انڈہ پہلے آیا تھا یا مرغی؟ سائنسدانوں نے سراغ لگا لیا

15 جون, 2023
بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ دنیا میں پہلے انڈہ آیا تھا یا مرغی آئی تھی تو اب لگتا ہے کہ سائنسدانوں اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیا ہے۔
یونیورسٹی آف برسٹل کے محققین کے مطابق پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کے آباؤ اجداد نے انڈے دینے کے بجائے بچے کو جنم دیا ہو گا۔ اس حوالے سے ’نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن‘ نامی سائنسی جریدے میں ایک تحقیق شائع ہوئی تھی۔
نانجنگ یونیورسٹی کے محققین کے ساتھ سائنسدان اس موجودہ عقیدے کو چیلنج کرتے ہیں کہ سخت خول والے انڈے ایمنیوٹس کی کامیابی کی کلید تھے۔
تحقیق میں کہا گیا کہ ’ایمنیوٹک انڈہ موجودہ ایمفیبینز کے انامنیوٹک انڈے  سے بہت مختلف ہوتا ہے جس میں انڈے کے خول اور ایکسٹرا ایمبریونک جھلیوں کی کم ہوتی ہے۔ امنیوٹک انڈہ جنین کی جھلیوں کے ایک سوٹ پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں امونین، کورین اور ایلانٹوئس شامل ہیں، اور ساتھ ہی ایک بیرونی خول بھی ہوتا ہے۔‘
یونیورسٹی آف برسٹل کے سکول آف ارتھ سائنسز کی سربراہی میں ہونے والی اس تحقیق میں 51 فوسل سپیشیز اور 29 زندہ سپیشیز کا مطالعہ کیا گیا جو اووی پیرؤس کے زمرے میں آتے ہیں، جو سخت یا نرم خول والے انڈے دیتے ہیں، یا ویوی پیرؤس، جو بچوں کو جنم دیتے ہیں۔
مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ میملز سمیت امینوٹا کی تمام شاخیں اپنے جسم کے اندر طویل عرصے تک جنین کو برقرار رکھنے کے آثار دکھاتی ہیں۔
اگرچہ سخت خول والے انڈے کو اکثر ارتقا کی سب سے بڑی اختراعات میں سے ایک کے طور پر دیکھا گیا ہے، لیکن اس تحقیق کا مطلب یہ ہے کہ یہ توسیع شدہ جنین کی برقراری تھی جس نے جانوروں کے اس گروہ کو حتمی تحفظ فراہم کیا۔
برسٹل یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل بینٹن نے کہا کہ ’ہمارے کام نے، اور حالیہ برسوں میں بہت سے دوسرے لوگوں نے، نصابی کتب کے کلاسک ریپٹائل انڈے کے ماڈل کو کچرے کی ٹوکری تک پہنچایا ہے۔ پہلے ایمنائیٹس نے ماں کے اندر کم یا زیادہ وقت کے لیے نشوونما پانے والے جنین کی حفاظت کے لیے سخت خول والے انڈے سے زیادہ جنین کو برقرار رکھنے کے بجائے توسیع کی تھی،  تاکہ جب تک کہ ماحول سازگار نہ ہو جائے پیدائش میں تاخیر ہو سکے۔‘

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter