"افسانہ لاجونتی میں تقسیم ہند کے واقعات” کا بیانیہ

مقالہ نگار : ممتاز مصطفی پنجاب یونیورسٹی لاہور آغا اکیڈمی

4 اپریل, 2023

اردو کے عظیم مصنف ڈرامہ نویس،افسانہ نگار،علمی ہدایت کار اور منظر نویس راجندر سنگھ بیدی یکم ستمبر 1915ء کو تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ارے پیدا سنگھ ،ذات کے کھتری اور بیدی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ سیوا دیوی ،ہندو برہمن تھی کیونکہ ان کے والدین دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ اس لیے انہوں نے بھاگ کر شادی کی۔ خالصہ  ہائی سکول سے میٹرک اور ڈی۔اے۔وی لاہور سے انٹر کا امتحان پاس کیا ۔

بی۔اے میں داخلہ لیا تو والدہ کا تپ دق سے انتقال ہوگیا۔ چند ہی سال بعد 1938ء میں ان کے والد بھی درے فانی سے کوچ کرگئے اور ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ آپ کا تعلق ترقی پسند تحریک سے تھا۔

1932ء میں زمانہ طالب علمی سے یہی انگریزی،اردو اور پنجابی میں نظمیں اور کہانیاں لکھنے لگے۔کچھ مدت پوسٹ آفس لاہور میں کلرک بھی رہے۔ 1943ء میں یہاں سے مستعفی ہو کر مرکزی حکومت کے پبلسٹی ڈیپارٹمنٹ میں کام کیا۔ اور اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو میں بہ حیثیت سٹاف آرٹسٹ کام کیا۔ 1948ء میں جموں ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر بننے۔ایک ہی سال میں مستعفی ہو کر ممبئی چلے گئے اور فلموں کے لیے تحریر کرنا شروع کیا۔

ان کے افسانوں کے چھ مجموعے ہیں ۔

  1. دانہ و دوام(1936ء)،
  2. گرین (1942ء)،
  3. کوکھ جلی (1949ء)،
  4. اپنے دکھ مجھے دے دو (1982ء)،
  5. ہاتھ ہمارے قلم ہوئے (1974ء)،
  6. مکتی بودھ(1982ء).

ان کے ڈراموں کے 2 مجموعے ہیں.

  1. بے جان چیزیں (1943ء)،
  2. سات کھیل(1946ء).

ان کی تحریر کی گئی فلم”دستک” کافی مقبول ہوئی۔

ان کے مشہور مکالموں میں مرزا غالب،مدھومتی،انورادھا اور دیو درس ہیں۔

ان کے مشہور افسانوں میں گزر کوٹ،بھولا،اپنے دکھ مجھے دے اور لاجونتی ہیں ۔

فلم فیئر اعزاز برائے بہترین مکالمہ  برائے مستیہ کام(1971ء) ساہتیہ اکادمی ایوارڈ برائے ایک چادر میلی سی (ناولٹ)(1965ء) فلم فیئر اعزاز برائے بہترین مکالمہ برائے مدھو متی (1959ء) آپ کا انتقال 1984ء میں 69 سال کی عمر میں،ممبئی میں ہوا۔

راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں میں انسانوں سے ہمدردی اور دردمندی واضح طور پر نظر آتی ہے۔وہ ہر چیز اور معاملے کو بہت گہرائی سے دیکھتے ہیں۔ان کا شمار اردو کے جذباتی افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے جذبات میں گہرا مشاہدہ اور سکون ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کا نام منشی پریم چند،سعادت حسن منٹو،کرشن چندر اور عصمت چغتائی کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ ان کے افسانوں میں ہندوستانی معاشرت،تمدن،مذہب،تاریخ اور روایات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔بھوک افلاس،طبقاتی کشمکش،جہالت،ظلم،ناانصافی اور جذباتی گھاؤ کو اپنے افسانوں کے ذریعے سماج کی ان ناہمواریوں کا ذکر بھی کیا۔ سماج میں پھیلنے پھولنے والی ہر سماجی برائی اور مخلوط تہذیب و تمدن کا اظہار اپنے افسانوں کے ذریعے کیا ہے ۔ کہ قاری ان کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا بیدی ہر کسی کے دکھ درد کو بہت شدت سے محسوس کرتے تھے اور پھر اپنی تکالیف و مصائب کا اظہار ہمیں ان کے افسانوں میں نظر آتا ہے۔ ان کے افسانوں میں جہاں مردانہ کرداروں کی اہمیت مسلم ہے۔ وہی نسوانی کردار بھی قاری پر گہرے نقوش ثبت کر جاتے ہیں۔

اردو ادب کا بے مثال اور بے نظیر افسانہ "لاجونتی” تقسیم ہندوستان کے تناظر میں لکھا گیا۔ اس کا موضوع تقسیم ہند کے دوران”مغو پر عورتوں کی بازیابی اور ان کے مسائل” ہیں۔ "لاجونتی” دراصل چھوٹی موئی کے پودے کو کہتے ہیں جسے ذرا ساچھولیا جائے تو وہ فورا مرجھا جاتا ہے۔ افسانے کا مرکزی عورت لاجونتی ہے۔ جو سندر لال کی بیوی ہے۔ تقسیم ہند کے فسادات میں وہ بیچاری بھی شدت پسندوں کے ہتھے چڑھ جاتی ہے۔ صرف لاجونتی ہی نہیں بلکہ اور بہت سی  بہوئیں ،بیٹیاں انہی درندوں کے بھنٹ چڑھ گئیں جنہوں نے ان بے کس و لاچار خواتین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا اور ان کی روحوں تک ایسے زخم لگے جو پھر کبھی نہ بھرے۔

افسانے کا پلاٹ  پر تاثیر ہے یوں معلوم ہوتا ہے کہ بیدی مہر نفسیات ہیں کہ وہ اس کرب سے گزرنے والے افراد کی اذیت سے بخوبی واقف ہیں۔

تقسیم ہند کے فسادات میں لوگ افراتفری و بے یقینی کے عالم میں تھے کہ ان کے گھروں کی عزتوں کو اغوا کیے جانے لگا۔جہاں لوگوں نے اپنی جائیداد دیں ،گھر بار،مال مویشی حتی کہ  تن کے کپڑوں کے علاوہ سب کچھ کھو دیا وہاں اپنی بہو،بیٹیوں کو درندوں کے ہاتھ سونپ دینا خود کو موت کے گلے لگانے کے مترادف تھا فقط اس لیے کہ وہ لوگ کمزور تھے اور شاید تقسیم ہند کے فسادات نے ان سے ان کی غیرت اور سوجھ بوجھ سمیت سب احساسات چھین لیے  تھے ۔

ادھر ہر طرف”زمین بچاؤ”,”مال بچاؤ”, گھر بچاؤ”وغیرہ کے نعرے مختلف تنظیموں کے تحت گونج رہے تھے, وہاں کسی کو ان مغوی عورتوں کی تکلیف و اذیتوں کا اندازہ تک تھا ۔اگر اندازہ ہوتا تو وہ ان مظلوم و بے کس خواتین کی بازیابی کے لیے آواز ضرور اٹھاتے ،سوائے اے سندرلال اور اس کے محلے کے چند ساتھیوں کے سب ہی اپنی دلہن میں مست تھے۔ سندر لال کی بیوی لاجونتی انہی فسادات کا شکار ہوکر  اس سے دور ہو چکی تھی۔ شکور کے لوگوں نے سندرلال کو تحریک کا سیکٹری بنایا کہ وہ خود اس درد کو دل سے محسوس کر رہا تھا سو انہوں نے”دل میں بہاؤ” تحریک کا آغاز کیا واہگہ بارڈر لاہور کے راستے دونوں ممالک کی خواتین کا آپس میں تبادلہ کیا جاتا تھا۔ تبادلہ کیا تھا یہ جسمانی تجارت اور اپنی درندگی کی پیاس کو بجھانے کا ایک ذریعہ تھا۔ ان بچاری خواتین کی روحیں تو نہ جانے کب سے گھائل ہو کر مر چکی تھیں اور وہ خود زندہ لاشیں بن کر دوسروں کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکی تھیں ۔ اب تو فقط ان کی سانسیں ہیں رواں تھیں ۔

اس افسانے میں مرد کی اضطرابی نفسیات کا عکس بھی ملتا ہے کہ جب لاجونتی اغوا ہو جاتی ہے تو سندرلال اس کے غم میں میں گھلتا چلا جاتا ہے اور اسے اپنے سخت ترین رویے پر بہت ندامت ہوتی ہے۔سندر لال کی لاجو خالصتاً مشرقی خاتون خانہ کی نمائندگی کرتی ہے جس پر اس کا شوہر غصّہ بھی ہوتا ہے ۔ اسے مارتا بھی ہے،برا بھلا بھی کہتا ہے مگر وہ اپنے شوہر کے منانے پر آسانی سے مان بھی جاتی ہے اور اس کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہتی ہے۔

 

 

        بقول سید محمود کاظمی:

"بیدی عورتوں کو خالصتاً خاتون خانہ کی حیثیت سے متعارف کراتے ہیں. ان کے افسانوں عورت ایک اچھی معلمہ، کامیاب سیاستدان،صحافی،اور اعلی سرکاری افسر کی حیثیت سے کہیں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے عورت کے دائرہ عمل کو گھر کی چاردیواری تک ہی محدود رکھا”

) راجندر سنگھ بیدی ایک سماجی و تہذیبی مطالعہ سید محمود قازمی صفحہ نمبر 159)

تقسیم ہند کے واقعات و فسادات میں لوگ”دل میں بساؤ” نعرے اور اس تنظیم/ کمیٹی کی کھلم کھلا مخالفت پر اتر آئے۔ جب بھی سرحد پر خواتین کا تبادلہ ہوتا تو ان کی بدقسمتی تب بھی ان کا ساتھ نہ چھوڑتی کہ اپنی دھرتی پر واپس آ کر بھی ان کے پیارے،ان کا درد سمجھتے اور انہیں تسلی و تشفی دینے کی بجائے ان سے یوں نظریں پھیر لیتے  گویا وہ(مغوی عورتیں) انہیں پہلی بار مل رہی ہوں۔

ستم ظریفی نے سینا تو اس وقت چھلنی کیا کہ جب ان بے کساں ولاچار خواتین کو ان کے اپنوں نے کندھا دینے کی بجائے بری طرح دھتکار دیا ۔ تب ان خواتین کے دلوں پر جو گزرتی ہے ۔۔۔۔ یہ کیفیت اللہ اور وہ مجبور عورتیں ہی جانتی ہیں۔

"پھر ان میں سے کوئی جی ہی جی میں اپنا نام دوہراتی۔۔۔۔ سہاگ ونتی۔۔۔۔سہاگ والی۔۔۔۔اور اپنے بھائی کو اس جم غفیر میں دیکھ کر آخری بار کہتی۔۔۔۔تو بھی مجھے نہیں پہچانتا پیاری؟”

(لاجونتی ،صفحہ نمبر 13)

سندرلال کو مایوسی نے گھیر لیا کہ اس کی لاجو کی واپسی ناممکن ہے تب ہی اس کے دوست نے بتایا کہ واہگہ پر جو ٹرک خواتین سے بھرا ہوا آیا ہے اس میں لاجونتی بھابھی بھی ہیں۔

یہ انسانی فطرت ہے کہ خوشی و امید کی چھوٹی سی کرن بھی اس کے بے جان و لاغر قدموں میں بجلی کی سی تیزی پیدا کر دیتی ہے۔ لاجونتی کا پہلے سے زیادہ تندرست ہو جانا،قاری اور سندرلال کو چونکا سا سا دیتا ہے کہ اپنے دیس اور پتی سے دور ہوکر تو لاجونتی کو ، پہلے سے کمزور ہونا چاہیے تھا لیکن کون جانے کہ اس کی روح کو نوچ نوچ کر کھایا جا چکا ہے ۔ یہ بیدی ایک عورت کی نفسیاتی الجھن کا واضح اشارہ پیش کرتے ہیں۔

کئی خواتین کے گھر والوں نے انہیں پہچاننے اور قبول کرنے سے انکار کر دیا تو ان میں جینے کی جو روح باقی ہیں وہ بھی جاتی رہی۔

لاجونتی اس لحاظ سے تو خوش نصیب تھی کہ سندر لال نے اسے دوبارہ اپنا لیا لیکن اس لحاظ سے بدقسمت تھی کہ اسے وہ کندھا نہ ملا کہ جس پر سر رکھ کر وہ اپنے کربناک ماضی کا ماتم کر سکے۔ اسے وہ لمحات میسر ہی نہ تھے کہ جن میں وہ چیخ چیخ کر اپنے اذیت ناک ماضی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنی مظلومیت کے باعث ہمدردی اپنائیت کے دو بول سمیٹ سکے۔

ادھر سندرلال غیر انسانی رویے پر نالاں تو ضرور تھا مگر وہ لاجو کے راحت کا سامان نہ بن سکا۔ وہ اپنے ماضی کے برعکس اپنے لاجونتی کو کچھ بھی نہ کہتا بلکہ اسے” دیوی” کہہ کر پکارتا۔ ایک طرف تو لاجونتی ایک انسانیت سوز ماضی اور صورتحال سے گزر کر آئی تھی تو دوسری طرف خود کو دیوی کہلائے جانے سے اس کی غیر یقینی میں مزید اضافہ ہو جاتا ۔

تقسیم ہند کے فسادات میں جسموں کے گھاؤ تو تھوڑی ہی عرصے میں بھر گئے مگر روحیں تا موت گھائل رہیں ان کا علاج کسی نے نہ کیا۔

"بیوی! لاجونتی نے سوچا اور وہ بھی آنسو بہانے لگی اور اس کے بعد لاجونتی سب کچھ کہہ دینا چاہتی تھی لیکن سندر لال نے کہا. جانے بھی دو٫بیتی باتیں”

( لاجونتی صفحہ 23 تا 24)

بیدی نے اس افسانے میں مجبور اور ستم زدہ خواتین کے جذبات نگاری پر ماہرانہ نظر ڈالی ہے کہ عورت کے جذبات چھوٹی موئی کے پودے کی طرح ہوتے ہیں جو ذرا سی ٹھیس لگنے پر ٹوٹ پھوٹ کا  شکار ہو جاتی ہے ۔اور اب لاجونتی سمیت نہ جانے اور کتنی ہی خواتین اندر سے مستقل طور پر ٹوٹ پھوٹ چکی تھی کیونکہ اب انہیں سمیٹنے والا کوئی بھی نہیں تھا وہ خود ۔۔۔۔ بھی نہیں اور یہاں تک کہ سندر لال بھی نہیں۔

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter