوڑا ہے-
آپ کے پڑوسی مولانا عبدالنور سراجی آپ کے متعلق رقمطراز ہیں:
ان کے انتقال کی خبر سے جھنڈا نگر کا ہر طبقہ مغموم ہے۔ تعزیت کے لئے ان کے دولت کدہ پر عوام الناس کی لمبی بھیڑ دیکھی گئی۔ لوگوں کو ہدایت دی گئی کہ آتے جائیں اور نکلتے جائیں تاکہ بھیڑ قابو میں رہے۔
آپ نے بروز 24 اگست ڈاکٹر نفیس صاحب کے یہاں دورانِ آکسیجن آخری سانس لی۔ آپ رحمہ اللہ کی عمر تقریباً 81 برس کی تھی۔ کافی دنوں سے دل اور سانس کے مرض میں مبتلا تھے اور علاج معالجہ بھی جاری تھا۔ بسا اوقات مسجد تشریف لاتے اور ہمیشہ بلند آواز سے ’’السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته‘‘ کہہ کر سب کو خوش کر دیتے تھے۔ خوش مزاجی آخری ایام تک باقی رہی۔
آپ کی بیماری کبھی اس حد تک شدید ظاہر نہ ہوئی کہ زندگی کے خاتمے کا اندازہ ہوسکے۔ قدرت نے آپ کو ایسا خوش مزاج بنایا تھا کہ کبھی اپنی تکلیف کا اظہار نہیں کیا۔ ایک بار میں نے خود دیکھا کہ آپ اعتکاف میں تھے اور آپ کے بڑے فرزند پر حملہ ہوا، جسم لہو لہان ہوگیا، سحر کا وقت تھا اور مسجد سے چند قدم کے فاصلے پر یہ اندوہناک حادثہ پیش آیا، لیکن آپ نے اعتکاف توڑنے کے بجائے مسجد کے دروازے سے باہر قدم نہ نکالا۔ یہ آپ کے تقویٰ و استقامت کی روشن مثال ہے۔
آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مسجد میں گزارا۔ مسجد سراج العلوم سے لے کر شاہ مسجد تک مسلسل معتکف رہے۔ متولی کی حیثیت سے آپ کی نگرانی میں شاہ مسجد کی عظیم الشان تعمیر عمل میں آئی اور اس کے اوپر خواتین کے لیے علیحدہ مسجد قائم کی گئی۔ جمعہ کی نماز میں خواتین کی حاضری آپ کے ہی اہتمام کی برکت ہے۔
آپ کو بچوں سے بے حد محبت تھی، اکثر کہا کرتے تھے کہ: ’’یہی بچے اس مسجد کا مستقبل ہیں‘‘۔ ان کی غلطیوں کو معاف کرتے اور نصیحت فرماتے۔ مصافحہ کرنا پسند فرماتے، مسجد کی صفائی اور لاؤڈ اسپیکر کا انتظام خود کرتے۔ علماء، مشائخ اور طلباء کی عزت کرتے اور مسافروں کی خدمت کرتے۔ صدقہ و خیرات میں آپ کا ہاتھ ہمیشہ کشادہ رہا۔
ایک بار مسجد میں کسی امام کی تلاوت پر خوش ہو کر آپ نے بچوں اور بڑوں میں روپے تقسیم کر دیے۔ الحمدللہ آپ کے سبھی بچے فارغ البال ہیں، اسی وجہ سے آپ نے ہمیشہ کشادہ دلی اختیار کی۔
آپ کو گھریلو و زرعی امور اور باغبانی سے بھی دلچسپی تھی۔ آپ جفاکش اور محنتی تھے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مرحوم کی لغزشوں کو معاف فرمائے، ان کے حسنات کو شرفِ قبولیت عطا کرے، ان کے قبر کو نور سے بھر دے، برزخی زندگی آسان کرے اور نکیرین کے سوالات پر ثابت قدمی عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین
——————-
معروف معالج ڈاکٹر سعید احمد اثری آپ کی وفات پر لکھتے ہیں: آپ کی وفات ہم سب کے لئے سانحہ ہے اللہ انکی خطاؤں کو در گزر فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور جملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین. بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والےمیں….. آسماں تری لحد پر شبنم افشانی کرے. ممدوح رحمہ اللہ وقت کے بیحد پا بند تھے محنتی َاورجفا کش تھےاکثر اپنا کام خود کر تے ھمیشہ چاق چوبند رہتے پڑوسیوں کا خیال رکھتے نیز خوش مزاجی کے ساتھ ھدایےاور تحائف بھی بھیجتے رہتے تھے الحمدللہ. اذان و نماز کے لیے بیحد ہمیشہ فکر مند رہتے اور وقت پر بجا لاتے. تلاوت قرآن پاک اکثر نماز کے بعد معمول میں شامل تھا. الحمدللہ. مختصر یہ ہے کہ من کان یومن با للہ والیوم الاخر فلیکرم ضیفہ کے تحت ماشاءاللہ مہمان نوازی ممدوح رحمہ اللہ کا خاصہ تھا.اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ نیکیوں کو قبول فرمائے اور بشری لغزشوں کو در گزر فرما کر جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے-
آپ کی راۓ