دہلی پرگتی_میدان_بک_فیر ایک سرسری جائزہ

ڈاکٹر عبدالغنی القوفی

22 فروری, 2024

ہر بار کی طرح اس بار بھی پرگتی میدان میں دھوم دھام سے بک فیر کا انعقاد ہوا، اردو، ہندی، انگریزی اور دیگر علاقائی زبانوں کی کتابوں کے اسٹال سجائے گئے، بعض خلیجی ممالک اور ایران کی بھی بک فیر میں موجودگی نظر آئی، بک فیر کے اسٹالز کا ایک چکر لگانے کے بعد ایسا لگا کہ جیسے سوچے سمجھے اور پورے منصوبہ بند طریقے سے بر صغیر کے پرانے معتبر تاریخی ورثے کی جگہ نئے منظرنامے کے اعتبار سے ترتیب دی گئی خود ساختہ تاریخ کو مروج کرنے کی سعی نامشکور کی جا رہی ہے، پورے بک فیر کا کئی چکر لگانے کے بعد بھی منصف مورخین کی کتابیں نظر سے نہیں گزریں، ڈاکٹر تارا چند اور ان جیسے دیگر مؤرخین پوری طرح غائب تھے۔ دیگر پرانے تو پرانے بعض نئے تاریخ نگار بھی خال خال دکھائی دئیے، عرفان حبیب کے تعلق سے استفسار پر بڑے گھٹیا انداز میں ان پر تبصرے سننے کو ملے، جس سے اندازہ ہوا کہ سب کچھ پری پلانڈ ہے، صرف ایک جگہ ان کی بعض انگریزی کتابیں وہ بھی جو نسبتا کم اہمیت کی تھیں ، دکھائی دیں، البتہ تاریخ سازی اور اس کے مظاہر جا بجا بکھرے نظر آئے۔
اس موقعہ پر شدت سے احساس ہوا کہ کاش وقت رہتے مسلمان اپنے قیمتی تاریخی مآخذ ومراجع کی طرف متوجہ ہوتے، انہیں کامل ضیاع سے پہلے ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعہ انہیں محفوظ کرنے کا اہتمام کر لیتے۔
سچ تو یہ ہے کہ ریفرینس بکس اور پرانے معتمد مراجع ومآخذ اب بھی کم از کم عام لائبریریوں اور یونیورسٹیوں کی لائبریریوں میں تو دستیاب ہیں، ڈر یہ ہے کہ وہاں بھی کب تک بچیں گی۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے۔ افق پر آثار اچھے نہیں دکھ رہے، ریختہ پر کچھ ہی سہی لیکن قابل قدر چیزیں موجود ہیں، ان کی کاوشیں لائق صد شکر ہیں، اسی طرح فیس بک پر بعض نام ہیں جو اس کوشش میں ہیں کہ بساط بھر کتابوں کے ڈیجیٹلائزیشن میں اپنا کردار ادا کریں، پر ایسی فردی کوششوں سے کام نہیں چلے گا، اس کے لئے ریختہ کے طرز پر مزید منظم پلیٹ فارمز کھولنے کی ضرورت ہے، جن سے منصوبہ بند طریقے پر کام کرنا ممکن ہو سکے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
اگر فی الحال تنظیمی سطح پر یہ کام بظاہر ممکن نہیں نہ سہی یوں ہی ایکٹیو، بیدار مغز اور باصلاحیت چند افراد بھی اکٹھا ہو کر اس پروجیکٹ پر کام شروع کریں تو کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا تو بہتر ہی ہوگا، نیز اس سے اوروں کو بھی مہمیز ملے گی بقول کسے
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ آتے گئے کارواں بنتا گیا۔
یوں تو دینی، ثقافتی، ادبی، فکری، تاریخی، اور اجتماعی وسماجی ومعاشرتی سارے موضوعات ہماری توجہ کے مستحق ہیں لیکن پہلے مرحلے میں خاص طور پر ان مآخذ سے کام کا آغاز ہونا چاہئے جو بر صغیر کی معتبر تاریخ سے متعلق ہیں، جن سے ہماری ثقافتی، فکری، اجتماعی اور ادبی ورثے کا سیدھا تعلق ہے۔ نیز بر صغیر کی ملت اسلامیہ کی اصل شناخت انہیں پر قائم ہے، بر صغیر کے عہد ما قبل التاریخ سے لے کر قرون وسطی سے ہوتے ہوئے ایسٹ انڈیا کمپنی، اٹھارہ سو ستاون پھر تحریک آزادی ہند کے شباب کی تاریخ تک ہمارے کردار پر جو منصف مورخین کی لکھی ہوئی سرفروشی کی داستانیں لوح زمانہ پر ثبت ہیں، چونکہ انہیں بطور خاص ہدف بنایا جا رہا ہے، انہیں ملیامیٹ کرنے اور زعفرانی مزاج کے مطابق تیار کردہ خود ساختہ افسانوں پر مشتمل پوتھیوں اور پٹاروں کو تاریخ کے مآخذ کے طور پر جو زبردستی پروسا جا رہا ہے، ان کے رسم الخط کو مٹانے اور زبردستی دیوناگری کو ریپلیس کرنے کی جو منظم مہم چلائی جا رہی ہے یہ اس وقت کا ہمارا سب سے سلگتا اور توجہ طلب موضوع ہونا چاہئے۔
اگر اجازت دیں اور پیشانیاں شکن آلود ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو کہوں کہ #پرگتی_میدان_بک_فیر صرف کتاب میلہ نہیں بلکہ ایک ملکی ثقافتی وفکری نمائش گاہ کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے، اس بار اس میں مملکت توحید کو خصوصی مہمان بنایا گیا تھا، انہیں سب سے نمایاں اور بڑی جگہ بھی دی گئی تھی، اسی طرح ترتیب میں دوسرے نمبر پہ امارات بھی شانہ بشانہ موجود تھا، ان کے پہلو میں تہران کو جگہ دی گئی تھی، یہ ایک سنہری موقعہ تھا اسلامی ثقافت اور کلچر کو شاندار انداز میں اہل ہند کے سامنے پیش کرنے کا، لیکن ہوا کیا،،،،۔ مملکت توحید کی پیش کش خاطر خواہ نہیں لگی، سبب بھی بتائے دیتا ہوں، ان کے یہاں دارة الملك عبدالعزيز کی بعض مؤلفات کو وہ بھی صرف نمائش کے لئے رکھا گیا تھا، اس کے علاوہ مہمان نوازی کے روایتی طرز کو قہوہ اور کھجور پیش کرکے ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اسی طرح روایتی رقص بھی وقتا فوقتا پیش کیا گیا، پر سوال یہ ہے کہ کیا عربی روایت اور ثقافت پیش کرنے سے ہم اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں، جہاں قومیت سے اٹھ کر اسلامی ثقافت پیش کرنے کا موقعہ تھا وہاں مجھے لگتا ہے کہ کچھ کوتاہی ضرور رہی، نہ اسلامی کلچر کی جھلک نظر آئی نہ سلفی شناخت کی کوئی خاص پیش کش، امارات والوں کی طرف جب بڑھا تو وہاں موسیقی اور فنون لطیفہ پر یورپی زبانوں سے ترجمہ شدہ چند عربی کتابیں نظر آئیں، وہ بے چارے اسی کو اپنا صحیح تعارف سمجھتے ہیں، ضیافت کے بعد لگی ہوئی کتابوں میں سے میری اپنی رغبت کے حساب سے انہوں نے مجھے کچھ کتابیں ہدیہ بھی کیں، انہیں کے پہلو میں مجلس حکماء مسلمین والے تھے، جن کا صدر دفتر بھی امارات میں ہے، وہاں مختلف اسلامی فرقے اور عقائد مثلا تصوف، اشاعرہ، ماتریدیہ اور معتزلہ کی کتابیں وافر مقدار میں دکھائی دیں، اسی طرح دہشت گردی اور اسلام جیسے موضوعات پر ازہر اور ازہر کے فکر کی ترجمانی نظر آئی۔ ہمارے خاص بھائی بند یہاں ٹوٹے پڑ رہے تھے، وہ کیمرے پر جی حضوری اور تشکر کے جملوں کی بوچھار کرتے نظر آئے۔ پاس میں تہران تھا، وہاں رافضی مذہب کی اساسی کتابیں سستے نرخ پر بلکہ تقریبا مفت میں دستیاب تھیں، وہیں "اوستا” بھی پہلی بار نظر سے گزری۔ اپنی ثقافتی، مذہبی اور فکری کتابوں کے ساتھ ساتھ خدمت کے لئے دوشیزائیں ہمہ وقت رقصاں نظر آئیں۔ 2014م کے بعد کے منظر نامے کے حساب سے جگہ جگہ ہندو مذہب، ثقافت اور تاریخ کی کتابوں کی تقسیم اور آسان قیمتوں پر فروخت کی ایک ہوڑ دکھائی دی۔
بک فیر میں گھومتے ہوئے میں نے پوری دیانتدارانہ کوشش کی کہ اردو نہ سہی ہندی اور انگریزی میں معتبر مورخین کی تصنیفات دستیاب ہو جائیں، اور انہیں حاصل کر لوں پر پوری طرح ناکام رہا۔ کچھ چیزیں ملیں پر وہ جن کا ہدف لے کر گیا تھا ان میں سے کچھ حاصل نہیں کر سکا اور تب یہ احساس شدید ہو گیا کہ لائبریریوں سے اہم تاریخی مآخذ کو نکال نکال کر انہیں پہلی فرصت میں ڈیجیٹلائز کر لیا جائے، وہ مآخذ صرف اکیلے ہندوستان کی نہیں بلکہ پوری دنیا اور اس کے منصف قارئین کی مشترکہ میراث ہیں، کوئی حکومت کوئی فکر انہیں اس طرح منظر سے غائب کرنے کا حق نہیں رکھتی۔ پھر دنیا صرف بھارت نہیں ہے۔ یہاں سے یہ تحریک پیدا ہوئی کہ اس تاثر اور تجویز کو عام اہل علم کے سامنے رکھنا چاہئے، شاید ملت کے تئیں احساس ذمہ داری ہم میں سے کسی کو کوئی مثبت قدم اٹھانے کا حوصلہ بخش دے۔

القوفي

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter