اسلامائزیشن آف نالج میں سعودی عرب کا کردار

فیصل عزیز مدنی

23 ستمبر, 2022

انیسویں صدی کے نصفِ اوّل سے بیسویں صدی کے نصفِ اوّل تک کا زمانہ زمانۂ سامراجیت کے نام سے معروف ہے۔ برطانیہ، فرانس، اطالیہ، جاپان، امریکہ وغیرہ جیسے ممالک نے اس زمانے میں عالمی پیمانے پر نوآبادیات قائم کیں۔ عالم اسلام بھی اس منحوس سامراجیت کی لپیٹ میں آیا اور مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک تمام مسلم ممالک دو سو سال سے زائد مختلف مغربی استعماری قوتوں کے زیر اثر رہی ۔ان سامراجی قوتوں نے جہاں جبر کے ہتھکنڈوں سے جسم تسخیر کیے وہیں تعلیم کے ذریعے لوگوں کو ذہنی غلامی کے جال میں پھنسایا گیا۔ ایک مربوط طریقے سے لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ انگریزی تہذیب، تمدن، تعلیم اور زبان باقی سب تہذیبوں اور زبانوں سے برتر ہے۔ یہ احساسِ برتری عموماً اس طاقت کی دین ہوتی ہے جو اپنی پوزیشن کی وجہ سے زورآور گروہوں اور طاقت ور سامراج کے پاس ہوتی ہے‘ جس کی بدولت وہ اپنے آپ کو اس مقام پر فائز کر لیتے ہیں جہاں سے انہیں ساری دنیا ہیچ نظر آتی ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ ہم لارڈ میکالے کی تجویز میں دیکھ سکتے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں میکالے برطانوی نے نمائندے کی حیثیت سے نوآبادیات کیلئے تعلیم کا کیا وژن پیش کیا۔ اس تحریر کا تجزیہ ہمیں بتاتا ہے کہ سامراجی طاقتیں تعلیم کو اپنے مقاصد کیلئے کیسے استعمال کرتی ہیں۔ میکالے کی تجویز کا نچوڑ اسکی تحریر کا وہ حصہ ہے جس میں وہ لکھتا ہے ”ہمیں فی الحال ایک ایسی کلاس تشکیل دینے کی پوری کوشش کرنی چاہئے جو ہمارے اور ان لاکھوں افراد یعنی عام ہندوستانیوں کے درمیان ترجمان کا کام کرسکے جن پر ہم حکومت کرتے ہیں۔ ایک ایسے طبقے کی تشکیل جس کے افراد اپنے خون اور رنگت میں تو ہندوستانی ہوں، لیکن پسند ناپسند، رائے، اخلاق اور دانش کے لحاظ سے انگریز ہوں‘‘۔ میکالے کے اس وژن پر مبنی ہندوستان میں نیا تعلیمی نظام معرضِ وجود میں آیا جس کا بنیادی مقصد فرمانبردار لوگوں کا ایک ایسا گروہ تیار کرنا تھا جو ذہنی طور پر غلام ہو، جو ہر عمل میں حکومتِ وقت کا ساتھ دے اور جو تصور میں بھی اختلافِ رائے کی جرأت نہ کر سکے۔ اسی تعلیمی نظام سے نکلنے والوں کو سرکاری ملازمت کا مجاز مانا گیا۔ جس کے سبب کئی قسم کے رد عمل سامنے آئے۔ ایک رد عمل غیر معمولی مرعوبیت کا تھا۔ اس گروہ نے یہ محسوس کیا کہ مسلمان اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل ومشکلات سے اس وقت تک نہیں نکل سکتے جب تک کہ وہ اس نظامِ تعلیم کو گلے نہ لگالیں۔ مسلمان ایک طرف سامراجی قوتوں کی ترقی ، خوشحالی اور چمک دمک دیکھ کر رشک کر رہے تھے تو دوسری طرف اپنی مادی پستی اور دنیاوی تنزلی دیکھ کر شرمسار ہو رہے تھے۔ جس کے سب ان کے اندر احساس کمتری جنم لینے لگی اور انہیں یہ لگنے لگا کہ اسی نظام تعلیم کے راستے سے ترقی کی منزلوں تک پہونچا جاسکتا ہے۔ اس گروہ نے مسلمانوں کے اندر مغربی تعلیمی اداروں کو جوں کا توں رواج دینے کی کوشش کی اور دنیائے اسلام کے مزاج ، تصورات ،امنگوں اور آرزوؤں کا لحاظ رکھے بغیر ان کو اسی طرح قبول کر لیا جس طرح مغربی ممالک نے انہیں دنیائے اسلام میں برآمد کیا تھا۔ اس نہج پر برصغیر میں بیسیوں ادارے قائم کئے گئے۔ مصر، ترکی ، انڈونیشیا ، مراکش ، الجزائر اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی یہ مثالیں ملتی ہیں۔
دوسرا رد عمل مزاحمت کا تھا ۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ جس طرح تعلیم بالا دستی کے حصول کے لیے استعمال ہوتی ہے اسی طرح اسے مزاحمت کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندوستان میں مقامی لوگوں نے بھی تعلیم کو برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کے ایک طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ دارالعلوم دیوبند کو مولانا قاسم نانوتوی اور ان کے ساتھیوں نے 1867 میں قائم کیا تھا۔ دہلی میں، جامعہ ملیہ اسلامیہ جوہر برادران نے قائم کیا۔ گاندھی نے متعدد سکول بنائے اور ”نئی تعلیم‘‘ کے تصور کو مقبول بنایا۔ بنگال میں ٹیگور نے شانتی نکیتن سکول کی بنیاد رکھی۔ لاہور میں لالہ لاجپت رائے نے نیشنل کالج کا آغاز کیا۔ ادھر سرحدی صوبے میں، حاجی صاحب تورنگ زئی اور خان عبدالغفار خان نے آزاد مدرسہ کے نام سے متعدد سکول قائم کیے۔ ان سب تعلیمی اداروں میں کچھ امتیازی خصوصیات تھیں۔ ان امتیازی خصوصیات میں ان اداروں کے نصاب، اساتذہ، طریقۂ تدریس اور تعلیم کے مقاصد شامل تھے۔ ان تمام تعلیمی اداروں کا مقصد اپنے ملک اور مقامی تہذیب سے محبت، مقامی زبانوں کی ترویج، ہندوستان کو غیر ملکی حکمرانی سے آزاد کروانے کی خواہش اور اپنے صلاحیتوں پر اعتماد کو فروغ دینا تھا۔ ان اداروں سے ایسے طلبا پیدا ہوئے جنہیں اپنی ثقافت اور ملک پر فخر تھا اور جنہوں نے فرنگیوں سے ہندوستان کی آزادی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا تھا۔ دیگر مسلم ممالک میں بھی اس قسم کی مثالیں پائی گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک تیسرا رد عمل بھی تھا جو دنیائے اسلام کے ان تمام ممالک میں سامنے آیا۔ یہ رد عمل غور وفکر کا تھا ،حسن وقبح کو جانچنے اور پرکھنے کا۔ اس کے تحت مسلمان اہل علم اور ارباب دانش نے کھل کر ان پہلوؤں کی اس طرح نشاندہی کی ، جیسے ایک طبیب نبض پر انگلی رکھ کر مرض کے مختلف پہلوؤں کی تشخیص کرتا ہے اور بیماری کا علاج پیش کرتا ہے۔بر صغیر میں اکبر الہ بادی ، علامہ اقبال ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان جیسے کئی مفکرین نے بڑی قوت ،دقت نظر اور بصیرت کے ساتھ مغربی افکار و نظریات پر تنقید کی۔
سامراجی اقتدار کے خاتمے کے بعد گرچے بہت سے ممالک آزاد ہوگئے مگر مغربی نظام تعلیم اور اس کا اثر باقی رہا بلکہ اب بھی باقی ہے۔ مغربی سامراجی تسلط کے وقت سے ہی مغربی نظام تعلیم کے مقابلے الگ تعلیمی نظام کا متنوع تجربہ کیا گیا۔ سامراجی اقتدار کے خاتمے کے بعد ملکی اور سرکاری سطح پر بھی بعض مسلم ممالک میں الگ الگ تجربہ کیا گیا۔ سب سے زیادہ کامیاب تجربہ دنیائے اسلام کے جس ملک میں ہوا وہ سعودی عرب ہے۔
قارئین کو یہ بات معلوم ہوگی کہ پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر جب عرب علاقوں میں خلافت عثمانیہ کا اثر و رسوخ ختم ہوگیا تو جزیرہ نمائے عرب کی صورتحال یہ تھی کہ ایک طرف معروف مصلح بزرگ الشیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی رحمہ اللہ تعالیٰ کی اصلاحی تحریک زوروں پر تھی جو توحید کے فروغ اور رسوم و بدعات کے خاتمہ کے عنوان سے مسلسل آگے بڑھ رہی تھی اور دوسری طرف نجد کا قدیم حکمران خاندان ’’آل سعود‘‘ اس سیاسی خلا کو پر کرنے کے لیے پیش رفت کر رہا تھا جو خلافت عثمانیہ کی پسپائی کی صورت میں پیدا ہوگیا تھا۔ اس سے قبل آل سعود کی اپنے علاقہ میں خلافت عثمانیہ اور اس کے حلیفوں مصر کے محمد علی پاشا اور نجد کے آل رشید کے ساتھ معرکہ آرائی چلتی آرہی تھی اور اب حجاز میں خلافت عثمانیہ کے باغی گورنر حسین شریف مکہ کی طرف سے اپنی خلافت کے اعلان کے بعد آل سعود نے ادھر کا رخ بھی کر لیا تھا ۔ اور بہت جلد عرب کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر آل سعود کا قبضہ ہوگیا۔ جس کے بعد مملکت سعودی عرب کے نام سے ایک متحدہ اور عظیم سلطنت وجود میں آئی۔ اس دوران الشیخ محمد بن عبد الوہابؒ کے خاندان اور سعودی خاندان میں باہمی سمجھوتہ ہوا جو آل الشیخ اور آل سعود کا معاہدہ کہلاتا ہے۔ اس معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے نظام کو یوں تقسیم کیا گیا کہ سلطنت و انتظام کے تمام معاملات آل سعود کے پاس رہیں گے جبکہ تعلیمی و مذہبی امور اور عدالتی معاملات میں آل شیخ کی راہ نمائی اور بالاتری کو تسلیم کر لیا گیا اور قرآن و سنت کو ملک کا بنیادی قانون قرار دیا گیا۔ اس کے بعد سے عملی صورتحال یہ چلی آرہی ہے کہ سیاسی نظام ’’خاندانی بادشاہت‘‘ ہے جبکہ قانونی معاملات میں قرآن و سنت کے احکام کی عملداری کا اہتمام ہے اور اس دائرے میں آل شیخ اور آل سعود باہمی تعاون کے ساتھ ملکی نظام چلاتے آرہے ہیں۔۔ ۱۹۲۶۰۱۹۲۵ء میں سعودی عرب کا قیام عمل میں آیا ۔ تب سے لے کر آج تک کا زمانہ سعودی عرب میں اسلامی نظام تعلیم کے باب میں نہ صرف نئے نئے تجربات کا زمانہ ہے ، بل کہ دنیائے اسلام میں تعلیم کے میدان میں جتنی کاوشیں ہوئی ہیں اس میں سعودی حکومت، سعودی اہل علم اور سعودی اصحاب ثروت کے وسائل کا بہت بڑاحصہ ہے۔ سعودی حکومت اور سعودی ارباب ثروت کے وسائل اور سعودی اہل علم کے فعال مشاورت کے نتیجے میں دنیائے اسلام کے اندر تعلیم کے بارے میں متعدد کانفرنسیں منعقد ہو ئیں ۔ ۱۹۷۸ء میں ۱۹۷۹ء میں ۱۹۸۰ء ۱۹۸۲ء میں ڈھا کہ میں متحدہ یمن میں ، اسلام آباد میں ، کوالالمپور میں اور دنیائے اسلام کے کئی ممالک میں اس طرح کی کانفرنسیں منعقد ہوئیں ، جس میں اسلامی تصورات جو اس کا بہتر متبادل ہوں، دلائل سے دنیاۓ اسلام کے سامنے پیش کے گئے یعنی وہ تحر یک جو بعد میں اسلامائزیشن آف نالج کی تحریک کہلائی وہ ان کا نفرنسوں سے ابھری ، ان ہی کا نفر نسوں میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ پندرھویں صدی ہجری کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دنیاۓ اسلام میں جا بہ جا ایسے بین الاقوامی اعلی تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں جہاں دنیاۓ اسلام کے مختلف علاقوں کے مسلمان جمع ہو کر نہ صرف دینی تعلیم کو نئے انداز میں حاصل کریں میں بل کہ جدید علوم و فنون کو اسلام کے سیاق و سباق میں اور اسلام کے پس منظر میں ایک تنقیدی نظر کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کر یں۔ اور مغربی علوم کو اسلامیانے کا کام کریں۔ چناں چہ ۱۹۸۰ء میں اسلام آباد میں اور غالباً ۱۹۸۱ء یا ۱۹۸۲ء میں کوالالمپور میں یہ قرار دادیں پاس کی گئیں کہ او آئی سی یا ایسے دوسرے اداروں کے انتظام میں بین الا قوامی اسلامی یورنیورسٹیاں قائم کی جائیں ۔ اس قراداد پر عمل در آمد کے طور پر اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی وجود میں آئی۔ کوالالمپور کی بین الاقوامی اسلامی یو نیورسٹی وجود میں آئی ، ایک یونیورسٹی ڈھا کہ کے قریب تنگائن میں وجود میں آئی ، ایک اسلامی یونیورسٹی نائجیر افریقہ میں وجود میں آئی ، ایک اسلامی یونیورسٹی یو گنڈا میں وجود میں آئی ،ایک اسلامی یونیورسٹی اردن کے شہزادہ حسن نے جامعہ اہل البیت کے نام سے قائم کی ،ایک اسلامی یونیورسٹی جامعہ اہل البیت کے نام سے مراکش میں شاہ حسن کے ہاتھوں قائم کی گئی۔ اسی طرح سعودی عرب میں بعض نئے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں آیا۔ مکہ مکرمہ کے کیمپس کو ایک الگ یونیورسٹی کے طور پر جامعہ ام القری کے نام سے قائم کیا گیا۔ اس میں ہمیں یہ بات بلا خوف تردید تسلیم کر لینی چاہیے اور اس کا اعتراف کرنا چاہئے کہ ان قرادادوں اور کانفرنسوں میں جن تصورات اور خیالات کا اظہار کیا گیا تھا، ان پر سب سے زیادہ سنجید گی کے ساتھ جس ملک میں، عمل کیا گیا وہ سعودی عرب تھا۔ وہاں ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم تک دینی تعلیم کا حصہ اتناقیمتی اور اتنا مضبوط ہے ، ان کی تعلیم کا اسلامی تناظر اتنا مضبوط ہے کہ ایک عام سعودی تعلیم یافتہ اپنے عقیدے میں ، اپنے نظریے میں اور اپنے اسلامی تصورات میں جتنا پختہ ہو تا ہے اس کا عشر عشیر بھی برصغیر میں یا کسی دوسرے مسلم ملک میں نہیں ہو تا ۔ اس کا اندازہ آپ حضرات میں سے انہیں ہوگا جن کو سعودی عرب جانے کا اتفاق ہوا ہو، آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہاں کا ایک ٹیکسی ڈرائیور، وہاں کا مزدور ، وہاں کا د کان دار ، عام دینی احکام کا جتنی شدت سے پابند ہے ، اتنی شدت سے پابندی آپ کو دنیائے اسلام میں نظر نہیں آۓ گی ۔ یہ نظام تعلیم کی بر کت ہے اور اس مضبوط اور اسلامی تناظر کی برکات ہیں جو وہاں کی نظام تعلیم میں اتنی مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔ آپ وہاں کے کسی اکانومی سے ، کسی سعودی افسر سے ، اعلی سرکاری عہدے دار سے، کسی سیاسی عہدے دار سے ، شاہی خاندان کے کسی آدمی سے گفت گو کریں ، دینی معلومات کے بارے میں وہ آپ کو برصغیر کے بہت سے اہل علم سے بہت اونچا نظر آۓ گا۔یہ امر واقعہ ہے جس کا ہم ان تمام کم زوریوں کے باوجود جو وہاں کے نظام میں ، وہاں کے معاشرے میں آ گئی ہیں ، ان تمام خرابیوں کے باوجود جس کے مشاہد ہ ہم میں سے بہت سوں کو ہوا ہے۔ اس کے باوجود اس کام یابی کا ہمیں اعتراف کرنا چاہئے۔

اب سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کے اس تجربے سے ہم کس حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟!!!

آپ کی راۓ

چیف ایڈیٹر

دفتر

  • محکمہ اطلاعات رجسٹریشن : ٧٧١
  • news.carekhabar@gmail.com
    بشال نگر، کاٹھمانڈو نیپال
Flag Counter