صدقۃ الفطر

ابو حماد عطاء الرحمن المدنی/ المرکز الاسلامی کاٹھمنڈو

7 اپریل, 2024

فطر کا معنی روزہ کھولنا یا روزہ ترک کرنا ہے، چونکہ یہ صدقہ رمضان المبارک کے روزے پورے کرنے کے بعد ان کے ترک پر دیا جاتا ہے، لہٰذا صدقۃ الفطر کہلاتا ہے۔

جمہور علماء کے نزدیک صدقۃ الفطر کا دا کرنا فرض ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی صحیح میں فرماتے ہیں:

بَابُ فَرْضٍ صَدَقَة الْفِطْرِ وَرَأیَ اَبُو الْعَالِیَة وَعَطَاء وَابْنُ سِیْرِیْنَ صَدَقَة الْفِطْرِ فَرِیْضَة۔

’’صدقۃ الفطر کی فرضیت کا بیان، امام ابو العالیہ، عطاء اور ابن سیرین صدقۃ الفطر کو فرض سمجھتے تھے۔‘‘

حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں، امام صاحب نے ان تین ائمہ کا نام اس لیے لیا ہے کہ انہوں نے صدقۃ الفطر کی فرضیت کا بیان، امام بو العالیہ، عطاء اور ابن سیرین صدقۃ الفطر کی فرضیت کی تصریح کی ہے، ورنہ ابن المنذر نے تو اس کی فرضیت پر اجماع نقل کیا ہے، ہاں حنفیہ اسے اپنے مزعومہ قاعدے کے مطابق واجب کہتے ہیں، مالکیہ میں سے اشہب اور بعض اہل ظاہر نے اس کو مسنت مؤکدہ کہا ہے، مگر پہلا قول صحیح ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی فرضیت ثابت کرنے کے لیے مذکورہ بالا باب میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث درج کی ہے۔

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ زَکٰوة الْفِطْرِ مِنْ تََمَرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی وَالصَّغِیْرِ وَالْکَبِیْرِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاَمَرَ بِھَا اَنْ تُؤَدّٰی قَبْلَ خُرُوْجِ النَّاسِ اِلَی الصَّلاۃ”.

رسول اللہﷺ نے آزاد، غلام، مرد ، عورت اور ہر چھوٹے بڑے مسلمان پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو بطور صدقۃ الفطر ادا کرنا فرض کیا ہے، اور اسے لوگوں کے نماز کی طرف جانے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

صدقۃ الفطر کن چیزوں سے دیا جائے:

جن غلہ جات کو انسان بطور خوراک استعمال کرتا ہے، ان سے صدقۃ الفطر ادا کر سکتا ہے۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں عموماً جو، کھجور، منقہ اور پنیر کھاتے تھے، اس لیے آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان اجناس سے صدقۃ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا، چنانچہ حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں، کہ ہم رسول اللہﷺ کے زمانہ میں عید الفطر کے دن (فی کس) کھانے کا ایک صاع دیا کرتے تھے، اور اس وقت ہمارا کھانا جو ، کھجور، منقہ اورپنیر پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔ (بخاری)

ہمارے ملک میں چاول، گیہوں، چنا، جو ، مکی، باجرہ، جوار وغیرہ اجناس خوردنی ہیں، اور لوگ انہیں خوراک کے طور پر استعمال کرتے ہیں، لہٰذا ان میں جو جنس عموماً زیادہ استعمال کرتے ہیں، اس سے صدقۃ الفطر ادا کر سکتے ہیں۔

صدقۃ الفطر کنبہ کے چھوٹے بڑے، مرد، عورت اور آزاد، غلام ہر فرد کی طرف سے ادا کیا جاتا ہے، ان میں شیر خوار بچوں سے لے کر شیخ فانی تک سب ہی لوگ شامل ہیں، کوئی شخص مستثنیٰ نہیں ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ نبیﷺ نے غلام، آزاد، مرد و عورت اور چھوٹے بڑے ہر فرد پر جو یا کھجور سے ایک صاع صدقہ الفطر ادا کیا کرتے تھے، ایک سال مدینہ میں کھجوریں پیدا نہ ہوئیں، تو انہوں نے اس سال جو سے صدقۃ الفطر ادا کیا۔ بخاری

صدقۃ الفطر نماز عید سے پہلے ادا کرنا ضروری ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ زَکٰوة الْفِطْرِ طُھْرَة لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفْثِ وَطُعْمَة لِلْمَسَاکِیْنِ فَمَنْ اَدَّاھَا قَبْلَ الصَّلٰوة فَہِیَ زَکٰوة مَْبُوْلَة وَمَنْ اَدَّاھَا بَعْدَ الصَّلٰوة فَہِیَ صَدَقَة مِنَ الصَّدَقَاتِ’ ابو داود، ابن ماجہ۔

رسول اللہ ﷺ نے روزہ دار کے روزہ کو بے ہودہ گوئی اور فحش کلامی سے پاک کرنے اور غرباء و مساکین کی خوراک مہیا کرنے کے لیے صدقۃ الفطر فرض کیا ہے، جو شخص نماز سے پہلے یہ صدقہ ادا کرے، اس کا صدقہ قبول ہے (اس کے لیے یہ دونوں مقصد حاصل ہو جاتے ہیں) اور جو شخص نماز کے بعد ادا کرے، تو (صدقۃ الفطر ادا نہ ہو گا بلکہ) یہ دوسرے نفلی صدقات کی طرح ایک صدقہ ہے۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ نماز کے بعد صدقۃ الفطر ادا کرنا نہ دینے کے برابر ہے، البتہ اگر کسی نے گھر کے تمام افراد کی طرف سے فی کس ایک صاع کے حساب سے غلہ الگ کر دیا ہے، کچھ مساکین میں تقسیم کر دی ہے، اور کچھ بعض غرباء کو دینے کے لیے رکھ لی ہے، جو اس وقت وہاں موجود نہیں ہیں، تو میں کوئی مضائقہ نہیں، نماز کے بعد ادا کرے۔

صدقہ فطر کے مستحق کون ہیں ؟

عن عكرمة عن ابن عباس قال:‏‏‏‏ ” فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين من اداها قبل الصلاة فهي زكاة مقبولة ومن اداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات ". سنن ابی داود

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے، لہٰذا جو اسے (عید کی) نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا۔

علامہ عظیم آبادی عون المعبود میں اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

’’ وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْفِطْرَةَ تُصْرَفُ فِي الْمَسَاكِينِ دُونَ غَيْرِهِمْ مِنْ مَصَارِفِ الزَّكَاةِ ‘‘

یعنی اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صدقۃ الفطر صرف مساکین ،غرباء کو دیا جائے گا ،اور زکاۃ کے دیگر شرعی مصارف کو نہ ملے گا ،،انتہی

اسلئے صرف مساکین و غرباء ۔۔وہ بھی سب سے پہلے رشتہ دار اور اپنے علاقے میں موجود مستحق لوگ۔

ابو حماد عطاء الرحمن المدنی

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter